Tuesday , November 21 2017
Home / شہر کی خبریں / ’ میں ابراہیم یافعی کو نہیں جانتا لیکن چہرہ دیکھ کر شناخت کرسکتا ہوں ‘:اکبر اویسی

’ میں ابراہیم یافعی کو نہیں جانتا لیکن چہرہ دیکھ کر شناخت کرسکتا ہوں ‘:اکبر اویسی

حیدرآباد ۔ /9 ستمبر (سیاست نیوز) چندرائن گٹہ حملہ کیس کے سلسلے میں رکن اسمبلی اکبر الدین اویسی چوتھے دن آج بھی عدالت میں حاضر ہوئے اور ان پر وکیل دفاع نے جرح کیا ۔ اکبر اویسی نے جرح میں کئے گئے سوالات کا جواب دیتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے حملے کے دوران حملہ آور کے ہاتھ پکڑ لئے تھے ۔ انہیں بعد میں اس بات کا علم ہوا کہ حملے کے دوران ایک شخص فوت ہوگیا ۔ رکن اسمبلی نے بتایا کہ وہ ابراہیم یافعی کو نہیں جانتے لیکن ان کے چہرے کو دیکھنے پر شناخت کرسکتے ہیں ۔ وہ اس شخص کا نام نہیں بتاسکتے جس نے ان پر چاقو سے حملہ کیا تھا جس کے نتیجہ میں وہ جیپسی گاڑی سے زمین پر گرپڑے ۔ اکبر اویسی نے ابراہیم یافعی کے جسم پر لگے مختلف زخموں کے نشان سے لاعلمی کا اظہار کیا جبکہ وکیل دفاع ایڈوکیٹ جی گرومورتی نے انہیں واضح طور پر متوفی کے پیٹ ، سینے اور پیٹ پر مختلف زخموں کے نشانات سے متعلق سوالات کیا تھا ۔ اکبر اویسی نے چندرائن گٹہ پولیس اسٹیشن میں ان کے اور منصور عولقی ، احمد بلعلہ ، محمود عولقی ، محسن بن احمد الکثیری ، گن مین جانی میاں اور دیگر 50 مجلسی کارکنوں کے خلاف درج کئے گئے مقدمہ جس کا کرائم نمبر 313/2012 ہے جو تعزیرات ہند کے دفعات 147, 148, 302, 326, 506, 149, 120(B) اور سیکشن 27(1) انڈین آرمس ایکٹ سے لاعلمی کا اظہار کیا ۔ اکبر اویسی نے کمشنر پولیس حیدرآباد کی جانب سے جاری کئے گئے ایک میمو جس میں عود بن یونس یافعی کی جانب سے /4 ستمبر 2012 ء کو درج کی گئی شکایت اور اس سلسلے میں آندھراپردیش ہائیکورٹ کے پبلک پراسیکیوٹر سے قانونی رائے حاصل کئے جانے سے بھی لاعلمی کا اظہار کیا ۔ رکن اسمبلی نے وکیل دفاع کو بتایا کہ وہ اور ان کے بڑے بھائی اسد الدین اویسی جو رکن پارلیمنٹ ہیں اور مجلس پارٹی کے سربراہ بھی ہیں ۔ /30 اپریل 2011 ء سے /7 اکٹوبر 2012 ء تک ان کے خلاف مقدمہ درج نہ کرنے کیلئے اثر انداز کیا ۔ 2009 ء سے 2014 ء تک کانگریس پارٹی سے مجلس کے اتحاد کو غلط قرار دیا اور کبھی بھی حکومت پر اثر انداز ہونے کی وضاحت کی ۔ اکبر اویسی نے مزید سوالات کے جواب میں کہا کہ 2010 ء سے 2011 ء کے درمیان انہوں نے 50 کارتوس خریدے تھے اور گزشتہ 20 سال سے وہ .22 بیریٹا پستول کا استعمال کررہے ہیں ۔ انہوں نے 2010 ء میں خریدے گئے کارتوسوں سے متعلق تفصیلات حملہ کیس کے تحقیقاتی عہدیدار کو نہیں بتایا لیکن انہوں نے اپنا لائسنس پولیس کے حوالے کیا تھا جس میں کارتوس خریدنے سے متعلق تفصیلات کے اندراج موجود تھے ۔ کارتوس خریدنے پر جاری کی گئی رسید ابھی موجود نہیں ہے ۔ انہوں نے پولیس کو تمام دستاویزات کی نقل پولیس کے حوالے کی ۔ اس مقدمہ کی روزانہ کی اساس پر جاری کی سماعت کو ساتویں ایڈیشنل میٹروپولیٹین سیشن جج نے ملتوی کردیا ۔

TOPPOPULARRECENT