Tuesday , April 24 2018
Home / Top Stories / میں انصاف چاہتاہوں ‘ مذہب سے میرا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ 

میں انصاف چاہتاہوں ‘ مذہب سے میرا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ 

Image Courtesy DNA

دہلی کے چیف منسٹر ارویند کجریوال نے 20منٹ تک متاثرین کے گھر کے باہر غم زدہ باپ‘ پڑوسی اور دوستوں کے ساتھ بیٹھے اور فیملی کی درخواست سنی۔
نئی دہلی۔ سخت ترین حفاظتی حصار میں دہلی چیف منسٹر ارویندر کجریوال نے پیر کی شب راگھوبیر نگر پہنچ کر پانچ دن قبل مبینہ طورپر اس کی گرل فرینڈ کے باپ کے ہاتھوں قتل ہوئے 23سالہ انکت کے گھر والو ں سے ملاقات کی ۔دہلی کے چیف منسٹر ارویند کجریوال نے 20منٹ تک متاثرین کے گھر کے باہر غم زدہ باپ‘ پڑوسی اور دوستوں کے ساتھ بیٹھے اور فیملی کی درخواست سنی۔متوفی کے ایک رشتہ دار امیت نے کہاکہ ’’ چیف منسٹر کسی بھی صورتحال میں انکت کے والدین کو سرکاری یاخانگی اسپتال میں علاج کی سہولت فراہم کرنے کاوعدہ کیاہے۔

انہوں نے مفت قانونی مدد کی بھی پیشکش کی ہے ‘ ہماری مرضی کے مطابق ایک بہتر وکیل پیش کرنے کا بھی انہو ں نے وعدہ کیاہے‘‘۔ متوفی کے والد نے چیف منسٹر سے یہ بھی درخواست کی ہے کہ ’’ فاسٹ ٹریک کے تحت مقدمہ چلائے جائے اور خاطیو ں کو کڑی سزا دلائی جائے‘‘۔ جمعرات کے روز انکت سکسینہ کو اقلیتی طبقے سے تعلق رکھنے والی ایک اٹھارہ سال کی لڑکی کے والد نے مبینہ طور پر قتل کردیاتھا او رکہاجارہا ہے کہ متوفی انکت کا مذکورہ لڑکی سے ’’معاشقہ‘‘ چل رہا تھا۔انکت کے والد نے کجریوال سے کہاکہ ’’ مجھے کسی بھی مذہب سے کوئی دقعت نہیں ہے۔

چاہے وہ ہندو ‘ سکھ ہو ‘ عیسائی یا مسلم ہو ۔ میں صرف انصاف چاہتا ہوں اور اس پر سخت سز ا کا مطالبہ کرتا ہوں تاکہ دوبارہ اس قسم کا کوئی واقعہ پیش نہ ائے‘‘۔ امیت نے کہاکہ ’’ وہ ( کجریوال) نے زیادہ کچھ نہیں کہا‘ انہو ں نے صرف ہماری باتیں سنی۔ انہوں نے ہماری مدد کرنے کا بھروسہ دلایا‘‘۔ ہفتہ کی شام کوبی جے پی دہلی کے سربراہ منوج تیواری متاثرین سے ملاقات کرنے کے بعد اب تک متاثرین کی مدد نہ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے دہلی حکومت کو اپنی تنقید کا نشانہ بنایاتھا۔ متوفی کے ایک رشتہ دار نے کہاکہ ’’ ہم لوگ سکتے میں ہیں۔ ہمارے پاس اس بات کوسونچنے کا وقت نہیں ہے کہ حکومت نے اب تک اپناردعمل دیاہے یا نہیں ‘‘۔

موقع پر موجود لوگوں کے مطابق چیف منسٹر سے جو کچھ کہاگیا‘ کجریوال نے متوفی کے والد کی جانب سے قتل کی شب پیش ائے واقعہ کو سلسلہ وار طریقے سے پیش کرتے ہوئے کہاکہ ’’ جس وقت انکت کے گھر والے موقع واردات پر پہنچے ‘ تب اس کو پیٹا جارہا تھا۔ خاطیو ں نے انکت کی ماں کے ساتھ مارپیٹ شروع کردی۔ جب وہ اپنے ماں کے بچاؤمیں ان کے اوپر ڈھل بن کر جھک گیاتب اس پر چاقو سے وار کیاگیا۔ وہاں پر بہت سارے لوگ موجود تھے مگر کوئی مدد کے لئے آگے نہیں آیا۔

اس کے والدین نے اٹورکشہ میں ڈال کر انکت کواسپتال لئے گئے‘‘ مبینہ طور پر یہ بیان امیت کا ہے۔کجریوال کے جانے کے کچھ منٹوں بعد راگھوبیر نگر کی گھوڑے والا مند ر سے کالونی کے باب الدخلہ تک 250لوگوں پر مشتمل ایک موم بتی مارچ نکالا گیا۔ تاہم سکسینہ کے گھر والوں او رقریبی دستوں نے مارچ میں حصہ نہیں لیا۔

متوفی کے ایک قریبی دوست نے کہاکہ ’’ مختلف بلاک کے مکینوں کی جانب سے نکالا گیا یہ مارچ تھا جس کو فرقہ وارانہ رنگ دیا گیا۔انکت کے والد نے ہمیں اس مارچ میں شریک ہونے سے منع کیا ہے اور ہم بھی مارچ میں حصہ نہیں لینے والے تھے۔اس کا ایک اورقریبی دوست متوفی کے گھر والوں کے ساتھ ہری دوار استھیاں بھانے کے لئے گیا ہوا ہے۔پھر اس کے بعد کس طرح ہم ایسا پروگرام میں حصہ لے سکتے ہیں‘‘۔

دریں اثناء ڈپٹی چیف منسٹر منیش سیسوڈیا نے کہاکہ’’ ہم نفرت کی سختی کے ساتھ مذمت کرتے ہیں‘ ہمیں واٹس ایپ اور سوشیل میڈیاپرپھیلائی جارہی نفرت پر اعتراض کرنا ہوگا۔ سماج کی آنکھو ں پر پڑنے پردے کو ہمیں کلا سے ہٹانا ہے۔ ہمارے آرٹ ‘ کلچرل او رلینگیج کا محکمہ اس کے لئے کام کررہا ہے‘‘

TOPPOPULARRECENT