Wednesday , December 13 2017
Home / کھیل کی خبریں / میں بدعنوان نہیں ہوں: بلاٹر

میں بدعنوان نہیں ہوں: بلاٹر

زیورخ۔25 اگسٹ (سیاست ڈاٹ کام)فٹبال کی عالمی تنظیم فیفا کے سبکدوش صدر سیپ بلاٹر نے میڈیا سے کہا  ہے کہ وہ ’بدعنوان‘ نہیں اور ’فٹبال میں کوئی بدعنوانی‘ نہیں ہے۔   بلاٹر 1998 سے فٹبال کی عالمی تنظیم فیفا کے صدر رہے اور وہ فیفا میں کرپشن کے الزامات کے تحت ہونے والی تحقیقات کے دوران آئندہ برس فروری میں اپنے عہدے سے مستعفی ہو جائیں گے۔ فیفا نے رواں برس مئی میں 79 سالہ   بلاٹر کو پانچویں بار صدر منتخب کیا تھا۔  بلاٹر کے مطابق ’میں نے ایسا اس لئے کیا کیونکہ میں فیفا کی حفاظت کرنا چاہتا ہوں۔ انھوں نے کہا کہ میں اتنا مضبوط ہوں کہ اپنی حفاظت کر سکوں۔ فیفا میں ادارے کے طور پر میں کوئی بدعنوانی نہیں ہے، ہاں کچھ لوگ خراب ہو سکتے ہیں لیکن اس کے لئے مجھے ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا ہے۔   بلاٹر نے کہا ’میں جانتا ہوں کہ میں ایماندار آدمی ہوں، میں بدعنوان اور پریشان نہیں ہوں۔  انٹرویو میں بلاٹر نے فیفا کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ فیفا میں ادارے کے طور پر میں کوئی بدعنوانی نہیں ہے، ہاں کچھ لوگ خراب ہو سکتے ہیں لیکن اس کے لئے انھیں ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ  2010 کا فٹبال کا عالمی کپ ’شفاف ترین عالمی کپ تھا۔

واضح رہے کہ امریکی استغاثہ نے رواں برس مئی میں فٹبال میں مجرمانہ تحقیقات شروع کی تھیں اور اس کے تحت 14 ملزمان پر فردِ جرم عائد کی گئی تھی۔ یاد رہے کہ رواں برس مئی میں زیورخ میں ایک ہوٹل میں پولیس چھاپے کے بعد فیفا کے سات اہم اہلکاروں کو حراست میں لے لیا تھا جس کے بعد فیفا بدعنوانیوں کے الزامات میں گھر گئی ہے۔امریکی محکمہ انصاف کی درخواست پر ان سات عہدیداروں کو حراست میں لیا گیا تھا اور اس نے 14 موجودہ اور سابق فیفا عہدیداروں اور ان کے معاونین پر بدعنوانی کے سنگین مقدمات قائم کئے ہیں۔ امریکہ کی جانب سے جن 14 افراد پر ریکٹیئرنگ اور غیر قانونی طور پر پیسے کے لین دین کے الزمات کے تحت فردِ جرم عائد کے گئے ہیں ان میں سے فیفا کے سات جونیئر عہدیدار کے علاوہ دو نائب صدور بھی ہیں۔ ان 14 ملزمان کے گروپ میں سے سات کو سوئٹزرلینڈ میں رواں برس مئی میں گرفتار کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ سوئس استغاثہ  2018 میں روس اور  2022 میں قطر کو عالمی کپ کی میزبانی کا حق دیے جانے کی تحقیقات کر رہی ہے۔

TOPPOPULARRECENT