Saturday , December 16 2017
Home / مضامین / ’’میں بے وقوف نہیں ہوں‘‘ … ڈونالڈ ٹرمپ

’’میں بے وقوف نہیں ہوں‘‘ … ڈونالڈ ٹرمپ

میرا کالم             سید امتیاز الدین
دو چار دن پہلے اخبار میں ہم نے ایک سرخی دیکھی۔ “I am not stupia” یعنی میں بے وقوف نہیں ہوں۔ یہ فرماتا تھا ڈونالڈ ٹرمپ کا ۔ آپ جانتے ہیں کہ ڈونالڈ ٹرمپ پچھلے کچھ دنوں سے سرخیوں میں ہیں ۔ ویسے تو ہم امریکہ میں انتخابات کے طریقہ کار سے پوری طرح واقف نہیں ہیں لیکن اب اندازہ ہورہا ہے کہ امریکہ کے صدارتی انتخابات بالکل اسی طرح ہوتے ہیں جیسے ہمارے ملک میں شادیاں ہوتی ہیں۔ پہلے دلہا والے رشتہ بھیجتے ہیں پھر اُس رشتے پر دلہن والے غور کرتے ہیں۔ دلہے کی طرف سے خواتین آکر دلہن کو دیکھتی ہیں۔ ایک دوسرے کی طرف سے دریافت کا سلسلہ شروع کرتے ہیں ، تب جاکر شادی کی بات پکی ہوتی ہے ۔ ہندوستان میں ہر پارٹی اپنے امیدواروں کے نام طئے کرتی ہے اور لوگ جیسے چاہیں ووٹ دیتے ہیں۔ امریکی صدارتی انتخابات کیلئے امیدوار اپنے آپ کو خود پیش کرتا ہے اور سارے ملک کا چکر کاٹتا ہے ۔ اپنی تقاریر سے لوگوں کا دل جیتنے کی کوشش کرتا ہے ۔ اگر اس کی مقبولیت ثابت ہوجاتی ہے تو پھر جس پارٹی کا ٹکٹ حاصل کرنا چاہ تا ہے ، وہ پار ٹی اسے نامزد کرتی ہے ۔ فی الحال ڈونالڈ ٹرمپ ریپبلیکن پارٹی کی جانب سے صدارتی امیدوار بننے کے امیدوار ہیں اور پورے ملک کا چکر کاٹ رہے ہیں۔ ان کی تقاریر غلاظت کا ڈھیر معلوم ہوتی ہیں۔ بعض لوگ اُن کی بے تکی باتوں پر ہنستے ہیں اور بہت سے لوگ ناراضگی کا اظہار کرتے ہیں ۔

ڈونالڈ ٹرمپ نے اپنے بارے میں کہا کہ میں بے وقوف نہیں ہوں تو ہم مان لیتے ہیں کہ وہ بے وقوف نہیں ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ اُن کو اپنے تعلق سے یہ وضاحت پیش کرنے کی ضرورت کیوں ہوئی ۔ ضرور دال میں کچھ کالا ہے۔
ڈونالڈ ٹرمپ کو کہنا چاہئے تھا کہ میں بے وقوف نہیں ہوں لیکن دنیا کو بے وقوف بناسکتا ہوں کیونکہ یہی امریکہ کی بنیادی پالیسی ہے ۔ امریکہ ساری دنیا کو جنگ کے خطرات میں دیکھنا چاہتا ہے لیکن امریکی فوجیں اپنے ملک کو کبھی بھی محاذ جنگ نہیں بننے دیتیں۔ عراق پر بے بنیاد الزامات لگائے گئے کہ وہاں نیوکلیئر ہتھیار چھپے ہوئے ہیں۔ ہتھیار نہیں نکلے لیکن عراق امریکی فوجوں کے ہاتھوں تباہ ہوگیا ۔ افغانستان شام بلکہ سارے مشرق وسطی کا جو حال ہے سب جانتے ہیں۔ امریکہ کہتا ہے کہ وہ امن کی کوششوں میں لگا ہوا ہے ۔

خیر بات ڈونالڈ ٹرمپ کی چل رہی ہے جو امریکی سیاست میں ایک سورما بن کر سامنے آئے ہیں۔ یہ ایک ارب پتی صنعتکار ہیں اور جی کھول کر خرچہ کر رہے ہیں تاکہ وائیٹ ہاؤز میں داخل ہوجائیں۔
ڈونالڈ ٹرمپ بہت عاشق مزاج شخصیت کے مالک ہیں۔ جب وہ نوجوانی کے دنوں میں ایک ملٹری اسکول کے طالب علم تھے تو اُن دنوں بھی وہ لیڈیز میان Ladies Man کہلاتے تھے ۔ آگے چل کر حسینہ ، عالم کے مقابلوں میں وہ ضرورت سے زیادہ دلچسپی دکھاتے تھے۔ ایک عالمی حسن کے مقابلے میں وہ اچانک نمودار ہوئے اور تمام مقابلہ کرنے والی حسیناؤں کو اتنی گرم جوشی سے دادِ حسن دی کہ حسینائیں بھی حیرت زدہ رہ گئیں ۔ ٹرمپ کو سویمنگ پول پارٹیوں سے بھی گہری دلچسپی ہے۔ ایک ایسی ہی پول پا رٹی میں انہوں نے ایک خاتون کو دیکھا جو تیراکی میں حصہ نہیں لے رہی تھیں۔ ٹرمپ کو معلوم ہوا کہ محترمہ کے پاس تیراکی کا لباس نہیں ہے ۔ ٹرمپ نے فوراً اُن کیلئے تیراکی کا لباس مہیا کیا اور اُس وقت تک چین سے نہیں بیٹھے جب تک وہ خاتون اُن کا عطا کردہ تیراکی کا لباس پہن کر سویمنگ پول میں اتر نہیں گئیں۔ ٹرمپ اپنی تعمیراتی کمپنیوں میں بھی خواتین کا تقرر کرتے ہیں اور اُن کی جسمانی صحت کا خاص خیال رکھتے ہیں ۔اگر کسی کا وزن بڑھ جاتا ہے تو فوراً وزن گھٹانے کا مشورہ دیتے ہیں۔ وہ ایسی خواتین سے کہتے ہیں ، جب آپ دبلی تھیں تو کتنی خوبصورت دکھائی دیتی تھیں‘‘۔ خود ٹرمپ تین شادیاں کرچکے ہیں۔ ٹرمپ کے خلاف ایک بدسلوکی کا مقدمہ بھی دائر کیا گیا ہے جسے انہوں نے ان کو بدنام کرنے کی سازش قرار دیا ہے ۔

امریکہ کے رخصت ہونے والے موجودہ پریسیڈنٹ بارک اوباما نے اپنے الوداعی ڈنر میں بھی ٹرمپ کی رومانٹک زندگی پر بھرپور طنز کیا۔ اوباما نے کہا کہ لوگ الزام لگاتے ہیں کہ ٹرمپ کو خارجہ پا لیسی کا کوئی تجربہ نہیں ہے ۔ اوباما نے طنزیہ انداز میں کہا کہ یہ بات بالکلیہ درست نہیں ہے۔ ٹرمپ کے دنیا کے بڑ ے بڑے لیڈروں سے کئی برسوں سے تعلقات ہیں جیسے مس سویڈن، مس ارجنٹائین ، مس آذر بائیجان وغیرہ۔
ویسے تو ڈونالڈ ٹرمپ کو سارے نظامِ شمسی سے نفرت ہے لیکن وہ مسلمانوں کے سخت خلاف ہیں۔ آج کل مسلمانوں کے خلاف زہر اگلنا فیشن بن گیا ہے ۔ ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا کہ اگر وہ پریسیڈنٹ بن گئے تو امریکہ میں مسلمانوں کے داخلے پر پابندی لگادیں گے ۔ لندن کے نئے منتخب شدہ میئر (Mayor) صادق خاںنے اس پر اعتراض کیا تو ڈونالڈ ٹرمپ نے جواب میں کہاکہ یہ محض ایک تجویز تھی ۔ اگر صادق خاں چاہیں تو امریکہ آسکتے ہیں۔ صادق خاں نے اس عوت کو ٹھکرادیا ۔ برطانیہ کے وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون بھی ٹرمپ سے کچھ خوش نہیں ہیں۔
ٹرمپ کی ایک خوبی یا خامی یہ بھی بتائی گئی ہے کہ وہ اپنی تقاریر میں جو بات بھی من میں آئے کہہ دیتے ہیں۔ کبھی اُن کے منہ سے غیر اخلاقی باتیں بھی نکل جاتی ہیں ۔ سیاست داں اپنی آج کی کہی ہوئی بات کبھی دوسرے دن بدل دیتے ہیں لیکن ٹرمپ اگر اپنی تقریر کے شروع میں کوئی بات کہتے ہیں تو تقریر کے آخر میں اُس کی تردید کردیتے ہیں۔ اُن سے پوچھا گیا کہ آپ اپنی بات اتنی جلد کیسے بدل دیتے ہیں تو انہوں نے جواب دیا کہ آدمی کو سیکھتے دیر نہیں لگتی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ٹرمپ صاحب نے سوچ سمجھ کر بات کرتے ہیں پھر اُن کو عقل آتی ہے اور وہ اپنی بات کی اصلاح کرتے ہیں ۔ ایسی سیمابی کیفیت ایک عام آدمی کیلئے بھی ٹھیک نہیں چہ جائیکہ کسی ملک کا صدر ’’بک رہا ہوں جنوں میں کیا کیا کچھ ‘‘ کی کیفیت سے گزرے اور بعد میں ’’کہتے ہیں مجھ کو ہوش نہیں اضطراب میں ‘‘ کی حالت میں واپس آئے۔

تاش کے کھیل میں دو پتے اہم سمجھے جاتے ہیں ۔ ایک تو ہے ٹرمپ اور دوسرا جوکر ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ مسٹر ٹرمپ ان دونوں خصوصیات کے حامل ہیں۔ نومبر کے انتخابات میں معلوم ہوگا کہ کون امریکہ میں صدارت کا عہدہ سنبھالے گا۔ ہم مسٹر ٹرمپ کو بالکلیہ نظر انداز بھی نہیں کرسکتے ہیں۔ آپ کو یاد ہوگا کہ خود ہمارے ملک میں ایک صاحب تھے جن کا نام تھا شری راج نارائن ۔ ان کو کوئی بھی سنجیدہ یا سمجھ دار نہیں سمجھتا تھا۔ اُن کے کارٹون بنتے تھے ، ان کے تعلق سے لطیفے گھڑے جاتے تھے ۔ نہ جانے اُن کے جی میں کیا آئی کہ 1977 ء کے پارلیمنٹری الیکشن میں شریمتی اندرا گاندھی کے حلقے رائے بریلی سے کھڑے ہوگئے ۔ لوگوں نے اسے بھی ایک مذاق سمجھا لیکن جب نتیجہ آیا تو لوگوں کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں کیونکہ شری راج نارائن نے شریمتی گاندھی کو 45 (پینتالیس) ہزار ووٹوں سے شکست دے دی تھی ۔ شری راج نارائن حسن اتفاق سے پہلوان بھی تھے۔ لوگوں نے کہا کہ پہلوان نے ایک آہنی شخصیت کو پچھاڑ دیا ۔ اس کے باوجود بھی جبکہ جنتا گورنمنٹ کی حکومت تھی لوگوں نے راج نارائن سے مذاق کرنا نہیں چھوڑا۔ ایک مرتبہ پارلیمنٹ میں بحث چل رہی تھی کہ دلی میں انگریزوں کے دور کے نام تبدیل کئے جائیں تو کسی رکن نے تجویز پیش کی کہ کناٹ سرکس کا نام بدل کر راج نارائن سرکس رکھ دیا جائے۔

بہرحال ٹرمپ اور ہلاری کلنٹن اپنی پانی مہم میں لگے ہوئے ہیں ۔ ٹرمپ اور ہلاری کلنٹن دونوں نے اپنی اپنی مالی حالت کی تفصیل دے دی ہے ۔ ہم کو یہ جان کر تعجب ہوا کہ ہلاری کے مقابلے میں ٹرمپ بہت امیر ہیں۔ ٹرمپ  10 ارب ڈالر کے مالک ہیں جبکہ ہلاری 64 لاکھ ڈالر کی مالک ہیں ۔ ہم کو یہ جان کر اور بھی تعجب ہوا کہ امریکہ میں تقریروں کے بھی پیسے ملتے ہیں ۔ ہمارے ملک میں لوگ لمبی لمبی تقریریں کرتے ہیں لیکن صرف پانی پی کر یا زیادہ سے ز یادہ ایک کپ چائے پی کر رخصت ہوجاتے ہیں۔
آج کے کالم کو ہم نے اس بات سے شروع کیا تھا کہ ڈونالڈ ٹرمپ بے وقوف نہیں ہیں۔ ہمارا ذاتی خیال ہے کہ ٹرمپ کتنے عقلمند ثابت ہوں گے، یہ آنے والا وقت بتائے گا ۔ خیال رہے کہ ایک ارب پتی بزنس مین کبھی یونہی اپنا پیسہ اور وقت برباد نہیں کرتا جب تک اس کو خاطر خواہ فائدے کی امید نہ ہو۔

TOPPOPULARRECENT