Wednesday , December 13 2017
Home / مضامین / ’’میں تاج محل بول رہا ہوں‘‘

’’میں تاج محل بول رہا ہوں‘‘

’’میں تاج محل بول رہا ہوں‘‘
محمد ریاض

 

میں وقت کی دہلیز پہ ٹہرا ہوا پل ہوں
قائم ہے میری شان کہ میں تاج محل ہوں
بھولا ہے نہ بھولے گا کبھی مجھکو زمانہ
زندہ ہے میرے دم سے محبت کا فسانہ
پتھر کی عمارت ہوں مگر موم کا دل ہے
پونم کا حسین چاند میرے گال کا تِل ہے
کب میں نے کہا مجھکو نگاہوں میں بسالو
ممکن ہو تو زہریلی ہواؤں سے بچالو
(اقبال اشہر)
ہاں … میں تاج محل ہوں۔ وہی تاج محل جسے شاہجہاں و ممتاز محل کی پاکیزہ محبت کی نشانی کہا جاتا ہے۔ وہی تاج محل جو ساری دنیا میں یادگار محبت کی حیثیت سے شہرت رکھتا ہے۔ وہی تاج محل جس کی عظیم الشان فن تعمیر عقلوں کو حیران کردیتی ہے ایک مرتبہ دیکھنے والے بار بار دیدار کے مشتاق رہتے ہیں۔ وہی تاج محل جہاں مختلف تہذیبوں، قوموں مذاہب ذات پات علاقوں اور ملکوں کی نمائندگی کرنے والے شاہجہاں اور ممتاز محل کی پاکیزہ محبت، ایک شوہر کی اپنی رفیق سفر کے ساتھ وفاداری کو یہ کہتے ہوئے سلام کرتے ہیں کہ اے تاج محل تو حقیقت میں محبت و اُلفت، میاں بیوی کے پاکیزہ رشتے کی نشانی اور خوبصورت یادوں کے ساتھ ساتھ کرۂ ارض پر اپنے وجود کے ذریعہ مختلف ملکوں کے شان و وقار کی علامت بنی ہوئی لاکھوں عمارتوں میں سب سے نمایاں ہے۔ ہاں میں تاج محل ہوں۔ میری ایک جھلک دیکھنے کے لئے سربراہان مملکت، بادشاہوں ان کی ملیکاوں، جمہوری حکمراں ان کی بیویاں، دنیا کی دولت مند ترین اور اہم و ممتاز شخصیتوں کی آمد کا سلسلہ جاری و ساری ہے۔ میری ایک جھلک دیکھنے اور میرے دامن میں بیٹھ کر تصویر کشی لوگوں کیلئے باعث فخر ہوتی ہے۔ دوست ملک ہو یا دشمن ملک کمزور ہو یا طاقتور ہر کسی کے سربراہوں صدور ، وزرائے اعظم وزراء سب کے سب نے میرے ساتھ تصاویر کھنچوائی۔ برطانیہ کی پرنسس ڈائنا مجھ سے اس قدر متاثر تھیں کہ میرے ساتھ گزرے ہوئے قیمتی لمحات کو انھوں نے اپنے کیمرے میں قید کروایا تھا۔ ہوجنتاؤ جیانگ ژامن جیسے چینی رہنماؤں نے میرے حسن کا نظارہ کرتے ہوئے دیوار چین کو فراموش کردیا تھا۔ کئی سابق امریکی صدور بشمول بل کلنٹن، بارک حسین اوباما ان کی بیویوں ہیلاری کلنٹن، مشل اوباما کو میں نے محبت و وفاداری کا پیغام دیا تھا لیکن بل کلنٹن شائد میرا پیغام وفاداری پوری طرح سمجھ نہ پائے اور مونیکا لیونسکی کے چکر میں پھنس گئے یا پھانسے گئے۔ روسی صدر ولادیمیر پوٹن بھی میری تعمیر کرنے والے مغل حکمراں شاہ جہاں کے ذوق تعمیر، ان کی ملکہ ممتاز محل سے غیر معمولی محبت سے متاثر ہوئے بناء نہیں رہ سکے۔ شاعروں نے اپنے کلام، ادیبوں نے اپنی تخلیقات، صحافیوں نے اپنی رپورٹس ، خطیبوں نے اپنے خطاب، مقررین نے اپنی تقاریر اور اداکاروں نے اپنی اداکاری میں ہمیشہ مجھے جگہ دی ہے۔ نوبل لاریٹ رابندر ناتھ ٹیگور نے میرے حُسن، دودھیا رنگ ، میری تعمیر کے پیچھے کارفرما شاہجہاں کے جذبہ کو سلام کرتے ہوئے تاج محل کے زیرعنوان ایک خوبصورت نظم لکھی ہے۔ برصغیر کے شعراء نے اپنے کلام میں بارہا میری خوبصورتی کو سراہا۔ بعض نے مجھے غریبوں کی محبت کا مذاق اُڑانے کا موجب بھی قرار دیا لیکن میں نے کبھی بُرا نہیں مانا اس لئے کہ میں اپنی تعمیر کے ساتھ ہی پیار و محبت، امن و سکون، انسانیت، وفاداری، وقار و حرمت اور ہندوستانی تہذیب کی علامت بن گیا تھا۔

لیکن اب مجھے لگنے لگا ہے خاص طور پر گزشتہ تین ساڑھے تین سال سے میں محسوس کرنے لگا ہوں کہ ہندوستان میں انسانی اقدار پامال ہورہے ہیں، جانوروں کو انسانوں پر ترجیح دی جارہی ہے۔ مذہب اور ذات پات کے نام پر خون خرابہ ہورہا ہے۔ فرقہ پرستی کا زہر ماحول میں گھولا جارہا ہے۔ حق گوئی و بے باکی کو جرم تصور کیا جانے لگا ہے۔ ناانصافی، ظلم و زیادتی، توہم پرستی، فرقہ پرستی کے خلاف آواز اُٹھانے والوں کی زبانیں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بند کی جارہی ہیں۔ ہندوستان کو حقیقت میں سونے کی چڑیا بنانے، فرقہ وارانہ ہم آہنگی بلکہ قومی یکجہتی کے مضبوط بندھن میں باندھنے والے مغل بادشاہوں کے خلاف باقاعدہ ایک مہم چلائی جارہی ہے۔ شاہراہوں اور شہروں کے نام تبدیل کرنے کے منصوبوں پر عمل ہورہا ہے۔ ان عناصر نے دہلی میں متقی پرہیزگار، انصاف پسند، رعایا پرور بہادر اور دلیری و بے باکی کی بہترین مثال ابوالمظفر محی الدین محمد اورنگ زیب عالمگیر سے موسوم شاہراہ کا نام تبدیل کردیا۔ اس تبدیلی کے ذریعہ ان لوگوں نے یہ سمجھ لیا کہ ہندوستان میں مسلم حکمرانی کی تاریخ مسخ کردیں گے لیکن ایسا سوچنا بیوقوفی ہے۔ انھیں یہ جان لینا چاہئے کہ شہروں اور شاہراہوں کے نام اور کتابیں تبدیل کی جاسکتی ہیں لیکن تاریخ نہیں بدلی جاسکتی کیوں کہ تاریخ محفوظ ہوجاتی ہے۔ ہاں میں بات کررہا تھا کہ آج کل مغل حکمرانوں اور ان کی یادگار تاریخی ورثوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ انھیں غدار اور حملہ آور حکمراں قرار دیا جارہا ہے اور یہ سب کچھ وہ سیاستداں، جماعتیں اور تنظیمیں کررہی ہیں جنھیں صرف اور صرف اقتدار عزیز ہے۔ اگرچہ انھیں مذہب، اپنے ہم مذہبوں، ہندوستانی تہذیب و ثقافت سے کوئی واسطہ نہیں لیکن ایسا لگتا ہے کہ ایک منصوبہ بند سازش کے تحت وہ مذہب کے نام پر بھولے بھالے عوام کا استحصال کررہے ہیں۔ چونکہ ملک میں بڑی مکاری کے ساتھ فرقہ پرستی کا زہر گھولا جارہا ہے ایسے میں خود غرضی، مفاد پرستی اور فرقہ پرستی کی مہلک بیماریوں میں مبتلا یہ ذہنی بیمار عوام پر اثرانداز ہونے کی جان توڑ کوشش کررہے ہیں۔ یہ لوگ چاہے وہ ملک کے کسی اعلیٰ عہدوں پر ہی فائز کیوں نہ ہوں میری نظر میں ہند کے غدار ہیں۔ میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ یہ وہی غدار ہیں جن کے آبا و اجداد نے آخری مغل تاجدار بہادر شاہ ظفر کی قیادت میں لڑی گئی پہلی جنگ آزادی 1857 ء سے لے کر 1947 ء تک مجاہدین آزادی کے خلاف انگریزوں کے لئے جاسوسی اور مخبری کی۔ اس غداری کے عوض انھیں رہائی اور مالی فوائد سے نوازا گیا۔ ایسے ہی غداروں نے اب مجھ پر بُری نظر ڈالنی شروع کردی ہے۔ کوئی مجھے وشنو مندر قرار دے رہا ہے تو تاریخ سے ناواقف بیوقوف سستی شہرت حاصل کرنے کی خاطر مجھے ہندوستانی تہذیب پر ایک داغ یا دھبہ سے تعبیر کررہا ہے حالانکہ اس طرح کے فرقہ پرست امن کے گہوارہ ہندوستان کے ماتھے پر ایک بدنما داغ اور دھبہ ہے۔
جو لوگ آج مجھے غلامی کی علامت قرار دے رہے ہیں وہ مادر وطن کی تاریخ سے واقف نہیں۔ ان جاہلوں کو ملک کی تاریخ تو دور خود اپنے حسب و نسب کے بارے میں نہیں معلوم۔ یہ لوگ میرے پاکیزہ وجود پر کیچڑ اُچھالتے ہوئے ہندوستانی تہذیب کو داغدار بنانے میں مصروف ہیں۔ ان عقل کے اندھوں کا کہنا ہے کہ مغل حکمراں حملہ آور تھے جنھوں نے ایک مخصوص مذہب سے تعلق رکھنے والوں کو دباکر رکھا اور طاقت کے بل بوتے پر ان کی عبادت گاہوں کو منہدم کیا۔ تاریخ سے ناواقف ان جاہلوں کو میں مغل حکمرانوں کی تاریخ سے واقف کرواتا ہوں۔ سن لو اے غدارو … 16 ویں صدی سے 19 ویں صدی کے وسط تک برصغیر ہند میں اپنی حکمرانی اور دبدبہ قائم کرنے والے مغلوں نے ہندوستان اور ہندوستانی تہذیب کو اپنے دل و جان سے اپنایا۔ اس کے فروغ میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی۔ مغلیہ سلطنت کی بنیاد رکھنے والے ظہیرالدین محمد بابر نے 1526 ۔ 1530 ء تک ہندوستان پر بڑی شان کے ساتھ حکومت کی اور برصغیر ہند کو ایک نئی جہت عطا کردی۔ بابر کے بعد جتنے بھی مغل حکمراں آئے وہ حقیقت میں ہندوستانی تھے۔ اکثر مغل حکمرانوں کی پیدائش ہندوستان میں ہوئی اور بیشتر کا ننھیال ہندوستان تھا۔ اس سلسلہ میں مزید گہرائی میں جانا نہیں چاہتا کیوں کہ مجھ پر ہندوستان میں ایک نیا تنازعہ پیدا کرنے کا الزام عائد کردیا جائے گا۔ ہاں دامن ہند میں بسنے والوں کو یہ ضرور بتاؤں گا کہ اکبر اعظم کی پیدائش عمرکوٹ ہند میں ہوئی۔ اس وقت سندھ ہندوستان کا حصہ تھا۔ مرزا نورالدین بیگ محمد خان سلیم المعروف جہانگیر نے فتح پور سیکری میں آنکھیں کھولی۔ شہاب الدین محمد خرم شاہجہاں کی پیدائش لاہور میں ہوئی۔

وہ بھی ہندوستان میں شامل تھا۔ اورنگ زیب عالمگیرؒ کی ولادت گجرات کے علاقہ داہود میں ہوئی۔ بہادر شاہ ظفر دہلی میں پیدا ہوئے۔ غرض 1857 ۔ 1526 ء جتنے مغل حکمرانوں (صرف بابر کو چھوڑ کر) سب کی ولادت برصغیر ہند میں ہوئی۔ ان میں سے اکثر کا ننھیال بھی ہندوستان ہے۔ اس طرح مغل حکمراں خالص ہندوستانی تھے۔ ایک انگریز مورخ Dr. Thomas Roe نے جو جہانگیر کے دور میں ہندوستان آیا تھا، اس نے اپنے سفر نامہ میں لکھا ہے کہ اُس وقت ایک اوسط ہندوستانی ایک اوسط انگریز باشندوں سے کہیں زیادہ خوشحال تھا۔ جہاں تک میرا یعنی تاج محل کا سوال ہے مجھے شاہجہاں نے اپنی چہیتی بیگم ارجمند بانو بیگم ممتاز محل کی یاد میں تعمیر کروایا۔ میرے دامن میں ہی ممتاز محل کو سپرد خاک کیا گیا۔ ممتاز محل کی پیدائش 1593 ء میں آگرہ میں ہوئی۔ محی الدین محمد اورنگ زیب شاہجہاں اور ممتاز محل کی پانچویں اولاد تھے۔ چودھویں بچہ گوہری بیگم کو جنم دینے کے دوران ممتاز محل کا برہان پور مدھیہ پردیش میں انتقال ہوا۔ ان کی پہلے برہان پور میں تدفین عمل میں آئی تھی لیکن بعد میں میت کو آگرہ منتقل کرکے تاج محل میں سپرد خاک کردیا گیا۔ چونکہ شاہجہاں کو ممتاز محل سے دیوانگی کی حد تک عشق تھا اس لئے انھوں نے دریائے جمنا کے کنارے پرفضاء مقام پر تقریباً 50 ایکڑ اراضی پر مجھے تعمیر کروایا۔ 1632 ء میں میری تعمیر شروع ہوئی اور 1648 ء میں مکمل ہوئی جبکہ اطراف و اکناف کی عمارتوں اور باغ کی تعمیر کے لئے مزید 5 سال کا عرصہ لگا۔ اس دور کے ممتاز آرکیٹکٹ استاد احمد لاہوری کی نگرانی میں 20000 فنان تعمیر (کاریگروں) نے مجھے اس خوبصورت انداز میں تعمیر کیاکہ دیکھنے والے انگشت بدنداں رہ جاتے ہیں۔ مجھے ان معماروں نے ہندوستانی، ترکی، ایرانی اور اسلامی طرز تعمیر سے ہم آہنگ کرتے ہوئے فن تعمیر کا ایک انمول نمونہ بنادیا۔ مجھے اسلامی فن تعمیر کا نادر و نایاب نمونہ کہا جاتا ہے۔ آج بھی لوگ استاد احمد لاہوری کویاد کرتے ہیں جنھوں نے مجھے ایک خوبصورت شکل دی۔ اس دور میں مجھے وجود میں لانے کے لئے شاہ جہاں نے 4.5 کروڑ روپئے خرچ کئے جو آج کے 100 ارب روپیوں کے مساوی ہے۔ میری تعمیر میں اور مجھے حُسن سے دوبالا کرنے میں شاہجہاں نے کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی۔ راجستھان کے مکرانہ سے سنگ سفید (سنگ مر مر) ، یشم سبز اور یشم سرخ پنجاب، یاقوت سری لنکا، عقیق احمر (سرخ عقیق) سعودی عرب، سنگ لابورڈ افغانستان، فیروزہ تبت اور بلور چین سے بطور خاص منگوایا گیا۔ یہ تمام کے تمام انتہائی قیمتی پتھر ہیں۔ میری تعمیر میں 28 قسم کے قیمتی پتھروں کا استعمال کیا گیا لیکن بھرت پور کے جاٹ حکمرانوں نے اور 1857 ء میں انگریزوں نے مجھے لُوٹا۔ چاندی اور عقیق کے خوبصورت فانوسوں کو لے کر چلتے بنے۔ میری دیواروں میں جڑے قیمتی پتھروں کو اس طرح نوچ نوچ کر نکالا جس طرح بھوکے درندے اپنے شکار کو نوچ نوچ کر لقمہ بنالیتے ہیں۔ شائد مجھ پر اور مغل حکمرانوں پر تنقید کرنے والے ان لٹیروں انگریزوں اور بھرت پور کے جاٹ حکمرانوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ حال ہی میں ایک بے وقوف نے یہ کہہ کر اپنی جاہلیت کا ثبوت دیا کہ میں وہ عمارت ہوں جسے باپ کو قید کرنے والے ایک بادشاہ نے تعمیر کروایا جبکہ حقیقت کچھ اور ہے۔ شاہجہاں نے اپنے والد کو نہیں بلکہ ان کے فرزند اورنگ زیب نے شاہجہاں کو قید کیا تھا اور وہ بھی ہندوستان کی بھلائی کیلئے۔ ارے مجھ کو اور میرے معماروں کو بُرا بھلا کہنے والو میں سارے عالم میں ہندوستانی شان و وقار، تہذیب و ثقافت کی علامت ہوں۔ سات عجوبوں میں میرا شمار ہوتا ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارہ یونیسکو نے مجھے عالمی تاریخی ورثہ قرار دیا ہے۔ ہر سال 10 ملین سیاح مجھے دیکھنے کے لئے آگرہ کا رُخ کرتے ہیں۔ ان میں بیرونی سیاحوں کی کثیر تعداد ہوتی ہے۔ مسلم حکمرانوں پر تنقید کرنے والوں کو یہ معلوم ہونا چاہئے کہ انگریزوں نے ہندوستان کو لوٹا، تباہ و برباد کیا اور مسلم حکمرانوں نے اسے آباد کیا۔ اس کے تہذیبی و ثقافتی ورثہ کی حفاظت کی۔ ہندوؤں اور ہندو مذہبی مقامات کا احترام کیا۔ آج ملک میں جو بھی تاریخی آثار ہیں ان میں سے اکثر مسلم حکمرانوں نے ہی تعمیر کروائے۔ لال قلعہ، قلعہ آگرہ، قطب مینار، مقبرہ ہمایوں، فتح پور سیکری، موتی مسجد آگرہ، جامع مسجد دہلی، شالیمار گارڈن کشمیر، ڈل جھیل کشمیر، نشاط باغ کشمیر اور مجھ سے 1342 کیلر میٹر فاصلے پر واقع تاریخی شہر حیدرآباد کا چارمینار، چو محلہ پیالس، سالار جنگ میوزیم، قلعہ گولکنڈہ ، دہلی میں بیرونی سربراہان مملکت کی میزبانی کے لئے شہرت رکھنے والے حیدرآباد ہاؤز یہ سب مسلم حکمرانوں نے ہی تو تعمیر کروائے۔ جو ایسے تاریخی آثار ہیں جنھیں سالانہ کروڑہا سیاح دیکھنے کے لئے آتے ہیں اور حکومت کو اربوں روپئے کی آمدنی ہوتی ہے۔ فرقہ پرستوں کو یہ آمدنی نظر نہیں آتی۔ آج لال قلعہ میں وزیراعظم قومی پرچم لہراتے ہیں۔ اسے بھی تو شاہجہاں نے ہی تعمیر کروایا تھا۔ میں ان جاہلوں کو یہی مشورہ دوں گا کہ خدارا جنت نشان ہندوستان کو تباہ مت کرو، 1947 ء میں تقسیم ہند نے اسے پہلے ہی زخمی کردیا ہے۔ دشمن تاک میں ہے۔ کسی بھی گھر کی تباہی کیلئے بیرونی نہیں داخلی دشمن ہی کافی ہے۔ ہندوستان بلا لحاظ مذہب و ملت رنگ و نسل ذات پات سب کا گھر ہے۔ اس گھر کو اپنے ہی ہاتھوں آگ مت لگاؤ۔ گھر کو آگ لگے گی تو سب جل جائیں گے۔ کچھ باقی نہیں رہے گا۔ نہ تم نہ ہم نہ ہماری محبت اور نہ تمہاری عداوت نہ ہماری حب الوطنی نہ تمہاری فرقہ پرستی۔ سنبھل جاؤ اب بھی وقت ہے …
[email protected]

TOPPOPULARRECENT