Monday , September 24 2018
Home / دنیا / میں تکنیکی بنیاد پر 31 مارچ تک امریکہ کا وزیر خارجہ ہوں:ٹلرسن

میں تکنیکی بنیاد پر 31 مارچ تک امریکہ کا وزیر خارجہ ہوں:ٹلرسن

31 مارچ تک ذمہ داریاں جان سولیون کے حوالے ، مائیک پامپیو وزیرخارجہ نامزد
میں پُرسکون ، پرامن اور باوقار انداز میں ذمہ داریاں منتقل کرنے کا خواہاں ہوں
واشنگٹن ۔ 14 مارچ ۔(سیاست ڈاٹ کام) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اپنی انتظامیہ کے یکے بعد دیگرے اعلیٰ عہدیداروں کو برطرف کرتے چلے جارہے ہیں اور یہ سلسلہ کہاں جاکے رُکے گا اس کے بارے میں بڑے سے بڑا سیاسی ماہر بھی فی الحال کچھ کہنے سے قاصر ہے ۔ کل باری تھی امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن کی تاہم بھلا ہو اُن کے صبر و تحمل کا جہاں انھوں نے اپنے چہرے پر بغیر کسی ناگواری کے آثار کے واضح کردیا کہ جاریہ ماہ کے اواخر تک وہ اپنے نائب کو اپنی ذمہ داریاں پُرامن ، پرسکون اور باوقار انداز میں سونپ کر عہدہ سے دستبردار ہوجائیں گے ۔ یہاں اس بات کاتذکرہ بھی ضروری ہے کہ جس وقت عالمی سطح پر ٹلرسن کو برطرف کئے جانے کی خبریں دنیا کے ہر اہم چینلس پر نشر کی جارہی تھیں اُس وقت موصوف افریقہ کے دورہ پر تھے اور انھیں دورہ مختصر کرتے ہوئے فوری واشنگٹن پہنچنے کی ہدایت کی گئی تھی ۔ انھوں نے کہاکہ تکنیکی وجوہات کی بنیاد پر وہ 31 مارچ تک ملک کے وزیر خارجہ برقرار رہیںگے اور اُس وقت تک وہ اپنی دمہ داریاں اپنے نائب جان سولیون کے حوالے کردیں گے ۔ 65 سالہ ٹلرسن جو ایکسن موبل کے سابق چیف ایگزیکٹیو تھے ، کے صدر ٹرمپ کے ساتھ تعلقات کوئی خاص خوشگوار نہیں تھے اور دونوں میں مختلف معاملات جن میں شمالی کوریا ، روس اور ایران کے تئیں امریکی پالیسی کو لیکر اختلافات پائے جاتے تھے ۔ ٹرمپ نے کل ٹلرسن کو عہدہ سے برخاست کرتے ہوئے اُن کی جگہ سی آئی اے ڈائرکٹر مائیک پامپیو کو امریکہ کا نیا وزیر خارجہ مقرر کیا حالانکہ ٹلرسن کو اس عہدہ پر فائز ہوئے صرف ایک سال ہی ہوا تھا اور یہ ایک سال ایسا تھا جہاں اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے اختیارات میں کٹوتی دیکھی گئی بلکہ سالانہ بجٹ میں بھی کٹوتی سے کام لیا گیا ۔ بہرحال ٹلرسن اب اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کو الوداع کہنے کی تیاری کررہے ہیں اور بار بار یہی کہہ رہے ہیں کہ و ہ اپنے عہدہ کی منتقلی باوقار انداز میں کرنے کے خواہاں ہیں ۔

انھوں نے البتہ یہ بھی کہا کہ اب وہ ایک شہری کی حیثیت سے اپنی خانگی زندگی جینے کے لئے آزاد ہیں۔ ٹلرسن نے کہاکہ ٹرمپ نے انھیں عہدہ سے برخاست کئے جانے کا ٹوئٹ پہلے ہی کردیا تھا اور اُس کے کئی
گھنٹوں بعد انھوں نے فون کرکے انھیں ( ٹلرسن) واشنگٹن طلب کیا تھا ۔ ٹلرسن نے وائیٹ ہاؤس چیف آف اسٹاف جان کیلی سے بھی گفتگو کرتے ہوئے یہی کہا کہ وہ اپنے عہدہ کی منتقلی باوقار انداز میں کرنا چاہتے ہیں جبکہ سرکاری طورپر وہ 31 مارچ 2018 ء کی نصف شب تک اس عہدہ پر بدستور برقرار رہیں گے ۔ باوقار انداز میں عہدہ کی منتقلی ایک ایسے وقت بیحد ضروری ہے جب ملک کو اُس کی پالیسی اور قومی سکیورٹی سے متعلق متعدد چیلنجس کا سامنا ہے ۔ دوسری طرف چین نے ٹرمپ کی جانب سے ٹلرسن کو اچانک برطرف کئے جانے کے فیصلہ پر تعجب کا اظہار کیا اور توقع ظاہر کی کہ ٹلرسن کی برطرفی سے امریکہ اور شمالی کوریا کے درمیان مجوزہ بات چیت کا منصوبہ اثرانداز نہیں ہوگا ۔ چین ٹلرسن کے بارے میں مثبت رائے رکھتا تھا ۔ وزارت خارجہ کے ترجمان لوکانگ نے اپنی معمول کی پریس بریفنگ کے دوران اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انھیں اُمید ہیکہ وزیر خارجہ کی تبدیلی سے چین ۔ امریکہ کے دور رُخی تعلقات متاثر نہیں ہوں گے کیونکہ برطرفی ایک ایسے وقت کی گئی ہے جب امریکہ اور شمالی کوریا کے درمیان اہمیت کی حامل بات چیت ہونے والی ہے۔
یاد رہے کہ ٹلرسن اور ٹرمپ کے درمیان اختلافات کی خبریں تو کافی عرصہ سے میڈیا میں گشت کرہی تھیں لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ٹلرسن اُن اختلافات کے باوجود ایسے بیانات دینے پر مجبور تھے کہ اُن کے اور ٹرمپ کے درمیان ’’آل از ویل ‘‘ ( سب کچھ ٹھیک ٹھاک ہے ) حالانکہ یہ بھی کہا جاتا رہا ہے کہ ٹلرسن ٹرمپ کو پسند نہیں کرتے تھے ۔ لوکانگ نے کہا کہ چین ۔ امریکہ تعلقات کو مزید فروغ دینے ٹلرسن کی مساعی کو ہم فراموش نہیں کرسکتے تاہم ان کے اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ سے وداع ہونے کے باوجود بھی ہم توقع کرتے ہیں کہ موصوف چین ۔ امریکہ تعلقات کے استحکام کیلئے مستقبل میں بھی تعاون کرتے رہیں گے اور اب اُمید کرتے ہیں کہ چین ، امریکہ کے نامزد کردہ نئے وزیر خارجہ مائیک پامپیو کے ساتھ بھی باہمی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کی جانب توجہ دے گا۔

TOPPOPULARRECENT