Wednesday , December 19 2018

میں سعودی میں پیدا ہوا اور سعودی میں مروں گا : پرنس ولید بن طلال

ریاض ۔20 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) ارب پتی سعودی پرنس الولید بن طلال نے آج ایک اہم بیان دیتے ہوئے کہا کہ انسداد بدعنوانی کے تحت کی گئی کارروائی کے بعد انہیں تین ماہ کی حراست میں رکھا گیا تھا جس کے بعد ان کے ’’جرائم‘‘ کو معاف کردیا گیا ہے جس نے ان تمام قیاس آرائیوں کو خودبخود ختم کردیا کہ انہوں نے اپنے تمام اثاثہ جات کے عوض اپنی آزادی کا سودا کیا ہے۔ یاد رہیکہ پرنس طلال کو سعودی عرب کا وارن بوفیٹ کہا جاتا ہے، کو جنوری کے اوائل میں اب بدنام ہوچکی رٹز کارلٹن ہوٹل سے رہا کیا گیا ہے جس کیلئے حکومت کے ساتھ ایک نامعلوم مالیاتی سودے بازی کو بھی خارج از امکان قرار نہیں دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں اس نوعیت کا انسان نہیں ہوں کہ میں یہ کہدوں کہ میں نے معاف کیا تاہم بھلایا نہیں ہے۔ میں بیک وقت معاف کرنے اور بھول جانے میں یقین رکھتا ہوں۔ بلومبرگ نیوز کو ایک انٹرویو کے دوران پرنس الولید نے یہ بات کہی جسے آج ہی شائع کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی میں ہمیشہ کی طرح میں کاروبار میں مصروف ہوگیا ہوں۔ سعودی عرب میں سرمایہ کاری ہوگی۔ میری پیدائش سعودی میں ہوئی اور میری موت بھی یہیں ہوگی۔ البتہ پرنس نے اپنی رہائی کیلئے طئے کی گئی شرائط پر یہ کہتے ہوئے روشنی ڈالنے سے انکار کردیا کہ یہ انتہائی خفیہ اور رازدارانہ معاہدہ ہے۔

TOPPOPULARRECENT