Thursday , December 14 2017
Home / Top Stories / میں صرف ہلاری سے مقابلہ کا خواہاں ہوں : ٹرمپ

میں صرف ہلاری سے مقابلہ کا خواہاں ہوں : ٹرمپ

پنسلوانیا میں 26 اپریل کو ری پبلکن پرائمری، ریالی میں برنی سینڈرز کی ستائش اور ہلاری پر تنقیدیں

واشنگٹن ۔ 22 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) ری پبلکن صدارتی امیدوار کی دوڑ میں سب سے آگے ڈونالڈ ٹرمپ نے آج ایک اہم بیان دیتے ہوئے کہا کہ ان کی خواہش ہیکہ وہ ڈیموکریٹک صدارتی امیدوار ہلاری کلنٹن سے مقابلہ کریں۔ ان کی حریف صرف ہلاری ہوں اور کوئی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ورمونٹ سینئر برنی سینڈرز اگر ان کے (ٹرمپ) حریف ہوں گے تو انہیں اتنی خوشی نہیں ہوگی جتنی ہلاری سے مقابلہ کرنے میں ہوگی حالانکہ برنی سینڈرز نے ہلاری کلنٹن کو کئی محاذوں پر سخت مقابلہ سے دوچار کیا۔ پنسلوانیہ میں اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہیں (ٹرمپ) ایسا لگتا ہیکہ اب برنی کی نامزدگی کے کوئی امکانات نہیں اور میں خود بھی برنی کے خلاف میدان سنبھالنا نہیں چاہتا۔ پنسلوانیا میں ری پبلکن پرائمری 26 اپریل کو منعقد شدنی ہے۔ ٹرمپ نے ایک بار پھر اپنا روایتی اور متنازعہ انداز اپناتے ہوئے کہا کہ وہ تو خطرناک ہلاری کے خلاف مقابلہ کے خواہاں ہیں کیونکہ ہم ہلاری کو شکست فاش دیں گے جس کے بعد شرم سے وہ اپنا منہ چھپائے پھریں گی۔ ٹرمپ نے سفاکانہ مسکراہٹ کے ساتھ کہا کہ کیا ہلاری سے زیادہ خطرناک بھی کوئی ہوسکتا ہے؟ ٹرمپ کے لہجہ سے ایسا معلوم ہورہا تھا کہ جیسے انہیں ری پبلکن نامزدگی کا پورا پورا یقین ہو حالانکہ وہ ابھی اس مرحلہ سے کافی دور ہیں کیونکہ انہیں 1237 ڈیلی گیٹس کی ضرورت پیش آئے گی۔ ٹرمپ نے سینڈرز کی بھی ستائش کی کہ انہوں نے ہلاری کے ساتھ کانٹے کا مقابلہ کیا۔

بہرحال ہلاری کلنٹن بھی صلاحیتوں کی مالک ہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ صدر کے عہدہ کیلئے موزوں ہیں۔ ٹرمپ نے کہا کہ بحیثیت وزیرخارجہ ہلاری کلنٹن کے کچھ فیصلے احمقانہ تھے۔ عراق کی جنگ نے سب کی کمر توڑ دی جبکہ مشرق وسطیٰ میں امریکہ نے اب تک 4 کھرب ڈالرس خرچ کردیئے ہیں جو امریکہ جیسے ملک کی معیشت کیلئے ریڑھ کی ہڈی کے مترادف ہے۔ ہلاری نے جو غلطیاں کی ہیں وہ ناقابل تلافی ہیں۔ دریں اثناء ری پبلکن صدارتی امیدوار اور ایوان نمائندگان کے سابق اسپیکر نیوٹ گنگریچ نے کہا کہ ٹرمپ کی کھل کر تائید کریں کیونکہ وہی صدارت کے امکانی امیدوار ہیں۔ ری پبلکن ننیشنل کمیٹی (RMC) قیادت نے کنونشن سے مربوط اپنی ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رکھا ہے جس میں ٹرمپ نے شخصی طور پر شرکت نہیں کی تھی۔ تاہم ان کے قریبی رفقاء نے ان کی نمائندگی کی تھی۔ پنسلوانیا میں ٹرمپ نے خود اپنے ہی قریبی رفقاء کا مشورہ ماننے سے انکار کردیا تھا جہاں انہوں نے ٹرمپ کو کچھ دیر انتظار کرنے کیلئے کہا تھا تاکہ ریالی کے مقام پر منتظر دیگر ہزاروں افراد کو اندر آنے دیا جائے۔ ٹرمپ نے کہا کہ وہ کسی کا انتظار نہیں کرسکتے۔ انہوں نے کبھی بھی اپنے آپ کو متعارف نہیں کروایا۔ انہوں نے کہا کہ وہ کسی کی پرواہ نہیں کرتے۔ ہمیں اپنی ریالی کا انعقاد مقررہ وقت سے کچھ پہلے ہی کرلینا چاہئے۔ وہ اس کی پرواہ نہیں کرتے کہ کون آتا ہے اور کون نہیں آتا۔ ٹرمپ کے پاس فی الحال 845 ڈیلی گیٹس ہیں جبکہ انہیں 1237 ڈیلی گیٹس کی ضرورت ہے جس کے بعد ان کی نامزدگی عمل میں آسکتی ہے جبکہ کلیولینڈ کنونشن ماہ جولائی میں مقرر ہے۔

TOPPOPULARRECENT