Wednesday , December 13 2017
Home / دنیا / میں عراق جنگ کی غلطیوں کیلئے معذرت خواہ ہوں : ٹونی بلیر

میں عراق جنگ کی غلطیوں کیلئے معذرت خواہ ہوں : ٹونی بلیر

لندن ۔ 26 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیر نے عراق جنگ کے پہلوؤں کے تعلق سے پہلی مرتبہ معذرت خواہی کی ہے اور کہا کہ اس نظریہ میں سچائی کے عناصر ہیں کہ اس حملہ نے آئی ایس آئی ایس کو پروان چڑھانے میں مدد کی۔ سی این این کو ایک ٹی وی انٹرویو میں سابق برطانوی وزیراعظم نے کہا کہ وہ معذرت خواہ ہیں کہ 2003ء میں صدام حسین کی حکومت پر حملہ کرنے کے فیصلے پس پردہ انٹلیجنس غلط تھی اور انہوں نے اعتراف کیا کہ اس آپریشن کی منصوبہ بندی میں غلطیاں ہوئی ہیں۔ ان سے پوچھا گیا تھا کہ عراق میں عام تباہی کے ہتھیاروں کی تلاش میں ناکامی کے تعلق سے ان کا کیا تاثر ہے۔ یہ انٹرویو امریکی پولیٹیکل براڈ کاسٹر فرید ذکریا نے لیا جسے اتوار کو سی این این یوروپ چینل نے نشر کیا۔ یہ دراصل ایک طویل تر ڈاکیومنٹری ’’عراق میں امریکہ : جہنم کی طرف طویل سفر‘‘ کا حصہ ہے جس کی آج حمایت کی جارہی ہے۔ ذکریا نے کیمروں کے سامنے بلیر سے سوال کیا : چونکہ صدام کے پاس عام تباہی کے کوئی ہتھیار نہیں تھے، اس لئے کیا یہ جنگ غلطی ہوئی؟ بلیر نے جواب دیا: ’’میں اس حقیقت کیلئے معذرت خواہی کرتا ہوں کہ ہمیں جو انٹلیجنس وصول ہوئی وہ غلط تھی۔ مجھے اس بات پر بھی معذرت خواہی کرنا ہیکہ منصوبہ بندی میں بھی بعض غلطیاں ہوئی اور ہمارے یہ سمجھنے میں بھی غلطی ہوگئی کہ صدام حکومت کو ہٹانے کے بعد حالات کیا ہوں گے‘‘۔

TOPPOPULARRECENT