Thursday , December 14 2017
Home / شہر کی خبریں / ’’ میں نے محمد پہلوان اور منور اقبال کے خلاف لینڈ گرابنگ کیس درج نہیں کروایا‘‘

’’ میں نے محمد پہلوان اور منور اقبال کے خلاف لینڈ گرابنگ کیس درج نہیں کروایا‘‘

قانون کو ہاتھ میں لینے کی تردید، عدالتی فیصلہ میں والد کو لینڈ گرابر قرار دیئے جانے سے لا علمی، اکبر الدین اویسی کا عدالت میں بیان
حیدرآباد۔/21ستمبر، ( سیاست نیوز) چندرائن گٹہ حملہ کیس کی سماعت روزانہ کی اساس پر جاری ہے جس میں پانچویں مرتبہ رکن اسمبلی اکبر الدین اویسی حاضر عدالت ہوئے اور ان پر وکیل دفاع نے جرح کیا۔ رکن اسمبلی نے عدالت میں دیئے گئے بیان میں یہ بتایا کہ انہوں نے محمد پہلوان اور منور اقبال کے خلاف لینڈ گرابنگ کا کیس درج نہیں کروایا اور جب کبھی ان کے خلاف عوام کی جانب سے نمائندگی کی جاتی تھی وہ متعلقہ عہدیداروں کو اس سلسلہ میں کارروائی کیلئے کہتے تھے۔  انہوں نے کہا کہ 13اپریل سال 2011 کو یونس بن عمر یافعی اور عیسیٰ بن یونس یافعی کی جانب سے انہیں دھمکائے جانے کی شکایت چندرائن گٹہ پولیس میں یا کمشنر سے نہیں کی اور انہوں نے عدالت میں بتایا کہ دورہ کے دوران محکمہ مال اور پولیس عہدیدار موجود تھے۔ اکبر اویسی نے اس بات سے لاعلمی کا اظہار کیا ہے کہ گرم چیرو تالاب سے متصل خانگی ملکیت موجود ہے اور نہ ہی انہیں اس بات کا پتہ ہے کہ سروے نمبر 181، 182 اور 183 جملہ 4.5ایکر اراضی واقع کندیکل گیٹ عمر بن یونس یافعی کے نام پر ہے۔

وکیل دفاع کی جانب سے کی گئی جرح کے دوران رکن اسمبلی نے اس بات کی تردید کی کہ وہ ہمیشہ قانون کو اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے لاء اینڈ آرڈر کا مسئلہ پیدا کرتے ہیں۔ سال 2013 میں نرمل ٹاؤن میں درج کیا گیا مقدمہ سیاسی محرکات پر مبنی ہے اور انہیں 40 دن تک عدالتی تحویل میں رہنا پڑا۔یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ پولیس کے روبرو میں نے یہ نہیں کہا تھا کہ 2009کے اسمبلی انتخابات کے دوران ( ملزم نمبر ایک ) محمد پہلوان نے ایم بی ٹی کی تائید کی تھی اور اس وقت انہوں نے مجھ سے دشمنی و مخاصمت پیدا کی تھی اور مجھے ہلاک کرنے کی دھمکی دی تھی اور میرے حلقہ کے عوام نے مجھ سے نمائندگی کی تھی کہ محمد پہلوان اور منور اقبال سرکاری املاک پر قبضہ کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کے روبرو دیئے گئے بیان میں محمد پہلوان ایم آئی پارٹی کے رکن ہونے اور علاقہ میں لینڈ گرابنگ کے واقعات میں ملوث ہونے کا بیان دیا تھا۔ وکیل دفاع جی گرو مورتی کی جانب سے تین دن طویل جرح کے اختتام پر ملزمین کے ایک اور وکیل ایڈوکیٹ راج وردھن ریڈی نے اکبر اویسی پر جرح کا آغاز کیا جس میں انہوں نے یہ سوال کیا کہ کیا انہوں نے سابق میں سینئر ایڈوکیٹ ای اوما مہیشور راؤ کو ان کے خلاف درج کئے گئے فوجداری مقدمات کی پیروی کیلئے ان کا انتخاب کیا تھا۔ اکبر الدین اویسی نے کہا کہ پارٹی لیگل سیل قانونی پیچیدگیوں سے متعلق مقدمات کی پیروی کرتے ہیں۔

انہوں نے اس بات سے لاعلمی کا اظہار کیا کہ سابق میں ان کے خلاف درج کئے گئے فوجداری مقدمات کیلئے سینئر ایڈوکیٹ اوما مہیشور راؤ کی خدمات حاصل کی گئی تھی۔ دوسری طرف انہوں نے بتایا کہ وہ اوما مہیشور راؤ ایڈوکیٹ کو شخصی طور پر جانتے ہیں کیونکہ ان کے کیس میں انہیں اسپیشل پبلک پراسکیوٹر بنایا گیا تھا۔ وکیل دفاع کے اصرار پر انہوں نے کہا کہ وہ ان کے خلاف درج کئے گئے مقدمات کی پیروی کرنے والے وکلاء کی فہرست فراہم کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات کہنا درست نہیں ہے کہ رکن اسمبلی احمد بن عبداللہ بلعلہ کو چندرائن گٹہ حلقہ اسمبلی میں مدعو کرنا پروٹوکول کا حصہ نہیں ہے۔ اس سلسلہ میں انہوں نے کہا کہ سرکاری عہدیدار کسی بھی عوامی منتخب نمائندے کو تقریب میں طلب کرسکتے ہیں۔ 30اپریل 2011کو احمد بلعلہ کو عہدیداروں نے بارکس کے قبرستان میں منعقدہ پروگرام میں شرکت کیلئے مدعو کیا تھا چونکہ وہ عرب ہیں اور مذکورہ قبرستان عرب باشندوں کا ہے۔ قلی قطب شاہ اربن ڈیولپمنٹ اتھاریٹی عہدیداروں نے اس پروگرام کیلئے قبرستان کے منیجنگ ٹرسٹیز کو بھی مدعو کیا تھا۔ انہیں اس بات کا علم نہیں ہے کہ سرکاری عہدیداروں کی جانب سے مدعو کئے جانے والے وی آئی پیز کی فہرست کا ریکارڈ موجود ہوتا ہے۔ اکبر اویسی نے جرح میں کئے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ انہیں محمد پہلوان کے مکان کا پتہ معلوم نہیں ہے لیکن وہ ان کے حلقہ میں اکثر جایا کرتے تھے۔ انہوں نے اس بات کو درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے سابق میں پولیس کو یہ بیان دیا تھا کہ وہ چندرائن گٹہ حلقہ اسمبلی کیلئے تیسری مرتبہ منتخب ہوئے تھے جس کے نتیجہ میں وہ حلقہ اسمبلی کے کئی افراد سے واقف ہیں جن میں محمد پہلوان اور ان کے بعض ارکان خاندان بھی شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سابق میں انہوں نے محمد پہلوان کی جانب سے منعقد کی گئی تقاریب میں شرکت کی تھی۔ ساتویں ایڈیشنل میٹرو پولیٹن سیشن جج اجلاس پر جاری سماعت میں کل دوبارہ حاضر عدالت ہوں گے۔اکبر اویسی نے کہا کہ اویسی میڈیکل اینڈ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ اور میرے والد صلاح الدین اویسی کے خلاف 1.5 ایکر اراضی کی لینڈ گرابنگ کے متعلق ڈپٹی منیجر پرسنل اینڈ لاء مدھانی کی طرف سے شروع کردہ کارروائی سے میں لاعلم ہوں۔ مجھے اس بات کا علم نہیںہے کہ اس ادارہ اور میرے والد کے خلاف سروے نمبر 56/1 کندیکل ولیج بنڈلہ گوڑہ منڈل میں 1.5ایکر پر لینڈ گرابنگ کا ایل جی سی نمبر 2002/71 فائیل کیا گیا تھا مجھے یہ بھی نہیں معلوم کہ اویسی میڈیکل اینڈ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ اور اس کے چیرمین ( صلاح الدین اویسی ) کو اے پی لینڈ گرابنگ ایکٹ کے تحت ایک خصوصی عدالت نے اپنے فیصلہ مورخہ 13جنوری 2004ء کے تحت 2002کے ایل جی سی نمبر 71 کی بنیاد پر لینڈ گرابر قرار دیا تھا۔اکبر اویسی نے مزید کہا کہ یہ کہنا درست نہیں ہے کہ دارالسلام ایجوکیشنل ٹرسٹ کے ایک ٹرسٹی کی حیثیت سے اس کارروائی کو پوری طرح جاننے کے باوجود میں نے غلط اطلاع دی ہے۔ مجھے اس بات کا علم بھی نہیں ہے کہ آیا سروے نمبر 56/1 کندیکل ولیج بنڈلہ گوڑہ منڈل میں 1.5 ایکر اراضی ٹرسٹ کے قبضہ میں ہے بھی یا نہیں۔

TOPPOPULARRECENT