میں نے ’’لجا‘‘ میں اسلام پر تنقید نہیں کی: تسلیمہ نسرین

نئی دہلی۔ 22 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) بدنام زمانہ بنگلہ دیشی مصنف تسلیمہ نسرین نے کہا کہ انہوں نے اپنی متنازعہ ناول ’’لجا‘‘ میں اسلام پر کوئی تنقید نہیں کی۔ ان کے خلاف فتویٰ صرف اس لئے جاری کیا گیا ہے، کیونکہ انہوں نے مذہب پر اپنی دیگر کئی کتابوں میں تنقید کی ہے۔ کئی لوگوں کا خیال ہے کہ انہوں نے ’’لجا‘‘ میں اسلام اور اسلامی بنیاد پرس

نئی دہلی۔ 22 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) بدنام زمانہ بنگلہ دیشی مصنف تسلیمہ نسرین نے کہا کہ انہوں نے اپنی متنازعہ ناول ’’لجا‘‘ میں اسلام پر کوئی تنقید نہیں کی۔ ان کے خلاف فتویٰ صرف اس لئے جاری کیا گیا ہے، کیونکہ انہوں نے مذہب پر اپنی دیگر کئی کتابوں میں تنقید کی ہے۔ کئی لوگوں کا خیال ہے کہ انہوں نے ’’لجا‘‘ میں اسلام اور اسلامی بنیاد پرست مسلمانوں پر جو بنگلہ دیش میں رہتے ہیں، تنقید کی تھی، جس کی بناء پر فتویٰ جاری کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ’’لجا‘‘ کو احتجاج کی ایک علامت سمجھا جاسکتا ہے جو مذہب کے نام پر دُنیا بھر میں جاری تشدد نفرت اور ہلاکتوں کے خلاف ہے۔ تسلیمہ نسرین نے ’’لجا‘‘ کے انگریزی ترجمہ کے پیش لفظ میں یہ تبصرہ کیا ہے جو پینگوین پبلیشرس کی جانب سے ہندوستان میں شائع کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک مذکورہ بالا واقعات پیش آتے رہیں گے، ان کی کتاب ’’لجا‘‘ کی افادیت برقرار رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ ’’لجا‘‘ میں مذہب یا نفرت کی کوئی بات نہیں کی گئی۔ یہ تو صرف انسانیت اور محبت کی بات کرتی ہے۔ 1993ء میں یہ کتاب تصنیف کی گئی تھی اور بنگلہ دیش میں اس پر امتناع عائد کیا گیا تھا، لیکن یہ دُنیا بھر میں سب سے زیادہ فروخت ہونے والی کتابوں کی فہرست میں شامل ہوگئی تھی۔ یہ کتاب بابری مسجد کی 6 ڈسمبر 1992ء کو شہادت کے بعد بنگلہ دیش میں مذہبی خطوط پر تقسیم پیدا ہوجانے کے بعد اس ملک میں مقیم ایک چھوٹے سے ہندو خاندان کی کہانی ہے جس نے آزادی کے بعد بنگلہ دیش سے منتقل ہونے کے امکانات مسترد کردیئے تھے۔ 1994ء میں تسلیمہ نسرین کو بنگلہ دیش سے فرار ہونا پڑا کیونکہ بنیاد پرست گروپس انہیں جان سے ماردینے کی دھمکیاں دے رہے تھے۔ وہ اب سویڈن کی شہری ہیں اور 2004ء سے ہندوستانی ویزا میں مسلسل توسیع کی بنیاد پر ہندوستان میں مقیم ہیں۔ وہ گزشتہ 20 سال سے یورپ اور ہندوستان میں خودساختہ جلاوطنی کی زندگی گزار رہی ہیں۔ وہ ہندوستان میں مستقل قیام کی خواہاں ہیں۔

TOPPOPULARRECENT