Wednesday , November 22 2017
Home / Top Stories / ’’میں پاکستان کا نہیں ، امن کا ایجنٹ ہوں اور رہوں گا ‘‘

’’میں پاکستان کا نہیں ، امن کا ایجنٹ ہوں اور رہوں گا ‘‘

مجھے عدلیہ پر پورا بھروسہ ہے ، شیوسینا کو دوسروں کے حق آزادی اظہار خیال کا احترام کرنے کا مشورہ ، کلکرنی کی پریس کانفرنس
ممبئی ۔ 13 اکٹوبر۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) مفکر ادارہ آبزرور اینڈ ریسرچ فاؤنڈیشن کے چیرمین اور سرکردہ بی جے پی لیڈر ایل کے اڈوانی کے سابق مشیر خاص سدھیندر کلکرنی نے آج خود کو ’’امن کا ایجنٹ ‘‘ قرار دیا اور کہا کہ وہ پاکستانی ایجنٹ نہیں ہیں۔ واضح رہے کہ پاکستان کے سابق وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری کی کتاب کی رسم اجرائی کیلئے ممبئی میں تقریب کے اہتمام کے خلاف شیوسینا کے کارکنوں نے پرتشدد احتجاج کرتے ہوئے کلکرنی کے چہرہ پر کالک پوت دی تھی اور الزام عائد کیا تھا کہ وہ (کلکرنی) پاکستان کے ایجنٹ ہیں۔ انھوں نے شدت پسند زعفرانی جماعت ( شیوسینا) کو مشورہ دیا کہ دوسروں کے حق اور آزادیٔ اظہار خیال کااحترام کرے ۔ کلکرنی نے آج یہاں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’شیوسینا کے ترجمان مراٹھی روزنامہ سامنا میں مجھ پر پاکستانی ایجنٹ ہونے کا لیبل لگایا گیا ۔ میں اُن ( شیوسینا ؍ سامنا ) کے حق آزادیٔ اظہار خیال کا احترام کرتا ہوں لیکن انھیں بھی دوسروں کے حق و آزادی کا احترام کرنا چاہئے ‘‘ ۔

کلکرنی نے کہاکہ ’’مجھے پاکستان کا ایجنٹ کہا گیا ہے ۔ جی ہاں میں ایجنٹ ہوں لیکن پاکستان کا نہیں بلکہ امن کا ایجنٹ ہوں اور ایجنٹ ہی رہوں گا ‘‘۔ وسطی ممبئی میں ورلی کے نہرو سنٹر میں قصوری کی کتاب کی رسم اجرائی تقریب سے قبل ان (کلکرنی ) کے منہ پر کالک پوتنے والے چھ افراد کی گرفتاری سے متعلق ایک سوال پر انھوں نے جواب دیا کہ ’’کسی کی گرفتاری یا ضمانت سے میرا کوئی سروکار نہیں ہے ۔ مجھے عدلیہ پر پورا بھروسہ ہے‘‘ ۔ انھوں نے کہاکہ ہمارا ایک پڑوسی ملک ہے جہاں آزادی افکار و اظہار ایک بنیادی چیز ہے ‘‘ ۔ کلکرنی نے کہاکہ آبزرور اینڈ ریسرچ فاؤنڈیشن ( او آر ایف ) ایک غیرسیاسی تنظیم ہے چنانچہ ’’میں بی جے پی ۔ شیوسینا تعلقات پر کوئی تبصرہ کرنا نہیں چاہتا ‘‘ ۔ کلکرنی نے جو ماضی میں اٹل بہاری واجپائی اور ایل کے اڈوانی جیسے سرکردہ بی جے پی قائدین کی تقاریر لکھا کرتے تھے، وزیراعظم نریندر مودی کی کارکردگی سے متعلق ایک سوال پر جواب دیا کہ مودی نے اپنے عہدہ سنبھالنے کے بعد روز اول سے ہی جنوبی ایشیاء میں ایک نئی شروعات کی مساعی کی ہے ۔ دونوں فریق ( ہند و پاک ) مذاکرات میں پیشرفت چاہتے ہیں۔ کلکرنی نے کہاکہ ’’مجھے خوشی ہے کہ ممبئی کے عوام نے ہماری کوششوں کی حوصلہ افزائی کی ہے ‘‘۔ انھوں نے شیوسینا کی جانب سے رخنہ اندازی کی دھمکیوں کے باوجود اس تقریب میں کثیرتعداد میں شرکت کرنے والے عوام کا شکریہ بھی ادا کیا۔

فڈنویس ، مہاراشٹرا کو نہیں سمجھ سکے ہیں
اس دوران شیوسینا کے ترجمان سنجے راؤت نے کلکرنی کے چہرے پر سیاہی پوتنے کے واقعہ کی چیف منسٹر مہاراشٹرا دیویندر فڈنویس کی جانب سے کی گئی مذمت پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’چیف منسٹر فڈنویس ہنوز مہاراشٹرا کو نہیں سمجھ سکے ہیں‘‘ ۔ راؤت نے یہ ریمارک ایک ایسے وقت کیا جب یہ اطلاعات موصول ہورہی ہیں کہ گزشتہ روز کلکرنی کے چہرہ پر سیاہی پوتنے والے شیوسینا کارکنوں نے آج اپنی پارٹی کے صدر اُدھو ٹھارے سے ان کی رہائش گاہ ’’ماتوشری‘‘ پر پہونچکر ملاقات کی ۔

TOPPOPULARRECENT