Thursday , November 23 2017
Home / Top Stories / ’’میں ہر روز سر کھپا رہا ہوں لیکن حل نظر نہیں آتا‘‘

’’میں ہر روز سر کھپا رہا ہوں لیکن حل نظر نہیں آتا‘‘

40دن ہوگئے پھر بھی عوام مسائل سے دوچار، کرنسی بندی پر چندرابابو نائیڈو برہم
وجئے واڑہ 20 ڈسمبر (پی ٹی آئی) بی جے پی کے حلیف اور چیف منسٹر آندھراپردیش این چندرابابو نائیڈو جنھوں نے ابتداء میں نوٹ بندی کی تائید کی تھی، آج پھر اپنا موقف بدل دیا۔ انھوں نے کہاکہ یہ فیصلہ ہماری خواہش کے مطابق نہیں تھا کیوں کہ اب بھی کئی مسائل درپیش ہیں اور دور دور تک اِن کے حل کی کوئی صورت دکھائی نہیں دے رہی ہے۔ چندرابابو نائیڈو کی اِس لحاظ سے بھی اہمیت ہے کہ وہ 13 رکنی کمیٹی کے صدرنشین ہیں جو مرکز نے کرنسی بندی مسائل کا جائزہ لینے کے لئے تشکیل دی۔ چندرابابو نائیڈو نے خبردار کیاکہ جب تک ٹھوس اقدامات نہیں کئے جاتے عوام کو درپیش پریشانی طویل عرصہ تک یوں ہی برقرار رہے گی۔ چیف منسٹر آندھراپردیش نے تلگودیشم پارٹی کے ارکان پارلیمنٹ، اسمبلی و کونسل کے علاوہ دیگر قائدین کے ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ نوٹ بندی ہماری خواہش نہیں تھی لیکن ایسا ہوچکا ہے۔ بڑی نوٹوں کا چلن بند کئے 40 دن سے زائد گزر چکے اور اب بھی بے شمار مسائل برقرار ہیں۔ اِن کا کوئی حل ہی نظر نہیں آتا۔ انھوں نے کہاکہ یہ اب بھی ایک حساس اور پیچیدہ مسئلہ ہے۔ چندرابابو نائیڈو نے کہاکہ ’’میں کرنسی بندی کی وجہ سے درپیش مسائل کو حل کرنے کے مقصد سے ہر دن دو گھنٹے صرف کررہا ہوں۔ میں روزانہ اپنا سر کھپا رہا ہوں لیکن میں اِس مسئلہ کا حل تلاش کرنے سے قاصر ہوں‘‘۔ انھوں نے کہاکہ ہم ’’اگسٹ بحران‘‘ (1984 ء میں پارٹی میں داخلی بغاوت) کو اندرون 30 یوم حل کرپائے لیکن یہ (کرنسی بندی) اب بھی برقرار ہے۔ انھوں نے کہاکہ بینکس ڈیجیٹل معیشت کو اختیار کرنے کے لئے تیار نہیں تھے، وہ بینکنگ کرسپانڈنٹس کو بھی رجسٹر نہیں کراپائے۔ چندرابابو نائیڈو نے ابتداء میں 500 اور 1000 روپئے کی بڑی کرنسی کا چلن بند کرنے کی بھرپور تائید کی تھی۔ اِس ضمن میں انھوں نے 12 اکٹوبر کو وزیراعظم نریندر مودی کو مکتوب بھی روانہ کیا تھا۔ وزیراعظم کے اعلان کے بعد دوسرے دن 9 نومبر کو تلگودیشم پارٹی نے اِس کا سہرا اپنے سر باندھا اور کہاکہ کرپشن کے خلاف لڑائی میں یہ چندرابابو نائیڈو کی جیت ہے۔ اِسے تلگودیشم پارٹی کے لئے اخلاقی کامیابی بھی قرار دیا گیا۔ تلگودیشم پارٹی نے اپنے فیس بُک اور ٹوئٹر پوسٹس میں یہاں تک کہاکہ وزیراعظم نریندر مودی نے اب یہ فیصلہ کیا حالانکہ چندرابابو نائیڈو 2004 ء سے 2014 ء تک جب وہ اپوزیشن میں تھے مسلسل یہ مطالبہ کرتے آرہے تھے۔ پارٹی میڈیا سیل نے جون 2013 ء میں اخبارات میں شائع تراشے بھی میڈیا کو پیش کئے تھے۔ لیکن جب پرانے نوٹوں کی تبدیلی کے معاملہ میں عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور نقد رقم کی قلت پیدا ہوگئی اُس وقت چندرابابو نائیڈو نے اپنا موقف تبدیل کرلیا اور مرکز کے اِس اقدام کے بارے میں تنقیدی تبصرے کئے۔ بالخصوص 2000 روپئے کی نئی نوٹ متعارف کرنے پر اُنھوں نے اعتراض کیا تھا۔ اس کے بعد مرکز نے چندرابابو نائیڈو کو ہی اس کمیٹی کا صدرنشین بنادیا جو کرنسی بندی کی وجہ سے درپیش مسائل کا جائزہ لے گی اور پھر چندرابابو نائیڈو کے رویہ میں بھی تبدیلی آگئی تھی۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT