Thursday , November 15 2018
Home / Top Stories / میں ہماری مستقبل کے نسل کیلئے پریشان ہوں‘ کیاہم اپنے قبرستان بھردیں؟۔

میں ہماری مستقبل کے نسل کیلئے پریشان ہوں‘ کیاہم اپنے قبرستان بھردیں؟۔

بشیر احمد وانی نے اپنے بیٹی منان وانی کے کشمیر لالب وادی سے اے ایم یو اور پھر وادی میں لوٹ کر حز ب المجاہدین میں شمولیت اختیا ر کرنے کے سفر تک کے متعلق بات کی ۔
ٹیکی پورہ لولاب۔ جمعرات کے روز پی ایچ ڈی اسکالر سے دہشت گرد بننے والے منان وانی کو فوج او رکشمیر پولیس کی مشترکہ کاروائی میں ہلاک کردیاگیا۔دی وائیرنے منان کے والد سے بات کی ‘بشیر احمد وانی نے اپنے بیٹی منان وانی کے کشمیر لالب وادی سے اے ایم یو اور پھر وادی میں لوٹ کر حز ب المجاہدین میں شمولیت اختیا ر کرنے کے سفر تک کے متعلق باتیں بتائی۔

انہوں نے یہ اپنے بیٹے کی موت کے متعلق بھی بات کہی‘ کہ کس طرح سال کے اوائل میں منان کے لکھے مضامین پر سکیورٹی فورسس نے اس کو ہراساں وپریشان کیاتھا

آپ کو کب پتہ چلا کہ منان کا ماردیاگیاہے؟
مجھے 6:30کے قریب ایک فون کال آیا جس سے یہ تصدیق ہوئی۔ پولیس جو کچھ ہوا وہ مجھ سے پوشیدہ رکھنے رہی تھی۔ گہرائی تک معلومات حاصل کرنے کی ہم کوشش کررہے تھے۔

آخرکار1:30انہوں نے ہم سے کہاکہ چاؤ گونڈ علاقے سے جاکر نعش حاصل کرلیں۔ مصلح گاڑی میں وہ لوگ نعش لے کر ائے اور 2:30سے 3بجے کے درمیان میں ہمارے رشتہ داروں کے حوالے نعش کی ۔ درایں اثناء گاؤں میں امن وضبط پر قابو رکھنے والا میں ہی تھا۔

کیاآپ جانتے تھے کہ منان اس علاقے میں ہے؟
پولیس اور خفیہ اداروں کی رپورٹس کے مطابق منان اس علاقے میں ہے۔ انہیں منان کی موجودگی کے متعلق خفیہ جانکاری ملی تھی۔ وہ لوگ مجھے ذہنی طور پر ہراساں کررہے تھے کہ ہمیں اس خودسپردگی کے لئے اس سے کہوں ۔

ان کے لئے آپ کا جواب کیاتھا؟
میں نے پہلے ہی انہیںیہ پیغام دیدیا تھا کہ منان کے رضاکارانہ طور پر یہ راستہ اختیار کیاہے۔ لہذا میرے لئے بہتر ہوگا میں خاموش رہوں۔

حزب المجاہدین میں شمولیت اختیار کرنے کے بعد کبھی آپ نے منان سے بات یاملاقات کی تھی؟

نہیں۔

انکاونٹر قبل آخری مرتبہ کوئی فون کال کیاتھا؟
نہیں۔ کچھ صحافی جنھوں نے ایجنسیوں سے بات کرنے کے بعد مجھ سے رجوع ہوئے تھے تاکہ منان تک رسائی کرسکیں مگر میں نے ایس ایس اور دیگر افیسروں کو پیغام روانہ کردیاتھا کہ میں کوئی مداخلت نہیں کرو ں گا۔ اس دوران انہوں نے پانچ گھنٹوں تک مجھے تحویل میں بھی رکھاتھا۔ ان کا مقصد ہراساں کرنا تھا۔ میں نے انہیں کہہ دیاتھا کہ میں ان کی کوئی مدد نہیں کروں گا۔

منان آپ کا چھوٹا بیٹا تھا
ہاں میرا چھوٹا بیٹا تھا ۔ میں نے آج اپنی ملکیت کھودی ہے ‘ ملکیت کھودی۔

اس نے کبھی دہشت گردی میں شمولیت اختیار کرنے کے متعلق بات کی تھی؟
وہ ایک اسلامک اسکالر تھا۔ جب افضل گرو کو پھانسی دی گئی تو اس نے مجھے اپنی برہمی ظاہر کی تھی۔ اسوقت ہمارے درمیان میں بات ہوئی تھی اور اس وقت وہ کافی برہم تھا۔ میں نے اس میں ایک تبدیلی محسوس کی تھی

موت کے بعد آپ نے اس کی نعش کو دیکھا؟
نہیں میں نے نہیں دیکھا۔ پولیس نے اس کو گولی ماری تھی‘ بعد میں مجھے بتایا وہاں پر کیاہوا تھا۔ انہوں نے کوئی سرکاری اعلان نہیں ہے

ایسا پولیس نے کیوں کیا‘ آپ کیاسمجھتے ہیں؟
میں نہیں جانتا۔ اس کو ایک روز مرنا تو تھا ہی‘ اس تشکیل شدہ اقبالیہ بیان کے پس منظرکو دیکھنے میں ناکام رہا۔

آپ کے گھر والوں کو اس کی موت پر کیاکہنا ہے؟
ہم کیاکرسکتے ہیں۔ میں نے اپنے ایک ملکیت کھوئی ہے۔ کوئی ضروری نہیں ہے کہ ہم نے کتنا کھویا ہے اور نہ کوئی اس کو واپس لاسکتا ہے۔ یہ حکم الہی ہے ۔ وہ صرف اللہ ہے جو ہمیں درد او رسکون دیتاہے۔ میں صرف اتنا کہہ سکتاہوں کہ اللہ صبر عطاء کرے۔ ایک مسلمان کوصابر ہونا چاہئے۔میں ہماری مستقبل کے نسل کیلئے پریشان ہوں‘ کیاہم اپنے قبرستان بھردیں؟۔ہمارے قائدین کو اسکے متعلق سونچنے کی ضرورت ہے۔ حالات اس قدر سنگین ہیں اگر میں ہجوم کو نہیں روکتا تو ‘ میں سمجھتا ہوں آج تدفین نہیں ہوپاتی۔ یہ انتہائی درد ناک لمحہ ہے

کیاہوا اس کی کچھ تفصیلات بتائیں؟
یہ ایک جذباتی دور ہے۔ یہ بڑی دیوانگی ہے۔ وہاں پر ایسا منظر تھا جس کو پہلے میں نے کبھی نہیں دیکھا۔ متعدد مرتبہ میں ڈر گیا۔ ایک عجوبے کی طرح تدفین انجام پائی۔ نعش کے اطراف واکناف میں کھڑے ہوکر لوگ رورہے تھے۔ ہم شہیدوں کے قبرستان میں اس کی تدفین کامنصوبہ بنایاتھا مگر ہمیں قریب کے دوسرے قبرستان میں تدفین کرنے پڑی

اس سال کے اوائل میں منان کے لکھے مضمون کا آپ نے مطالعہ کیا؟
اللہ کے کرم میں سے میں نے مطالعہ کیا‘مگر میںیہ نہیں کہہ سکتا کہ اس کوپورا میں نے سمجھا ہے۔ مگر اس کی قابلیت کامجھے اندازہ ضرور ہوگیا۔

کیاوہ ہمیشہ سے چاہتا تھا کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں پڑھائی کرے؟
جی ہاں‘ اس نے سری نگر کے امر سنگھ کالج سے گریجویشن پورا کیا اور یونیورسٹی آف کشمیر سے زیالوجی میں ماسٹر کی ڈگری کے امتحان میں اہل قراردیاگیا۔ اسکو دسواں رینک ملاتھا۔ جب اس نے علی گڑھ میں داخلہ کے لئے امتحان لکھا تو وہ دوسرے نمبر پر آیا۔ اس نے اپنا ماسٹرس اورایم فل اے ایم یو سے کیا او راسی سال ڈاکٹریٹ کی ڈگری سے بھی نوازا گیا۔ حال ہی میں نے اس کے ایک دوست سے ملاقات کی تھی جس نے مجھے بتایا کہ وہ اسٹنٹ پروفیسر کی نوکری کررہا ہے

Top Stories

TOPPOPULARRECENT