Thursday , December 13 2018

میں 12فیصد مسلم تحفظات پر قائم ہوں: کے سی آر، پارلیمنٹ میں ’’لڑائی‘‘ ہوگی

تحفظات مذہب پر نہیں بلکہ سماجی و معاشی پسماندگی کی بنیاد پر، ریاستوں کو تحفظات کا اختیار دیا جائے، انڈیا ٹوڈے کانکلیو میں چیف منسٹر کی شرکت
کانگریس اور بی جے پی سے یکساں دوری
 انتخابات میں کسی سے اتحاد کی ضرورت نہیں
 خاندانی حکومت نہیں بلکہ سارا تلنگانہ میرا خاندان
 قومی سیاست کے بجائے تلنگانہ عوام کی خدمت
…رشید الدین…
حیدرآباد۔ 18جنوری ۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر رائو نے مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات کے سلسلہ میں پارلیمنٹ کے بجٹ سیشن میں جدوجہد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ کے سی آر نے کہا کہ ان کی حکومت مسلمانوں کو مذہبی بنیادوں پر نہیں بلکہ سماجی اور معاشی پسماندگی کی بنیاد پر تحفظات فراہم کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے اور یہ معاملہ مرکز کی منظوری کے لیے رجوع کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کے مجوزہ بجٹ سیشن میں ان کی پارٹی تحفظات کے مسئلہ پر بڑی لڑائی لڑے گی۔ کے سی آر انڈیا ٹوڈے کے سائوتھ کانکلیو میں مشہور صحافی راج دیپ سردیسائی کے سوالات کا جواب دے رہے تھے۔ کے سی آر نے ریاستوں کے لیے 50 فیصد تحفظات کی حد کو نامناسب اور کمزور و پسماندہ طبقات سے ناانصافی قرار دیا۔ انہوں نے پرزور وکالت کی کہ مرکزی حکومت تحفظات کی فراہمی کا اختیار ریاستوں کو منتقل کردے تاکہ ہر ریاست آبادی میں پسماندہ طبقات کی تعداد کے اعتبار سے تحفظات فراہم کرسکے۔ تحفظات سے متعلق سوال پر کے سی آر نے کہا کہ تلنگانہ میں ایس ٹی طبقہ کی آبادی 10 فیصد ہے جبکہ متحدہ آندھرا میں یہ 6 فیصد تھی۔ اقلیتوں کی آبادی تقریباً 14 فیصد ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم نریندر مودی سے ملاقات کے دوران انہوں نے تحفظات کے مسئلہ پر تفصیل سے سمجھایا ہے۔ ہر ریاست کی آبادی میں پسماندہ طبقات کا فیصد مختلف ہے۔ لہٰذا مرکز کو چاہئے کہ وہ تحفظات فراہمی کے اختیارات ریاستوں کو حوالے کردے۔ تحفظات کی فراہمی کا اختیار مرکز کے بجائے ریاستوں کو دیا جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ جھارکھنڈ میں درج فہرست قبائل کی آبادی زیادہ ہے لیکن تحفظات کی حد صرف 50 فیصد ہے جس سے پسماندہ طبقات کے ساتھ ناانصافی ہوتی ہے۔ تلنگانہ میں آبادی کا 90 فیصد ایس سی، ایس ٹی، بی سی اور اقلیتوں پر محیط ہے جبکہ صرف 10 فیصد دیگر طبقات ہیں۔ ایسی ریاست میں صرف 50 فیصد تحفظات سے کس طرح عوام کو مطمئن کیا جاسکتا ہے۔ مرکزی حکومت کے لیے یہ مناسب رہے گا کہ وہ ریاستوں کو 50 فیصد کی شرط سے اضافہ کی اجازت دے۔ کے سی آر نے کہا کہ ان کا یہ بیان کوئی متنازعہ نہیں ہے بلکہ وہ حقیقت کا اظہار کررہے ہیں کیوں کہ 50 فیصد کی شرط پسماندہ اور کمزور طبقات سے ناانصافی کے مترادف ہے۔ بجٹ سیشن میں ہم اس مسئلہ پر بڑی لڑائی لڑیں گے اور آپ دیکھیں گے کہ ہم کیا کرتے ہیں۔ کے سی آر نے کہا کہ اس طرح کے اظہار خیال سے وہ خوف زدہ نہیں بلکہ ان کا یہ احساس ہے کہ جو کوئی بھی ان کے نظریات کی تائید نہیں کرے گا وہ خطرے میں رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ تحفظات کسی ایک ریاست کا مسئلہ نہیں ہے۔ پڑوسی ریاست تاملناڈو میں 69 اور مہاراشٹرا میں 52 فیصد تحفظات پر عمل کیا جارہا ہے۔ تاملناڈو کو کس طرح اجازت دی گئی اور میں اپنے عوام کو کیا جواب دوں گا؟ انہوں نے کہا کہ تحفظات مذہب یا طبقات کی بنیاد پر نہیں بلکہ پسماندگی کی بنیاد پر ہے۔ یہ پوچھے جانے پر کہ مسلمانوں کو مذہب کی بنیاد پر کس طرح تحفظات فراہم کیے جاسکتے ہیں؟ کے سی آر نے کہا کہ حکومت نے اسمبلی میں جو بل منظور کیا ہے اس میں مسلمان کا ذکر نہیں بلکہ سماجی اور معاشی پسماندگی کی بنیاد پر تحفظات کی تجویز رکھی گئی ہے۔ مرکز اور ریاستوں کو چاہئے کہ وہ تحفظات کے مسئلہ پر واضح نظریہ اختیار کرتے ہوئے مستحق افراد کو اس کے فوائد پہنچائیں۔ سونیا گاندھی سے تلنگانہ کے حصول کے لیے اور پھر حکومت کے قیام کے بعد نریندر مودی کے ساتھ بہتر تعلقات سے متعلق سوال پر کے سی آر نے کہا کہ ان کی اولین ترجیح ریاست کا مفاد ہے اور ریاست کے مفاد کے لیے ہر کسی سے بہتر تعلقات میں کوئی برائی نہیں بلکہ یہ ضرورت ہے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ کانگریس اور بی جے پی سے وہ یکساں دوری اختیار کیے ہوئے ہیں۔ کرپشن کے الزامات پر کے سی آر نے کہا کہ الزامات عائد کرنا اور حکومت پر حملے کانگریس کا فیشن بن چکا ہے۔ کون کرپٹ ہے اور کون نہیں، عوام اچھی طرح جانتے ہیں۔ آئندہ انتخابات میں یو پی اے یا این ڈی اے سے اتحاد سے متعلق سوال پر کے سی آر نے کہا کہ ہم آزاد ہیں اور آزاد رہنا چاہتے ہیں۔ ہمیں کسی کے پاس جانے کی ضرورت نہیں۔ کوئی ہمارے ساتھ آسکتا ہے لیکن ہم کسی کے پاس نہیں جائیں گے۔ چیف منسٹر نے خاندانی حکمرانی کے الزامات کو بھی سختی سے مسترد کردیا اور کہا کہ میرا خاندان سارا تلنگانہ ہے اور تلنگانہ کا ہر شہری میرے خاندان کا رکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ نظام کے دور حکومت میں حیدرآباد دولتمند ریاست تھی اور آج تلنگانہ ریاست بھی دولتمند ریاست بن چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہلی کی سیاست میں کوئی دلچسپی نہیں وہ تلنگانہ میں ہی رہیں گے اور عوام کی خدمت کرتے ہوئے ملک کو نمبر ون ریاست بنانا ان کی ترجیح ہوگی۔ نئے سکریٹریٹ کی تعمیر سے متعلق سوال پر کے سی آر نے کہا کہ واستو کی بنیاد پر یہ فیصلہ نہیں کیا گیا بلکہ موجودہ سکریٹریٹ کسی منصوبے کے بغیر اور کافی بری حالت میں ہے لہٰذا وہ 250 کروڑ کے خرچ سے خوبصورت اور عصری سکریٹریٹ تعمیر کرنا چاہتے ہیں۔ ملیشیاء کے ایک وزیر نے سکریٹریٹ دیکھنے کے بعد انہیں مشورہ دیا تھا کہ یہ اراضی فروخت کرتے ہوئے نئی عمارتیں تعمیر کریں۔ انہوں نے کہا کہ پرگتی بھون ان کی ذاتی رہائش گاہ نہیں بلکہ یہ چیف منسٹر کی قیام گاہ ہے اور یہ آئندہ 100 سال تک رہے گی۔ کے سی آر کے بعد جو بھی چیف منسٹر آئیں گے وہ اسی عمارت میں قیام کریں گے۔ پرگتی بھون میں چیف منسٹر کی رہائش کے علاوہ عوام سے ملاقات اور عہدیداروں سے اجلاس کے لیے علیحدہ عمارتیں تعمیر کی گئی ہیں۔
TOPPOPULARRECENT