Thursday , November 15 2018
Home / Top Stories / می ٹو مہم کا اثر: ایم جے اکبر مستعفی

می ٹو مہم کا اثر: ایم جے اکبر مستعفی

ایک درجن خاتون صحافیوں کی جانب سے جنسی ہراسانی کے الزامات کے بعد فیصلہ
نئی دہلی۔ 17 اکتوبر (سیاست ڈاٹ کام) ایم جے اکبر جنہیں جنسی ہراسانی کے کئی الزامات کا سامنا ہے، مرکزی وزیر مملکت برائے خارجی اُمور کے عہدہ سے مستعفی ہوگئے۔ انہوں نے کہا کہ چنانچہ میں نے اپنا وزیر مملکت برائے خارجی امور کے عہدہ سے استعفیٰ پیش کردیا ہے۔ میں وزیراعظم نریندر مودی کا تہہ دل سے مشکور ہوں اور وزیر خارجہ سشما سوراج سے مجھے ملک کی خدمت کا یہ موقع دینے پر اظہار تشکر کرتا ہوں۔ ایم جے اکبر کو جنسی ہراسانی کے الزامات کا سامنا ہے، انہوں نے منگل کے دن ایک ہتک عزت دعویٰ صحافی پریہ رمنی کے خلاف دائر کیا تھا جنہوں نے سب سے پہلے ان کے خلاف خبر دی تھی۔ ایم جے اکبر کے استعفیٰ پر خواتین کو دھوکہ دہی کا احساس ہورہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس دن کے منتظر ہیں جبکہ انہیں عدالت سے انصاف حاصل ہوگا۔ دریں اثناء اکبر کے وکیل صفائی سندیپ کپور نے کہا کہ خانگی ہتک عزت دعویٰ کی سماعت جمعرات کے دن 18 اکتوبر کو ایڈیشنل چیف میٹرو پولیٹن مجسٹریٹ ثمر وشال کپور کے اجلاس پر مقرر ہے کیونکہ معاملہ عدالت میں زیردوران ہیں۔ اس لئے انہیں یقین ہے کہ قانون اپنا کام کرے گا۔ 67 سالہ ایم جے اکبر نے می ٹو مہم کے زور پکڑنے کے بعد یہ فیصلہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ جب سے میںنے اپنی ذاتی گنجائش کے مطابق قانون کی عدالت میں انصاف حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے لہٰذا مجھے اپنے عہدہ سے استعفیٰ دینا ہی مناسب تھا۔ میں نے اپنے خلاف لگائے جانے والے جھوٹے الزامات کو چیلنج کیا ہے۔ لہٰذا میں مملکتی وزیر خارجہ کی حیثیت سے استعفیٰ دے دیا ہوں۔ انہوں نے صحافی پریہ رمنی پر دہلی عدالت میں ہتک عزت کا فوجداری مقدمہ دائر کیا ہے۔ ان کے خلاف الزامات عائد کرنے کے بعد صورتحال سنگین ہوگئی ہے۔ اس کیس کی سماعت کل جمعرات کو دہلی میں کی جائے گی۔ پریہ رمنی نے ایم جے اکبر کے استعفیٰ کا خیرمقدم کیا ہے۔ خواتین کی حیثیت سے ہم یہ محسوس کرتے ہیں کہ ایم جے اکبر کا یہ استعفیٰ ہمارے موقف کو ثابت کرتا ہے۔ میں اس دن کا انتظار کررہی ہوں جب ہمیں عدالت میں انصاف حاصل ہوگا۔ این ڈی اے حکومت پر ایم جے اکبر کو برطرف کرنے کیلئے دباؤ پڑ رہا تھا۔ ایم جے اکبر نے کہا کہ ان پر لگائے گئے الزامات بے بنیاد اور بدنام کرنے کیلئے ہیں۔ 2019ء لوک سبھا انتخابات سے قبل اس سیاسی سازش کے تحت ان پر الزامات عائد کئے گئے ہیں۔ بھارتیہ جنتا پارٹی جس نے ابتدائی طور پر اس مسئلہ پر خاموشی اختیار کی تھی اب خود اکبر سے دوری اختیار کرچکی ہے۔ اس نے دعویٰ کیا تھا کہ اکبر کے ساتھ پیش آئے واقعات تاریخ اور وقت اس وقت کے ہیں جب وہ پارٹی کے رکن نہیں تھے۔ پارٹی نے یہ بھی کہا تھا انہیں بدنام کرنے کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔ صدر بی جے پی امیت شاہ نے تاہم کہا تھا کہ اکبر پر لگائے گئے الزامات اور اس کی اہمیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ وزیربہبود خواتین و اطفال منیکاگاندھی نے کہا کہ کام کے مقام پر جنسی ہراسانی کیس کی واحد شکایت پر مجھے تکلیف ہوتی ہے لیکن یہاں تو بہت بڑا معاملہ ہے۔ اس مسئلہ پر تبصرہ کرنے سے کئی بی جے پی قائدین اور ارکان پارلیمنٹ نے گریز کیا۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT