Saturday , May 26 2018
Home / شہر کی خبریں / م400مقدمات میں وقف بورڈ کا حلف نامہ داخل نہیں کیا گیا

م400مقدمات میں وقف بورڈ کا حلف نامہ داخل نہیں کیا گیا

صدرنشین وقف بورڈ کی برہمی، ماہرین کی خدمات حاصل کرنے کی ہدایت
حیدرآباد۔/16ڈسمبر، ( سیاست نیوز) اوقافی جائیدادوں کے تحفظ میں وقف بورڈ کی عدم دلچسپی اور لاپرواہی کے بارے میں یوں تو کہنے کی ضرورت نہیں ہے لیکن آج صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم کو اس وقت عہدیداروں پر برہمی کا اظہار کرنا پڑا جب اس بات کا پتہ چلا کہ 400 سے زائد مقدمات میں وقف بورڈ نے طویل عرصہ سے حلف نامہ داخل نہیں کیا ہے۔ وقف بورڈ کے لیگل ڈپارٹمنٹ اور اسٹینڈنگ کونسلس کا اجلاس آج وقف بورڈ میں منعقد ہوا جس میں صدرنشین محمد سلیم کو بتایا گیا کہ بورڈ کی جانب سے عدالتوں میں حلف ناموں کے ادخال کا سلسلہ انتہائی سست ہے۔ ہائی کورٹ اور تحت کی عدالتوں میں وقف مقدمات کی پیروی کرنے والے وکلاء نے شکایت کی کہ مقدمات کی یکسوئی میں تاخیر کا اہم ذمہ دار وقف بورڈ کا لیگل ڈپارٹمنٹ ہے جو کاؤنٹرس تیار کرنے میں تاخیر سے کام لیتا ہے۔ سپریم کورٹ، ہائیکورٹ، ٹریبونل اور تحت کی دیگر عدالتوں میں 400 سے زائد ایسے مقدمات ہیں جن میں جوابی حلف نامہ داخل کرنا باقی ہے۔ وکلاء نے کہا کہ جب کبھی وہ کاؤنٹر کے سلسلہ میں وقف بورڈ سے ربط قائم کرتے ہیں تو انہیں مایوسی ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ مقدمات کی پیروی کیلئے درکار دستاویزات سربراہ نہیں کئے جاتے۔ محمد سلیم نے عہدیداروں پر برہمی کا اظہار کیا اور چیف ایکزیکیٹو آفیسر منان فاروقی کو ہدایت دی کہ وہ لیگل ڈپارٹمنٹ کے ساتھ ملکر جوابی حلف نامے تیار کرنے میں مصروف ہوجائیں۔ انہوں نے اس کام کیلئے 2 عہدیداروں کو خصوصی طور پر مقرر کرنے کی ہدایت دی۔ اس کے علاوہ ریٹائرڈ ججس اور ماہرین قانون کی خدمات بھی عارضی طور پر حاصل کی جاسکتی ہیں تاکہ جوابی حلف نامے فوری عدالتوں میں داخل کئے جاسکیں۔ صدر نشین وقف بورڈ نے عدالتوں میں مقدمات کی پیشرفت اور جوابی حلف ناموں کے ادخال کے بارے میں انہیں وقتاً فوقتاً رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی۔ اس کے علاوہ اسٹینڈنگ کونسلس سے مکمل تعاون کی ہدایت دی گئی۔ محمد سلیم نے کہا کہ جو بھی عہدیدار اور ملازم اپنی ذمہ داری سے غفلت برتیں گے ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ اجلاس میں عید گاہ گٹلہ بیگم پیٹ کے اعلامیہ کی اجرائی اور دیگر اہم اراضیات کے مقدمات کی پیشرفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔ صدر نشین وقف بورڈ نے اسٹینڈنگ کونسلس کی تعداد میں ضرورت پڑنے پر اضافہ کرنے اور ان کے معاوضہ میں اضافہ کی سفارش کی۔

TOPPOPULARRECENT