Thursday , February 22 2018
Home / جرائم و حادثات /  م8ماہ کی حاملہ خاتون کے قتل کا معمہ حل

 م8ماہ کی حاملہ خاتون کے قتل کا معمہ حل

آشنا کے ساتھ دوسری خاتون کا رہنا داشتہ کو برداشت نہیں ہوا
حیدرآباد /13 فروری ( سیاست نیوز ) سائبرآباد پولیس نے بوٹانیکل گارڈن سنسنی خیز قتل کیس کے معمہ کو حل کرلیا ہے ۔ 8 ماہ کی حاملہ خاتون کے وحشیانہ انداز میں قتل اور سنسنی کے ذریعہ خاتون کی نعش کو ٹکڑے کرنے کے معاملہ میں پولیس نے ایک خاندان کے تین افراد ایک خاتون کل 4 افراد کو گرفتار کرلیا ۔ سائبرآباد پولیس کمشنر مسٹر سندیپ شنڈالیہ ایک پریس کانفرنس کے دوران یہ بات بتائی ۔ پولیس نے ایڑی چوٹی کا زور لگاتے ہوئے اس کیس کو حل کیا ۔ 28 جنوری کے دن قتل اور 30 جنوری کے دن نعش کو دو تھیلوں میں باندھ کر راستہ میں پھینک دیا گیا تھا ۔ پولیس نے اس کیس کی وجوہات کو بتایا جو حیرت انگیز ہیں ۔ یہ قتل کی اصل سازش و سرغنہ خاتون ہیں جو اپنے آشنا کے ساتھ دوسری خاتون کو برداشت نہیں کرپائی اور اپنے آشنا کی دوسری داشتہ کے قتل میں شوہر اور بیٹے کو بھی شامل کرلیا ۔ یہ سب ایک ہی چھت کے نیچے جاری تھا اور ساری سازش قتل میں خاتون کا نوجوان بیٹا اور ضعیف شوہر بھی شامل تھا ۔ پولیس کمشنر نے بتایا کہ جس خاتون کا قتل کیا گیا اس کی شناخت 32 سالہ بنگی عرف پنکی کی حیثیت سے کرلی گئی ہے جو اپے کمسن لڑکے کے ساتھ بہار سے حیدرآباد منتقل ہوگئی تھی ۔ خاتون اپنے آشنا 35 سالہ وکاس کشن کی تلاش میں آئی تھی اور اس کے ساتھ ہی رہنے لگی تھی ۔ جو 45 دن قبل شہر آئی تھی جبکہ وکاس کشن اپنی پہلی داشتہ 37 سالہ ممتا جاہ جو اس قتل کیس کی اصل سازش و سرغنہ ہے کہ ہمراہ رہتا تھا اور اس مکان میں ممتا جاہ کا شوہر انیل جاہ 79 سالہ اور بیٹا امرکانت جاہ 21 سال بھی رہتا تھا ۔ اچانک پنکی کی آمد سے ممتا پریشان ہوگئی اور اس نے ایک منصوبہ تیار کیا ۔ پنکی 8 ماہ کی حاملہ تھی ۔ جو کسی بھی صورت وکاس کشن کو نہیں چھوڑنا چاہتی تھی اور اس کیلئے بہار سے حیدرآباد آئی تھی ۔ ممتا نے معاشی تنگی اور اخراجات کے بوجھ کا بہانہ بناکر جھگڑا شروع کیا اور موقع کی تلاش میں تھی اس خاتون نے قتل کی سازش میں اس کے بیٹے اور شوہر کو بھی شامل کرلیا ۔ 28 جنوری کے دن اس 8 ماہ کی خاتون کو بری طرح زدوکوب کیا گیا ۔ جو مارپیٹ کو تاب نہ لاکر فوت ہوگئی ایک دن خاتون کی نعش کو مکان میں رکھا گیا اور دوسرے دن کٹر مشین کے ذریعہ اس خاتون کی نعش کے ٹکڑے کئے گئے اور تھیلے میں باندھ کر بوٹانیکل گارڈن میں پھینک دیا گیا ۔ پولیس نے اس سلسلہ میں صدیق نگر اور انجیا نگر میں کارڈن سرچ آپریشن بھی کیا لیکن اس دوران سامنے موجود مجرمین کو پہچان نہیں سکے ۔ سی سی ٹی وی کیمروں اور موٹر سائیکل کی مدد سے پولیس قاتلوں تک پہونچ گئی ۔ پنکی کی شادی 15 سال قبل دنیش سے ہوئی تھی اور اس سے دو بچے ایک لڑکا ایور ایک لڑکی ہے ۔ پنکی نے ازدواجی تعلقات میں دوری کے بعد لڑکی کو شوہر کے حوالے کرتے ہوئے علحدگی اختیار کرلی اور اپنے والد کے پاس چلی گئی ۔ غریب والد کی مالی حالت سے یہ خاندان پریشانی کا شکار تھا ۔ اس دوران پنکی جنوری سال 2017 میں وکاس کشن اور پنکی کی ملاقات ہوئی ۔ پولیس نے اس سنسنی خیز قتل کیس میں ملوث افراد کو گرفتار کرلیا ہے اور انہیں جیل منتقل کردیا ۔ اس پریس کانفرنس میں جوائنٹ کمشنر سائبرآباد مسٹر شاہنواز قاسم و دیگر موجود تھے ۔

TOPPOPULARRECENT