Tuesday , June 19 2018
Home / شہر کی خبریں / نئی تعلیمی پالیسی ، اسکولس کے لیے تکلیف کا باعث

نئی تعلیمی پالیسی ، اسکولس کے لیے تکلیف کا باعث

سرکاری مدارس پر منفی اثر مرتب ہونے کے امکانات ، چھٹویں تا دسویں پراجکٹ کی بنیاد پر نشانات
حیدرآباد۔19فروری(سیاست نیوز) حکومت کی نئی تعلیمی پالیسی اسکولوں کے لئے تکلیف کا باعث بنی ہوئی ہے اور اس پالیسی کا سرکاری اسکولوں پر مثبت کے بجائے منفی اثر پڑنے لگا ہے اور کہا جا رہاہے کہ آئندہ دو برسوں کے دوران اسکول ردی کے ڈھیر میں تبدیل ہونے لگ جائیں گے کیونکہ ابھی سے کئی اسکولو ںمیں ایک سے زائد کمروں میں ردی جمع ہونے لگی ہے جس کی وجہ سے طلبہ کو بٹھانے میں بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہاہے۔ حکومت تلنگانہ نے 6ویں جماعت سے 10ویں جماعت تک جو پراجکٹ کی بنیاد پر نشانات کا فیصلہ کیا ہے اور طلبہ کی جانب سے تیار کردہ پراجکٹس کو محفوظ رکھنے کی ہدایت جاری کی ہے وہ اسکول انتظامیہ کی مشکلات میں اضافہ کا سبب بن رہی ہیں کیونکہ انہیں طلبہ کی جانب سے جمع کئے جانے والے پراجکٹس کو محفوظ رکھنا لازمی قرار دیا گیا ہے اور کہا جا رہاہے کہ کسی بھی وقت یہ ریکارڈس طلب کئے جاسکتے ہیں۔ طلبہ کی جانب سے داخل کئے جانے والے ریکارڈ س جن کی بنیاد پر نشانات دیئے جارہے ہیں ان کو محفوظ رکھنا ضروری بھی ہے کیونکہ ان کے ان ریکارڈس کی بناء پر ہی انہیں نشانات دیئے جا رہے ہیں اور کہا جا رہاہے کہ اسکول کی جانب سے دئے جانے والے ان نشانات کی محکمہ کی جانب سے کسی بھی وقت عہدیدار تنقیح کرسکتے ہیں۔ سرکاری اسکولوں کے ذمہ داروں نے محکمہ تعلیم کے عہدیداروں کو اس تکلیف سے واقف کرواتے ہوئے کہا کہ ان ریکارڈس کو محفوظ کرنا مشکل ہونے لگا ہے کیونکہ سرکاری اسکولوں میں ان ریکارڈس کو جمع رکھنے کیلئے انہیں الماریوں وغیرہ کی ضرورت پڑتی ہے اور یہ سب نہ ہونے کے سبب ریکارڈس اندرون ایک برس ہی تباہ ہونے لگے ہیں۔ محکمہ تعلیم کے عہدیداروں نے بتایا کہ اس تکلیف کا انہیں بھی اندازہ ہے لیکن نئی تعلیمی پالیسی میں فوری طور پر کوئی تبدیلی کے آثار نہیں ہے اسی لئے اسکول انتظامیہ کو ان ریکارڈس کو محفوظ رکھنے کے اقدامات یقینی بنانے چاہئے ۔ ریاستی حکومت کی جانب سے نئی تعلیمی پالیسی اور اسکول کی جانب سے نشانات کی پالیسی کا مقصد طلبہ میں تعلیمی صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ تخلیقی صلاحیتوں کو بھی بہتر بنانا ہے اور اسکول میں اساتذہ کی جانب سے دیئے جانے والے نشانات پر کسی کو اعتراض نہ ہو اس کیلئے یہ ریکارڈس محفوظ رکھنا ناگزیر ہے۔ سرکاری اسکولوں کے ذمہ داروں کا کہنا ہے کہ اگر ان ریکارڈ س کو محفوظ رکھنے کے اقدامات کرنا لازمی ہے تو محکمہ تعلیم کو تمام اسکولوں سے یہ ریکارڈس طلب کرتے ہوئے ان کے اپنے پاس جمع کرنا چاہئے تاکہ اسکولوں میں ان ریکارڈس کو محفوظ رکھنے میں ہونے والی دشواریوں کو دور کیا جا سکے۔

TOPPOPULARRECENT