Monday , December 11 2017
Home / Top Stories / نئی دہلی میں صحافیوں کا احتجاجی مظاہرہ حملہ آوروں کے خلاف سخت کارروائی کرنے وزیر داخلہ سے مطالبہ

نئی دہلی میں صحافیوں کا احتجاجی مظاہرہ حملہ آوروں کے خلاف سخت کارروائی کرنے وزیر داخلہ سے مطالبہ

نئی دہلی ۔ 16 ۔ فروری : ( سیاست ڈاٹ کام ) : صحافیوں کی کثیر تعداد نے آج پٹیلہ ہاوز کورٹ میں میڈیا کے نمائندوں پر حملوں کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا جو کہ غداری کے کیس میں گرفتار جواہر لال نہرو یونیورسٹی طلباء یونین صدر کنہیا کمار کی پیشی کی سماعت کا مشاہدہ اور فلمبندی کے لیے گئے ہیں ۔ احتجاجیوں نے حملہ آوروں کے خلاف سخت کارروائی کا بھی مطالبہ کیا ۔ مختلف اخبارات اور نیوز چیانلوں سے وابستہ صحافیوں نے پریس کلب سے سپریم کورٹ تک احتجاجی جلوس نکالا اور اظہار خیال کی آزادی کی حمایت اور کل کے واقعات کے دوران پولیس کی بے عملی کے خلاف نعرے بلند کئے گئے ۔ بعد ازاں صحافیوں کے ایک وفد نے وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ سے ملاقات کی اور پٹیلہ ہاوز کورٹ کامپلکس میں پیش آئے واقعات کی تحقیقات اور حملہ آوروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ۔ جرنلسٹوں نے طلباء اور رپورٹرس پر حملہ کے وقت پولیس کی خاموشی پر سوال اٹھایا اور اس واقعہ کو عدالت کی توہین سے تعبیر کیا کیوں کہ یہ واقعہ عدالت کے احاطہ میں پیش آیا ہے ۔ واضح رہے کہ جرنلسٹوں اور جے این یو طلباء اور اساتذہ پر کل وکلاء کے ایک گروپ نے زد وکوب کیا تھا ۔ جس پر میڈیا نے زبردست تنقید شروع کردی تھی گوکہ وزیر داخلہ نے پولیس کی تساہلی کی تحقیقات کا تیقن دیا تھا جو کہ پرتشدد واقعات کے دوران خاموش تماشائی تھی ۔ جرنلسٹس یونین نے کہا کہ میڈیا کے نمائندوں پر حملوں میں اضافہ تشویشناک بن گیا ہے ۔ جب کہ پولیس نے بتایا کہ نامعلوم افراد کے خلاف 2 ایف آئی آر درج کرلیے گئے ہیں ۔۔

 

وکلاء کے حملہ میں خاتون جرنلسٹس بھی زخمی
دہلی پولیس کی بے عملی پر وزیر داخلہ سے شکایت
نئی دہلی۔/16فبروری، ( سیاست ڈاٹ کام ) خاتون صحافیوں کے ایک وفد نے آج وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ سے مطالبہ کیا کہ ان افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے جنہوں نے کل یہاں عدالت کے احاطہ میں برادری کے ارکان پر حملہ کردیا تھا۔ انڈین ویمنس پریس کارپس کے وفد نے وزیر داخلہ سے یہ شکایت کی کہ پٹلہ ہاوز کورٹ میں کل وکلاء کے ایک گروپ نے صحافیوں کو ماربھگایا تھا تاکہ انہیں فرائض کی ادائیگی ( کوریج ) سے روکا جاسکے اور حملہ آوروں کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے پولیس خاموش تماشہ دیکھ رہی تھی۔ اس واقعہ پر پولیس کو جوابدہ بنانے پر زور دیا۔ انہوں نے بتایا کہ خاتون صحافیوں کو بھی بخشا نہیں گیا ۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ دہلی پولیس کے اہلکاروں نے حملے جاری رہنے پر بھی بے عملی کا مظاہرہ کیا۔ مذکورہ وفد میں تنظیم کی صدر ٹی کے راجیہ لکشمی، جنرل سکریٹری رویندر باوا اور نائب صدر شوبھنا جین شامل تھے۔ مذکورہ وفد نے حملہ میں زخمی صحافیوں کو اپنے ساتھ لایا تھا اور وزیر داخلہ سے مطالبہ کیا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج کا مشاہدہ کرتے ہوئے حملہ آوروں کے خلاف کیس درج کیا جائے۔ جس پر وزیر داخلہ نے ملزمین کے خلاف ضروری کارروائی کا تیقن دیا ہے۔

 

 

TOPPOPULARRECENT