Wednesday , October 17 2018
Home / Top Stories / نئی دہلی میں فضائی آلودگی ایمرجنسی کے تیسرے دن آلودگی میں کمی

نئی دہلی میں فضائی آلودگی ایمرجنسی کے تیسرے دن آلودگی میں کمی

انسدادی اقدامات وقتی طور پر معطل ، طاق ۔ جفت اسکیم کا اگلے ہفتے احیاء ، تحفظ ماحولیات کیلئے 20 مراکز کاقیام

نئی دہلی ۔ 9 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) قومی دارالحکومت نئی دہلی میں فضائی آلودگی ایمرجنسی کے تیسرے دن آج آلودگی میں کچھ کمی ہوئی جس کی وجہ سے مقامی حکومت سابقہ طاق ۔ جفت فارمولے کی 13 نومبر سے ایک ہفتہ کے لئے دوبارہ نافذ کرنے کے اعلان پر مجبور ہوگئی۔ کار راشننگ اسکیم کے تحت 2016ء میں نئی دہلی میں ایک دن طاق نمبر والی اور دوسرے دن جفت نمبر والی کاریں اور موٹر سیکلیں چلائی گئی تھیں۔ یہ اسکیم 13 تا 17 نومبر 8 بجے صبح تا 8 بجے شب نافذ رہیگی۔ دہلی وزیرٹرانسپورٹ کیلاش گہلوٹ نے اس کا اعلان کیا۔ خاتون ڈرائیورس موٹر سیکلوں اور گاڑیوں کو جن میں بچے اسکول یونیفارمس میں ملبوس سفر کررہے ہوں اور انتہائی اہم شخصیات کو اس اسکیم کے دائرہ سے باہر رکھا گیا ہے۔ ایسی کاریں جن کا رجسٹریشن نمبر طاق عدد پر ختم ہوتا ہو طاق نمبر کی گاڑیوں کے دن اور جن کاروں کا نمبر جفت عدد پر ختم ہوتا ہو، جفت تواریخ کے دنوں میں چلائی جاسکیں گی۔ علاوہ ازیں تجارتی گاڑیاں جن کی نمبر پلیٹیں زرد ہوں گی، اس اسکیم کے تحت نہیں آئیں گی۔ دریں اثناء پورے شہر میں تعلیمی ادارے بند کردیئے گئے ہیں اور تعمیراتی سرگرمیاں کئی مقامات پر انسداد اقدامات کے تحت جن کا اعلان کل کیا گیا تھا، روک دی گئی ہیں کیونکہ شہر پر زہریلی کہر منڈلارہی تھی، جس کی شدت میں آج کمی واقع ہوئی، مرکزی آلودگی کنٹرول بورڈ نے فضائی عیار کی فہرست پر آلودگی کو 500 میں سے 486 کی سطح پر درج کیا۔ پڑوسی علاقوں فریدآباد، غازی آباد، نوئیڈا اور گڑگاؤں بھی ہنگامی حالات کے زمرہ میں شامل تھے۔ ہر گھنٹہ آلودگی کی سطح ریکارڈ کی جارہی ہے۔ شدت کے ارتکاز کی وجہ سے ہنگامی حالات پیدا ہوگئی تھے۔ اقل ترین درجہ حرارت میں نمی کی وجہ سے کمی واقع ہوئی۔ ہوا میں تیرنے والے آبی خطرے زیادہ وزنی ہوگئے اور زمین پر برسنے لگے۔ بورڈ کی ایک ٹاسک فورس کا اجلاس اقدامات کا جائزہ لینے کیلیئے اور جوابی لائحہ عمل تیار کرنے کیلئے منعقد کیا گیا تھا جس میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ ہفتہ کے دن صورتحال انتہائی ابتر تھی جبکہ اب صورتحال میں بہتری پیدا ہوئی ہے۔ طاق ۔ جفت اسکیم کے علاوہ دیگر اقدامات کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی جن کی تجویز دہلی حکومت کے فیصلہ کے بعد کی گئی تھی۔ اہم کمیٹی نے جو طاق ۔ جفت اسکیم پر عمل آوری کی نگرانی کرے گی اس کا فیصلہ کرے گی کہ کیا مزید انسدادی اقدامات کی ضرورت ہے۔ گہلوٹ نے کہا کہ حکومت نے ڈی ٹی سی کو ہدایت دی ہیکہ خانگی ٹھیکیداروں سے 500 بسیں کرایہ پر حاصل کی جائیں تاکہ طاق ۔ جفت ہفتہ کے دوران مسافرین کے ہجوم کو منتقل کیا جاسکے۔ دہلی میٹرو نے بھی تیقن دیا ہیکہ اس مدت کے دوران 100 چھوٹی بسیں فراہم کی جائیں گی۔ اس ملک کو آزادی ہوگی کہ رضاکارانہ طور پر اپنی بسیں فراہم کریں۔ تاہم کسی قسم کا جبر نہیں کیا جائے گا۔ سی این جی گاڑیاں اس سے مستثنیٰ رہیںگی۔ ان پر اسٹیکرس کی موجودگی ضروری ہوگی۔ یہ گاڑیاں 22 آئی جی ایل گیس اسٹیشن پر پوری دہلی میں کل دوپہر 2 بجے سے دستیاب رہیں گی۔ قومی گرین ٹریبونل نے تعمیراتی اور صنعتی سرگرمیوں پر، لاریوں کے داخلے پر امتناع عائد کردیا ہے تاکہ حکومت دہلی اور مجالس مقامی کو صورتحال پر قابو پانے میں مدد ملے۔ یوپی، پنجاب، راجستھان اور ہریانہ کی ریاستوں کو بھی ہدایت دی گئی ہیکہ اس بات کو یقینی بنائے کہ بھوسی جلائی نہیں جاتی اور کاشتکاروں کو ترغیبات کی پیشکش کی گئی ہے۔ دہلی ہائیکورٹ نے حکومت سے خواہش کی ہیکہ ’’کلاوڈ سیڈنگ‘‘ کے متبادل طریقہ پر غور کرے تاکہ مصنوعی بارش برسائی جاسکے اور ماحول بہتر بنایا جاسکے۔ عدالت نے بھی تجویز پیش کی ہیکہ طاق ۔ جفت اسکیم کا احیاء کیا جاسکتا ہے۔ اس کے چند ہی گھنٹے بعد حکومت نے اعلان کیا۔ قومی انسانی حقوق کمیشن نے مرکزی اور ریاست دہلی، پنجاب اور ہریانہ کو نوٹسیں روانہ کی تھیں کیونکہ اس علاقہ میں آلودگی کی سطح مہلک ہوچکی تھی جس کی وجہ سے عہدیدار اس آفت سے نمٹنے کیلئے مناسب اقدامات پر مجبور ہوگئے تھے۔ انسانی حقوق کمیشن اور عدالت نے دونوں حکومتوں کو انتباہ دیا کہ حق زندگی اور حق صحت کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اقدامات بروقت کیوں نہیں کئے گئے۔ وزیر ماحولیات نے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم کی تاکہ فضائی آلودگی کے حل کی نگرانی کی جاسکے اور تجاویز پیش کی جاسکیں۔ 7 رکنی کمیٹی کے معتمد ماحولیات ہیں۔ انہوں نے مختصر مدتی اور طویل مدتی اقدامات کئے ہیں تاکہ باقاعدہ وقفوں سے امن کیلئے ایک منصوبہ تیار کیا جاسکے اور اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ مختلف آلودگی پر قابو پانے کے اقدامات بروقت کئے جائیں۔ نئے فضائی نگرانی کے 20 اسٹیشنس دہلی میں قائم کرنے کے بعد افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف منسٹر دہلی اروند کجریوال نے واضح کیا کہ مرکز، ہریانہ، پنجاب اور دہلی کی حکومتوں کو اپنے سیاسی اختلافات بالائے طاق رکھتے ہوئے متحد ہوکر اس خطرناک صورتحال کی یکسوئی کرنی چاہئے۔

TOPPOPULARRECENT