Wednesday , June 20 2018
Home / Top Stories / نئی ریاست تلنگانہ میں مسلمان فراست اور تدبر کا مظاہرہ کریں

نئی ریاست تلنگانہ میں مسلمان فراست اور تدبر کا مظاہرہ کریں

پسماندگی کو دور کرنے منظم اور مبسوط لائحہ عمل ضروری ، ادارہ سیاست میں جلسہ ، جناب زاہد علی خاں کی گلپوشی

پسماندگی کو دور کرنے منظم اور مبسوط لائحہ عمل ضروری ، ادارہ سیاست میں جلسہ ، جناب زاہد علی خاں کی گلپوشی

حیدرآباد ۔ 18 ۔ فروری : ( راست ) : تلنگانہ بل کی کامیابی پر آج شام ادارہ سیاست میں ایک جلسہ منعقد کیا گیا جس میں شہر حیدرآباد کے مختلف علاقوں سے عمائدین سیاسی قائدین دانشوران علماء کرام وکلاء صاحبین فن کشتی سے تعلق رکھنے والے پہلوان اور نوجوانان ملت نے کثیر تعداد میں شرکت کی ۔ اس موقع پر جناب زاہد علی خاں ایڈیٹر سیاست ، جناب ظہیر الدین علی خاں مینجنگ ایڈیٹر ، جناب عامر علی خاں نیوز ایڈیٹر اور جناب عثمان بن محمد الہاجری صدر دکن وقف پروٹیکشن سوسائٹی ، جناب محمد عبدالقدوس غوری ایڈوکیٹ صدر کل ہند سنی علماء کونسل ، جناب سید طارق قادری ایڈوکیٹ جنرل سکریٹری صوفی اکیڈیمی ، جناب سید کریم الدین شکیل ایڈوکیٹ و اڈوائزر دکن وقف پروٹکشن سوسائٹی ، خالد بامعاس پہلوان آندھرا کیسری ، جعفر بن حسن صعاری ، کی کثرت سے گلپوشی کی گئی ۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے جناب زاہد علی خاں نے علحدہ تلنگانہ تحریک میں شامل تمام مسلمانوں کو دلی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ تلنگانہ ریاست کے قیام کے بعد مسلمانوں کی سماجی ، سیاسی ، اقصادی ، تبدیلیاں رونما ہونے والی ہیں ۔ اس لحاظ سے تمام مسلمانوں کو فراست اور تدبر کے ساتھ کام لیتے ہوئے مسلمانوں کی موجودہ پسماندگی کو دور کرنے کے لیے ایک منظم اور مبسوط و مضبوط مکمل حکمت عملی اور عمومی مسلمانوں کو لائحہ عمل مرتب کرنے کی شدید ضرورت ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ جذباتی و استحصال و مفاد پرست سیاسی خاندانی موقع پرستوں کی سازشوں سے چوکنا رہنا ہے ۔ جناب زاہد علی خاں نے مزید کہا کہ موجودہ حالات میں نہ صرف تلنگانہ بلکہ سابق حیدرآباد دکن ریاست کے وہ اصلاع جو سازشی طور پر کرناٹک و مہاراشٹرا میں ضم کردئیے گئے تھے جن میں عثمان آباد ، بیڑ ، پربھنی ، اورنگ آباد ، شولاپور ، بیدر ، رائچور ، گلبرگہ علاقوں کو نظر انداز کردینے کی وجہ سے بے حد تعصب برتا گیا ۔ چونکہ ان علاقوں میں مسلمانوں کی کثیر تعداد پائی جاتی ہے ۔

تلنگانہ بشمول مذکورہ علاقوں میں بسنے والے مسلمانوں کی تعلیمی ، اقتصادی ، سیاسی پسماندگی کو دور کرنے کے لیے جدوجہد کی جانی چاہئے ۔ اس موقع پر جناب عثمان بن محمد الہاجری نے کہا کہ تلنگانہ میں اوقافی جائیدادوں کی جو تباہی و بربادی ہوئی ہے جس میں موقع پرست سیاست دانوں نے ملت کا ہر سطح پر استحصال کیا اور اپنے آندھرائی آقاؤں کے ساتھ گٹھ جوڑ کرتے ہوئے اپنے ذاتی اور خاندانی مفادات کی نگہبانی کرتے ہوئے اللہ کے لیے وقف کردہ جائیدادوں کو تباہ و برباد کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑا ۔ علحدہ تلنگانہ میں انشاء اللہ وقف جائیدادوں کے تحفظ کے لیے ملت کے جیالے مزید قوت و طاقت سے ابھرتے ہوئے باطل قوتوں کی سرکوبی کے لیے پر عزم کمر بستہ ہوجائیں گے ۔ جناب عبدالقدوس غوری ایڈوکیٹ نے کہا کہ یہ خوش آئند بات ہے کہ علحدہ تلنگانہ کا بل لوک سبھا میں منظور ہوا ۔

اس پر جناب زاہد علی خاں ، جناب ظہیر الدین علی خاں اور جناب عامر علی خاں کی فراست مومنانہ کے ساتھ کامیاب جدوجہد و کامیابی پر دل کی گہرائیوں سے دعائیہ کلمات کے ساتھ خصوصا ان تینوں حضرات کی عمردرازی کے لیے دعا کی اور بالخصوص تمام مسلمانوں کے لیے جنہوں نے شب و روز علحدہ تلنگانہ کے لیے قربانیاں پیش کیں اور جدوجہد میں کامیاب ہونے پر دل کی گہرائی سے دعا کی اور علاوہ اس کے نئے تشکیل شدہ تلنگانہ میں بلا لحاظ مذہب و ملت کی ترقی و یکجہتی کے لیے دعا کی ۔ اس موقع پر جناب ثنا اللہ خاں جنرل سکریٹری ٹی پی ایف ، مرزا عبدالرحیم بیگ ٹیپو ، جناب عبدالوحید ایڈوکیٹ ، حیات حسین حبیب ، جناب وقار حسین ایڈوکیٹ ، جناب عبدالقوی عباسی ایڈوکیٹ ، جناب نواب بھائی چنچل گوڑہ ، سید عرفان ، محمد سمیع اللہ آزاد ، محمد معراج ، چاند پہلوان ، محمد آصف ، جناب علی حسین خاں ، محمد احمد ، معلم محسن بن حسین الکثیری ، نظام الہاجری ، محمد بن عثمان الہاجری ، محمد عبدالعزیز اور کثیر تعداد میں نوجوان شریک تھے ۔۔

TOPPOPULARRECENT