Tuesday , September 25 2018
Home / بچوں کا صفحہ / نئی زندگی …!!

نئی زندگی …!!

کھجو ریں اور پک گئیں اور نئی کھجور یں بھی اگنے لگیں پونی نئی نئی کھجوریں دیکھ کر بہت خوش ہوا اور کہنے لگا شکر ہے نئی کھجوریں اگنے لگیں پرانی کھجوروں میں اب مزا بھی نہیںرہا تھا پونی نے کچھ آوازیںسنیں اور نیچے دیکھا تو ایک لڑکی اور ایک لڑکا باتیں کررہے تھے ۔ لڑکی نے اچانک کیڑے کو جو دیکھا تو زور زور سے ہنسنے لگی۔ لڑکا بھی پونی کو دیکھ ک

کھجو ریں اور پک گئیں اور نئی کھجور یں بھی اگنے لگیں پونی نئی نئی کھجوریں دیکھ کر بہت خوش ہوا اور کہنے لگا شکر ہے نئی کھجوریں اگنے لگیں پرانی کھجوروں میں اب مزا بھی نہیںرہا تھا پونی نے کچھ آوازیںسنیں اور نیچے دیکھا تو ایک لڑکی اور ایک لڑکا باتیں کررہے تھے ۔ لڑکی نے اچانک کیڑے کو جو دیکھا تو زور زور سے ہنسنے لگی۔ لڑکا بھی پونی کو دیکھ کر ہنسنے لگا لڑکی نے ہنستے ہوئے بولا بھائی دیکھو کتنا موٹا کیڑا ہے لگتا ہے بہت کھاتا ہے بالکل تمہاری طرح دوسرے کیڑے بھی تو اسی نسل کے ہیںلیکن یہ موٹا کتنا برا لگ رہا ہے اور دوسرے کتنے پیارے اور سمارٹ لگ رہے ہیں

یہ سن کر پونی کو دونوں پر بہت غصہ آیا اور وہ آنکھیں بند کر کے سوگیا ۔لڑکا درخت پر چڑھا او راس نے تھوڑی ہی دیر میں کھجوروں سے اپنی ٹوکری بھرلی اور نیچے آگیا کھجوروں کے ساتھ پونی بھی ٹوکری میں آگیا اسے کوئی ہوش نہیں تھا کیونکہ وہ گہری نیند سورہا تھا ۔ دونوں بچے کھیلتے کھیلتے گھر پہنچے لڑکی نے کھجوروں کو ایک بڑے برتن میں ڈالا اور دھونے لگی جب پونی کو پانی لگا تو وہ پریشان ہوگیا کہ وہ کہاں آگیا اس نے سوچا کہ شاید بارش آگئی یہ سوچ رہا تھا کہ وہ پانی کی نالی میں بہہ گیا اور نالی میں سے ہوتا ہوا مین ہول میں چلا گیا ۔ پونی کو کچھ ہوش نہ تھا کہ وہ کہاں ہے

کچھ دنوں کے بعد پونی نے اپنے آپ کو سنبھالا ، اس نے دیکھا کہ وہ بہت کمزور ہوچکا ہے کیونکہ کتنی دیر سے اس نے کچھ نہیں کھایا تھا ۔ پونی ادھر ادھر دیکھنے لگا مگر اسے کچھ کھانے کو نہ ملا اب اسے اپنے بیتے دن یاد آنے لگے ، وہ رونے لگا میں آج کہاں ہوں اور پہلے کہاں تھا ۔ پونی نے لمبا سا سانس بھر ا ا ور گہری سوچ میں پر گیا اور کہا یہ سب مجھے میرے کئے کی سزا مل رہی ہے کیونکہ میں بہت مغرور ہوگیاتھا ۔ مجھے خدا پیٹ بھر کر روٹی دیتا تھا میں نے اس کا شکریہ ادا نہیں کیا ۔ میں کہتا تھا کہ میں نے خود سب کچھ اپنی محنت سے بنایا ہے

اور میں اپنے ٖ کو اپنے دوستوں سے افضل سمجھتا تھا انہیں حقیر جانتا تھا ۔ مجھے اب احساس ہوا ہے کہ مجھے اپنی اوقات میں رہنا چاہئے تھا کسی کو کم تر نہیں جاننا چاہئے تھا یہ کہتا ہوا پونی مین ہول کے ایک چھوٹے سے سوراخ سے باہر نکلا اور نئے عزم سے وہ سوچنے لگا کہ اگر میں واپس اسی درخت پر گیا تو میرے ساتھی میرا مذاق اڑائیں گے کیونکہ میں بھی ان کا مذاق اڑا یا کرتا تھا کہ تم کمزور ہو جب میں ذرا ٹھیک ہوجاوں گا تب وہاں جاکر ان سب سے معافی مانگ لونگا اب نئے درخت سے نئی زندگی شروع کرونگا ۔
٭٭٭٭٭

TOPPOPULARRECENT