نئی سیاسی بساط :یشونت سنہا نے شتروگھن سنہا کیساتھ ’’راشٹر منچ‘‘قائم کیا

بی جے پی کے باغی لیڈر کو کانگریس ، ترنمول کانگریس ، عام آدمی پارٹی اورکسان تنظیموں کے ہم خیال قائدین کی حمایت حاصل

نئی دہلی۔ 30جنوری(سیاست ڈاٹ کام) بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے باغی لیڈر یشونت سنہا نے پارٹی میں اپنے ساتھی اور رکن پارلیمان شتروگھن سنہا اور کانگریس، ترنمول کانگریس ، عام آدمی پارٹی کے لیڈروں اور مدھیہ پردیش اور مہاراشٹر کے کچھ کسان لیڈروں کے ساتھ مل کر ایک سیکولر سیاسی پلیٹ فارم ‘راشٹر منچ’ کے قیام کا آج اعلان کیا۔بابا ئے قوم مہاتما گاندھی کی 70ویں برسی پر راج گھاٹ میں ان کی سمادھی پر گلہائے عقیدت پیش کرنے کے بعد مسٹر سنہا نے یہاں کنسٹی ٹیوشن کلب میں اپنے سیاسی لیکن غیر جماعتی پلیٹ فارم کے قیام کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہاکہ یہ پلیٹ فارم ملک کو درپیش اہم امورکو عوام تک لے جانے اور انہیں بیدار بنانے کیلئے ایک تحریک کاکام کرے گا اور اسے کبھی بھی سیاسی جماعت نہیں بننے دیا جائے گا۔اس موقع پر سابق مرکزی وزیر اور کانگریس کی رکن پارلیمان رینوکا چودھری ، ترنمول کانگریس کے دنیش ترویدی، عام آدمی پارٹی کے ترجمان اور سابق نامہ نگار آشوتوش، سماج وادی پارٹی کے گھنشیام تیواری وغیرہ بھی موجود تھے ۔مسٹر سنہا نے اپنی تحریک سے وابستہ سابق سفارتکار کے سی سنگھ، مدھیہ پردیش کے کسان لیڈر شیو کمار سنگھ’ککا’ ، مہاراشٹر کے کسان لیڈر پرشانت بوانڈے ، شنکر انا، پروفیسر دیپک گھوٹے وغیرہ کا بھی تعارف کرایا اور یہ بھی اعلان کیا کہ وہ یکم فروری کو پریشان کسانوں کیساتھ مدھیہ پردیش کے نرسنگھ پور میں تحریک چلائیں گے ۔انہوں نے کہاکہ ہم سب لوگ خیالات سے جڑے ہوئے ہیں نہ کہ سیاسی جماعت کی رکنیت کی بنیاد پر۔ ملک میں جیسے حالات بن رہے ہیں اس سے تحریک میں شامل لوگوں کے دلوں میں یکسا ں طورپر فکرمندی ہے ۔انہوں نے کہاکہ آج سچ بولنا توہین کرنے کے مترادف ہے ۔ حکومت کو لگتا ہے کہ پروپگنڈہ کرنے سے سب ٹھیک ہوسکتا ہے جبکہ فیکٹ (اعدادو شمار) ہدایت دیکر تیار کئے جارہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ ملک کو آزاد ہوئے 70برس ہوچکے ہیں لیکن آج بھی ملک ان ہی مسائل سے دوچار ہے جن سے 70برس قبل متاثر تھا۔ انہیں لگتا ہے کہ اگر وہ نہیں بولے تو گاندھی جی کی قربانی ضائع ہوجائے گی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت نے پارلیمنٹ کو بے اثر کردیا ہے ۔ بجٹ کے بعد نو دنوں کے کام کاج کو چار دن میں سمیٹا جائے گا۔ سرمائی اجلاس بھی چھوٹا کردیا ۔ اسی طرح سے سپریم کورٹ کے چار اعلی ججوں نے الزام لگایا ہے کہ حساس مقدموں کو پسندیدہ ججوں کو من مانے طریقہ سے سماعت کیلئے دیا جارہا ہے ۔ سرکاری اداروں خاص طورپر تفتیشی ایجنسیوں کا غلط استعمال کرکے ان کا سیاسی مخالفین کی آواز کو دبانے کیلئے استعمال کیا جارہا ہے ۔انہوں نے کہاکہ ان کے پلیٹ فارم کا مقصد جمہوریت اور اداروں کا تحفظ کرنا ، ملک کے 60کروڑ کسانوں کی فکر کرنا، روزگار کے مواقع بڑھانا، شہری اور دیہی آبادی کا معیار زندگی بہتر کرنا ، خواتین کے وقار اور کمزور طبقوں اور اقلیتوں کے آئینی حقوق کا تحفظ کرنا ہے۔

TOPPOPULARRECENT