Wednesday , December 19 2018

نئی نسل کو اُردو سے آشنا کروانا وقت کی اہم ضرورت

ڈاکٹر سید فاضل حسین پرویز کی تصنیف کا رسم اجراء، ڈاکٹر اوصاف سعید و دیگر کا خطاب

ڈاکٹر سید فاضل حسین پرویز کی تصنیف کا رسم اجراء، ڈاکٹر اوصاف سعید و دیگر کا خطاب

حیدرآباد۔/18جنوری، ( سیاست نیوز) قونصل جنرل ہندوستان متعینہ شکاگو ڈاکٹر اوصاف سعید نے نئی نسل کو اردو سے آشنا کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ ہم اپنے بچوں میں اردو کے متعلق دلچسپی پیدا کریں تاکہ اردو کی بقاء کو یقینی بنایا جاسکے اور سوشیل میڈیاکے ذریعہ اردو کو آگے بڑھائیں۔ انہوں نے کہا کہ گوگل اور مائیکرو سافٹ بھی اردو کے فروغ میں معاون ثابت ہوسکتے ہیں بشرطیکہ ہم اس کا استعمال کریں، کیونکہ آج کے اس ترقی یافتہ دور میں ایک بٹن دباتے ہی ہمیں ہر چیز دستیاب ہورہی ہے اور سوشیل میڈیا بھی اردو کے فروغ کیلئے مددگار ثابت ہوگا۔ آج دنیا بھر میں 85ملین عوام اردو بولتے ہیں۔ وہ آج یہاں ڈاکٹر سید فاضل حسین پرویز ایڈیٹر ’ گواہ ‘ اردو ویکلی کی تصنیف ’’ اردو میڈیا۔ کل آج کل ‘‘ کی رسم رونمائی انجام دینے کے بعد مخاطب تھے۔ جناب منظورالامین ریٹائرڈ ایڈیشنل ڈائرکٹر جنرل دوردرشن نے صدارت کی۔ مسٹر افتخار شریف ٹرسٹی چیر فیڈریشن آف انڈیا اسوسی ایشنس شکاگو، مسٹر ظفر جاوید جنرل سکریٹری فیڈریشن آف اے پی، سابق ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان جناب محمد اظہر الدین کے فرزند مسٹر محمد اسد الدین عباس نے بحیثیت مہمان اعزازی شرکت کی۔ شہ نشین پر پروفیسر فاطمہ پروین، ڈاکٹر سید فضل اللہ مکرم، میر محتشم علی خان، سید نور اور کنوینر ڈاکٹر محمد شجاعت علی راشد بھی موجود تھے۔ ڈاکٹر اوصاف سعید نے اردو صحافت کی تاریخ پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اردو صحافت نے تحریک آزادی میں اپنا اہم رول ادا کیا۔ انہوں نے شکاگو میں اردو لائبریری کے قیام کے ضمن میں کئے جانے والے اقدامات سے واقف کروایا اور کہا کہ عنقریب شکاگو میں اردو جرنلزم پر ایک سمینار منعقد کیا جائے گا۔ ڈاکٹر اوصاف سعید نے دکن کے اردو شعراء، ادیبوں اور نقادوں پر ریسرچ کرتے ہوئے ان کی خدمات کو عالمی سطح پر روشناس کروانے کا مشورہ دیا۔ انہوں نے ڈاکٹر سید فاضل حسین پرویز سے اپنی دیرینہ رفاقت کا تذکرہ کرتے ہوئے ان کی صحافتی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔ پروفیسر فاطمہ پروین نے کہا کہ آج کے دور میں ذرائع ابلاغ کو بہت زیادہ اہمیت حاصل ہوچکی ہے، ان کا استعمال کرتے ہوئے نئی نسل میں علم کی لگن، محنت کی جستجو اور آگے بڑھنے کا حوصلہ پیدا کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے فاضل حسین پرویز کو کتاب کی تصنیف پر مبارکباد دی۔ مسٹر افتخار شریف نے کہا کہ ڈاکٹر فاضل حسین پرویز نے پوری ذمہ داری کے ساتھ اپنے قلم کا استعمال کیا ہے اور اپنی کتاب کے لئے بڑے ہی اچھے عنوان کو انہوں نے منتخب کیا ہے۔ مسٹر ظفر جاوید نے اردو صحافت کے لئے ان کی خدمت کا ذکر کیا اور ان کے صحافتی کیریئر کے دوران جدوجہد کی ستائش کی۔ اس موقع پر کرکٹر اسد الدین عباس نے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ اپنی مادری زبان اردو کو اپنائیں۔ اس موقع پر ڈاکٹر فاصل حسین پرویز مصنف’’ اُردو میڈیا۔ کل آج کل ‘‘ و چیف ایڈیٹر ویکلی ’ گواہ ‘ نے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اچھائی کو عام کرنا اور برائی کو روکنا صحافت کا فرض منصبی ہے اور مظلوم کی حمایت ہی ایک صحافی کی پہچان ہے ، اور یہی سب سے بڑا جہاد ہے۔ انہوں نے کہا کہ اردو صحافت ہی مسلمانوں کی آواز اور غم خوار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی کامیابی کے پیچھے دوستوں سے زیادہ مخالفین کا اہم رول رہا ہے۔انہوںنے اردو اخبارات کی زبوں حالی پر کہا کہ اردو صحافیوں کی معیشت مستحکم ہوگی تو اردو صحافت کا مستقبل روشن ہوگا۔ مسٹر منظور الامین نے کہا کہ وقت کا قرضہ کبھی چکایا نہیں جاسکتا اور ڈاکٹر فاضل حسین پرویز نے ’’ اردو میڈیا۔ کل آج کل ‘‘ کے عنوان پر لکھتے ہوئے ایسے موضوعات کا احاطہ کیا ہے جس کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان نسل کو چاہیئے کہ وہ آگے بڑھتے ہوئے عصری دور کے تقاضؤں کے مطابق اردو کو آگے بڑھائیں۔ اس موقع پر جناب غیاث الدین بابو خان، ڈاکٹر میر اکبر علی خان، مسٹر حیات اللہ خان، مسٹر خلیق الرحمن، مسٹر محمد اظہر الدین ، ڈاکٹر سراج الرحمن، ڈاکٹر جاوید کمال، مسٹر سعید آرکیٹکٹ، مسٹر محمد اعظم پی آر او شاداں گروپ کے علاوہ مختلف شعبہ ہائے حیات سے تعلق رکھنے والے ذی اثر شخصیتوں کی کثیر تعداد موجود تھی۔ آخر میں ڈاکٹر شجاعت علی راشد نے شکریہ ادا کیا۔

TOPPOPULARRECENT