Saturday , December 15 2018

نئی نسل کے ایمانی تحفظ کیلئے چوکسی ضروری

مسجد حفیظیہ ریاست نگر میں مفتی عبدالفتاح عادل سبیلی کا خطاب
حیدرآباد۔ 14 مارچ (فیاکس) دین اسلام سے نئی نسل کو دور کرنے کی جتنی سازشیں چل رہی ہیں، ان میں سے ایک زبردست سازش تعلیم کے نام پر کی جارہی ہے۔ کرسچین مینجمنٹ ادارے اپنے آقاؤں کے اشارے پر ہمارے بچوں کو دین سے برگشتہ کرنے کے لئے ہر لمحہ کوشاں ہیں۔ انہیں اس بات کا حکم دیا گیا ہے کہ وہ مسلمان بچوں کو مشنری تعلیم گاہوں میں داخلہ لینے کیلئے آمادہ کریں اور بچپن ہی سے ان کے عقیدے خراب کرنے کیلئے شکوک و شبہات کے بیج ان کے ذہنوں میں اس طرح بودیئے جائیں کہ انہیں پتہ ہی نہ چل سکے۔ کبھی معیاری تعلیم کے نام پر تو کبھی فری تعلیم کے نام پر کبھی اور دیگر تدبیروں کے ذریعہ سیدھے سادھے مسلمانوں کو دھوکہ میں مبتلا کردیتے ہیں۔ اس لئے بہت سوچ سمجھ کر ہمیں اپنے نونہالوں کے لئے اسکول کا انتخاب کریں۔ ان خیالات کا اظہار مولانا مفتی عبدالفتاح عادل سبیلی نے مسجد حفیظیہ ریاست نگر میں کیا۔ مولانا نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ انسان جس معاشرہ اور ماحول میں ایک زمانے تک رہتا ہے، انسان کے اخلاق، احساسات، شعور، عادات و اطوار اور معاملات پر اس کا گہرا اثر مرتب ہوتا ہے۔ اسی لئے قدم قدم پر اسلام نے اچھی صحبت اختیار کرنے کی تاکید کی ہے۔ اسلام کے مضبوط قلعہ میں داخل ہونے کیلئے تعلیم سے بہتر اور مختصر کوئی راستہ نہیں ہے۔ مولانا نے کہا کہ اب تو ہندو مینجمنٹ ادارے یہاں تک قادیانیوں نے بھی ایسے ادارے کھول رکھے ہیں، اسلام کا لبادہ اوڑھے ’’اہل قرآن‘‘ نام کے ایک نام نہاد فرقے کی طرح سے بھی ایسے اسکولس کھولے جارہے ہیں، اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم سرپرست اپنے گرد و پیش کے حالات سے باخبر رہیں اور اپنی نئی نسل کے ایمان کے تحفظ کیلئے صحیح تعلیمی ادارہ کا انتخاب کریں۔

TOPPOPULARRECENT