Tuesday , November 21 2017
Home / Top Stories / نئی پہل پر مشکلات فطری :وینکیا نائیڈو

نئی پہل پر مشکلات فطری :وینکیا نائیڈو

چینائی 17 اکٹوبر ( پی ٹی آئی ) جی ایس ٹی کو حکومت کا ایک منفرد اقدام قرار دیتے ہوئے نائب صدر جمہوریہ ایم وینکیا نائیڈو نے آج کہا کہ جو کوئی نئی پہل کی جاتی ہے اس میں مسائل پیدا ہوتے ہیں ۔ تاہم انہوں نے کہا کہ اب توجہ اس بات پر دی جانی چاہئے کہ نئے ٹیکس نظام پر عمل آوری موثر ہونی چاہئے اور اسے عوام کیلئے سہل اور آسان بنایا جائے ۔ نائب صدر جمہوریہ نے آندھرا چیمبر آف کامرس کی 90 سالہ تقاریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی نیا قانون بنایا جاتا ہے ‘ کوئی بھی تبدیلی کی جاتی ہے تو اس میں کچھ مسائل پیدا ہوتے ہیں اور اب جی ایس ٹی سے بھی کچھ مسائل ہوئے ہیں ۔ اس بات سے کوئی بھی انکار کس طرح کرسکتا ہے ۔ اس پر مباحث جاری ہیں اور ان مباحث کو جاری رہنا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ ایک مرتبہ جی ایس ٹی کے نفاذ سے اتفاق کرتے ہوئے اب ایک ہی سوچ ہونی چاہئے کہ اس پر موثر انداز میں عمل آوری ہوسکے اور اس بات پر توجہ دی جانی چاہئے کہ اس کو موثر کس طرح بنایا جاسکتا ہے اور اسے عوام کیئلے مزید سہل اور آسان کس طرح بنایا جاسکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کسی کو بھی اس قانون کے تعلق سے ہونے والی تنقیدوں پر فکرمند ہونے کی ضرورت نہیں ہے ۔ اس پر جو مباحث ہو رہے ہیں وہ جاری رہ سکتی ہیں لیکن یہ با معنی اور با مقصد مباحث ہونے چاہئیں۔ ایم وینکیا نائیڈو نے کہا کہ جی ایس ٹی پر عمل آوری تمام سیاسی جماعتوں کا ایک اجتماعی فیصلہ تھا اور انہوں نے وزیر پارلیمانی امور کی حیثیت سے اپنے دور کی یاد دہانی کروائی اور کہا کہ اس قانون کیلئے انہوں نے دوسری جماعتوں سے رابطے کرتے ہوئے اتفاق رائے پیدا کرنے اور ان کی تائید حاصل کرنے کی کوشش کی تھی ۔ نوٹ بندی کے تعلق سے نائب صدر جمہوریہ نے کہا کہ ہم کو کرپشن کے خلاف لڑائی چھیڑنے کی ضرورت تھی اور ہم کو کالے دھن کی ریل پیل کو روکنے کی ضرورت تھی ۔ اسی وجہ سے نوٹ بندی کا فیصلہ کیا گیا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ رشوت اور کرپشن کو ختم کرنے اور کالے دھن کا صفایا کرنے کے سلسلہ میں اگر کسی کے پاس کوئی تجاویز ہوں تو وہ حکومت کو پیش کرنا چاہئے اور عوام سے کہا جانا چاہئے تھا کہ حکومت نے کوئی غلط کام کیا ہے اور اگر ہم اقتدار پر آئیں تو ہم اس غلطی کو سدھارنے کا منصوبہ رکھتے ہیں۔ نائیڈو نے کہا کہ حکومت کی تجاویز اور اس کی متبادل تجاویز پر مباحث ہونے چاہئیں ۔ ایسا نہیں ہونا چاہئے کہ جب اپوزیشن میں رہیں تو کسی تجویز کی مخالفت کریں اور جب اتقدار پر آجائیں تو اسی تجویز کو آگے برھائیں۔ ایسا کرنا جمہوریت کیلئے اچھی بات نہیں ہے ۔نائب صدر جمہوریہ نے کہا کہ کرپشن ملک کے نظام کی جڑوں کو کھوکھلا کر رہا تھا اور اس کے اہم شعبے متاثر ہو رہے تھے ۔ وہ کسی مخصوص جماعت کی حکومت کی سمت اشارہ نہیں کر رہے ہیں کیونکہ ایسا کرنا ان کی ذمہ داری نہیں رہی ہے ۔ کرپشن کو ختم کرنے کے مقصد سے اور کالے دھن کا خاتمہ کرنے کیلئے ہی نوٹ بندی کا فیصلہ کیا گیا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ لڑکیوں کو بچانے کیلئے حکومت نے جس اسکیم کا اعلان کیا ہے اس کو ایک قومی پروگرام قرار دینے کی ضرورت ہے اور اسے عوام کا پروگرام قرار دیا جانا چاہئے ۔ اس پروگرام کو کسی مخصوص جماعت کا پروگرام قرار دینے سے گریز کیا جانا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی اسکیمات اور پروگرام عوام کیلئے ہی ہوتے ہیں اور ان کا کوئی سیاسی مقصد نہیں ہوتا ۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT