Monday , December 11 2017
Home / شہر کی خبریں / نئے اضلاع کی تشکیل کے بعد ارکان اسمبلی و کلکٹرس میں ٹکراؤ

نئے اضلاع کی تشکیل کے بعد ارکان اسمبلی و کلکٹرس میں ٹکراؤ

کئی امور پر اختلاف رائے ۔ ایک دوسرے کے خلاف شکایتیں ۔ کرپشن اور بدعنوانیوں کے بھی الزامات
حیدرآباد /29 ستمبر ( سیاست نیوز ) حکومت کی جانب سے نظم و نسق کو عوام کی دہلیز تک پہونچانے کیلئے اضلاع کی تنظیم جدید کی گئی ۔ ایک سال کے دوران اس کے مثبت نتائج سامنے نہیں آئے مگر حکمران ٹی آرایس کے ارکان اسمبلی اور اضلاع کلکٹرس کے درمیان مختلف مسائل پر ٹکراؤ شروع ہوگیا ہے اور کھلے عام ایک دوسرے کی شکایتیں کر رہے ہیں ۔ نئے کلکٹریٹ کی تعمیرات کیلئے اراضیات کے انتخاب ، اراضی بے قاعدگیاں عہدیداروں کے تبادلے فنڈز کی منظوری و اجرائی کے بشمول دوسرے امور پر نوبت بحث و تکرار تک پہونچ گئی ۔ ضلع میدک کی مقامی رکن ا سمبلی و ڈپٹی اسپیکر پدما دیویندر ریڈی اور کلکٹر بھارتی ہولکری کے درمیان کلکٹریٹ اراضی کے مسئلہ پر نظریاتی اختلاف پیدا ہوگیا ۔ ڈپٹی اسپیکر میدک منڈل کے راج پلی میں نیا کلکٹریٹ تعمیر کرنے کے حق میں ہیں جبکہ کلکٹر اوسولہ پلی میں تعمیر کرنے کی خواہشمند ہے ۔ دونوں کی رائے میں اختلاف پیدا ہوجانے کے بعد تین مقامات کی نشاندہی کرتے ہوئے کلکٹر نے حکومت کو رپورٹ پیش کر دی ہے ۔ اس کے علاوہ ڈپٹی اسپیکر پدما دیویندر ریڈی وزراء کے طرز پر اضلاع کے مختلف محکمہ جات کی کارکردگی کا جائزہ لینا چاہتی ہے ۔ دستوری عہدے پر فائز رہتے ہوئے جائزہ اجلاس طلب کرنے کی کلکٹر مخالف ہیں ۔ ماضی میں محبوب آباد کی کلکٹر اور مقامی رکن اسمبلی کے درمیان تنازعہ پیدا ہوجانے پر تمام آئی اے ایس عہدیداروں نے عجلت میں اجلاس طلب کرکے اس کی چیف سکریٹری سے بھی شکایت کی تھی اور کام کے دوران سیاسی مداخلت سے پائی جانے والی شکایتوں سے بھی واقف کرایا تھا ۔ ایک تحصیلدار کے تبادلہ کے مسئلہ پر اسمبلی حلقہ راماگنڈم رکن اسمبلی ایس ستیہ نارائنا اور ضلع پداپلی کے انچارج کلکٹر پربھاکر ریڈی کے درمیان بھی اختلافات پیدا ہوگئے ہیں ۔ باوثوق ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ رکن اسمبلی ایس ستیہ نارائنا نے کلکٹر کے خلاف چیف سکریٹری کو رائس ملرس و زمینداروں سے بڑے پیمانے پر فنڈز وصول کرنے اور بدعنوانیوں میں ملوث ہونے کی شکایت کرتے ہوئے انکا تبادلہ کرنے نمائندگی کی ہے ۔

تاہم تمام ملازمین اور عہدیدار پوری طرح کلکٹر کی تائید کر رہے ہیں ۔ ضلع محبوب آباد کی کلکٹر پریتی مینا اور ارکان اسمبلی شنکر نائیک و اے دیاکر راؤ کے درمیان بھی اختلافات منظر عام پر آگئے ہیں ۔ ایک متنازعہ اراضی پر رکن اسمبلی شنکر نائیک نے سفارش کی جس کو کلکٹر نے مسترد کردیا تب سے شروع ہونے والے اختلافات ہریتا ہارم پروگرام کے تیسرے مرحلے میں نیا موڑ اختیار کرگئے ۔ جس کی شکایت چیف منسٹر کے سی آر تک پہونچ گئی ۔ شنکر نائیک کی کلکٹر سے معذورت خواہی کے باوجود مسئلہ کی ہنوز یکسوئی نہیں ہوسکی ۔ مینار اور رکن پارلیمنٹ اجمیر اسیتا رام نائیک نے شرکت کی ۔ رکن ا سمبلی شنکر نائیک پہونچتے ہی کلکٹر وہاں سے واپس ہوگئیں ۔ دوسرے رکن اسمبلی اے دیاکر راؤ کو ترقیاتی کاموں میں تعاون نہ کرنے کی کلکٹر سے شکایت ہے ۔ ڈبل بیڈروم مکانات کی تعمیر میں تعاون نہ کرنے پر کلکٹر سے اعتراض ہے ۔ اراضیات کی تقسیم کیلئے مالکین اراضیات فروخت کرنے تیار ہے تاہم کلکٹر پر دلچسپی نہ لینے کا الزام ہے ۔ کچن شیڈ کی تعمیر کیلئے فنڈز دستیاب ہونے کے باوجد تعمیری کاموں کا آغاز نہ کرنے کا شکایت ہے ۔ ضلع جنگاؤں کی کلکٹر سری دیواسینا اور رکن اسمبلی ایم یادگیری ریڈی کے درمیان اختلافات آشکار ہوگئے ۔ سرکاری مختص کردہ اراضی چمپک ہلز کے قریب سب اسٹیشن کی تعمیر کا فیصلہ تنازعہ کا شکار ہوگیا 40 کسانوں نے اپنی اراضی ہونے کا دعوی کرکے اسکی قیمت ادا کرنے کا مطالبہ کیا ۔ حصول اراضیات کیلئے ٹرانسکو کی جانب سے فراہم کردہ 7 کروڑ روپئے کسانوں کو دینے کا رکن اسمبلی نے مطالبہ کیا ۔جس سے کلکٹر نے انکار کردیا ۔ دونوں کے درمیان بحث و تکرار بھی ہوگئی ۔ بتکماں کنٹہ کی اراضی قبضہ کرنے کا رکن اسمبلی پر الزام عائد کرکے کلکٹر نے ثبوت پیش کردیا ۔ یہ بھی پتہ چلا ہے کہ بحیثیت کلکٹر نظام آباد خدمات انجام دینے والی یوگیتا رانا سے مقامی ارکان اسمبلی کے درمیان اختلافات رائے پیدا ہوگئے تھے ۔ ضلع کے تمام ارکان اسمبلی کی شکایت پر ایک ماہ قبل انکا تبادلہ بحیثیت کلکٹر حیدرآباد کردیاگیا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT