Sunday , September 23 2018
Home / شہر کی خبریں / نئے دارالحکومت میں کوئی بنیادی انفرا اسٹرکچر نہیں‘ کانگریس

نئے دارالحکومت میں کوئی بنیادی انفرا اسٹرکچر نہیں‘ کانگریس

امراوتی میں صرف عبوری سرکاری کامپلکس کی تعمیر ۔ مرکز سے 1,500 کروڑ کی امداد کے باوجود کوئی پیشرفت نہیں
امراوتی 7 جنوری ( پی ٹی آئی ) آندھرا پردیش میں اپوزیشن جماعتوں نے تلگودیشم زیر قیادت حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور کہا کہ حکومت گذشتہ تین سال میں نئے دارالحکومت امراوتی میں صرف ایک عبوری سرکاری کامپلکس کے علاوہ کچھ اور تعمیر کرنے میں ناکام رہی ہے ۔ امراوتی میں جو عبوری سرکاری کامپلکس تعمیر کیا گیا ہے اس میں سیکریٹریٹ کے پانچ بلاکس اور ایک مقننہ کا بلاک شامل ہے ۔ ایک بیوروکریٹ کے بموجب ریاستی حکومت نے تاہم مرکزی حکومت کو استعمال کے سرٹیفیکٹس بھی پیش کردئے ہیں۔ مرکزی حکومت نے آندھرا پردیش کے نئے دارالحکومت کی تعمیر کیلئے 1,500 کروڑ روپئے فراہم کئے ہیں۔ ریاستی حکومت نے مرکز کو جو سرٹیفیکٹ پیش کئے ہیں ان میں کہا گیا ہے کہ یہ رقم عمارتوں کی تعمیر پر خرچ کردی گئی ہے ۔ ریاست میں اب تک راج بھون اور ہائیکورٹ بھی تعمیر نہیں کئے گئے ہیں اور نہ ہی مستقل سیکریٹریٹ اور مستقل اسمبلی کامپلکس تعمیر کیا گیا ہے ۔ ریاست کی تقسیم کو جملہ 43 ماہ کا وقت گذر چکا ہے ۔ پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر و سابق ریاستی وزیر این رگھو ویرا ریڈی نے کہا کہ حالانکہ مرکزی حکومت نے فنڈز جاری کئے ہیں لیکن ریاستی حکومت دارالحکومت میں بنیادی سہولتوں تک کی فراہمی میں پوری طرح ناکام ہوگئی ہے ۔ مرکزی حکومت کی جانب سے مالیاتی سال 2014 سے 2017 تک آندھرا پردیش کیلئے جملہ 1,500 کروڑ روپئے منظور کئے گئے تاکہ راج بھون ‘ ہائیکورٹ ‘ سیکریٹریٹ اور مقننہ کی عمارتیں تعمیر کی جائیں اور اس کے علاوہ دوسرے ضروری انفرا اسٹرکچر کا قیام عمل میں لایا جاسکے ۔ حکومت کی امداد کے مطابق یہ رقم راج بھون اور ان عمارتوں کی تعمیر پر خرچ کی جانی چاہئے تھی جو حکومت نے واضح کئے تھے ۔ تنظیم جدید آندھرا پردیش قانون کے تحت رقمی منظوری کی پہلی قسط کی اجرائی عمل میں لاتے ہوئے 2014 میں مرکزی حکومت نے واضح کیا تھا کہ 500 کروڑ روپئے کی رقم راج بھون اور اسمبلی کی عمارتوں کی تعمیر پر خرچ کی جانی چاہئے ۔ 2015-16 میں مرکزی حکومت نے نئے دارالحکومت شہر کی تعمیر کیلئے 350 کروڑ روپئے جاری کئے جبکہ مزید 200 کروڑ روپئے ضروری شہری انفرا اسٹرکچر کی فراہمی جیسے راج بھون ‘ ہائیکورٹ اور سکریٹریٹ کے علاوہ مقننہ کی عمارتیں تعمیر کرنے کیلئے جاری کئے گئے تھے ۔ علاوہ ازیں مرکزی حکومت نے 2016 – 17 میں مزید 450 کروڑ روپئے ضروری شہری انفرا اسٹرکچر کی فراہمی کیلئے جاری کئے گئے ۔ جب یہ واضح کیا گیا کہ اس طرح کی عمارتیں تعمیر نہیں کی گئی ہیں اور صرف عبوری سرکاری کامپلکس تعمیر کیا گیا ہے عہدیداروں نے کہا کہ یہ تمام عمارتیں زیر تعمیر ہیں ۔ کچھ عمارتوں کا ڈیزائین تیار کیا جا رہا ہے ۔ کچھ تعمیری مراحل میں ہیں اورکچھ مکمل ہوچکی ہیں اور کچھ کو تیار کیا جا رہا ہے جس کی تفصیلات حکومت کے پاس موجود ہیں۔ جب یہ سوال کیا گیا کہ یہ رقومات کن عمارتوں کی تعمیر پر خرچ کی گئیں اے پی دارالحکومت علاقہ ترقیاتی اتھاریٹی کے کمشنر سی ایچ سریدھر نے کہا کہ جن عمارتوں کیلئے مختص کی گئی تھی ان پر خرچ کی گئی ہے ۔ اس سوال پر کہ جب یہ عمارتیں تعمیر ہی نہیں ہوئیں تو ان کی تکمیل کے سرٹیفیکٹ کس طرح جاری کئے گئے مسٹر سریدھر نے کہا کہ جو کچھ گراونڈ پر دکھائی دے رہا ہے آپ کو صرف وہی دکھائی دے رہا ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ تعمیری کام شروع ہوچکا ہے ۔اس کی تیاری سے متعلق کئی سرگرمیاں چل رہی ہیں اور رقومات ان پر خرچ کی گئی ہیں۔ مرکزی منسٹر آف اسٹیٹ فینانس پی رادھا کرشنن نے راجیہ سبھا میں بتایا تھا کہ آندھرا پردیش حکومت نے اب تک نیتی آیوگ کو 1,583کروڑ روپئے کے اخراجات پر مشتمل کچھ عمارتوں کے یوٹیلیٹی سرٹیفیکٹ بھی پیش کردئے ہیں۔ رادھا کرشنن نے گذشتہ ہفتے وائی ایس آر کانگریس کے رکن وی وجئے سائی ریڈی کے سوال کے جواب میں یہ بات بتائی تھی ۔ امراوتی پراجیکٹ کے تعلق سے اپنی تازہ ترین موقف رپورٹ میں اتھاریٹی نے کہا کہ اس نے سرکاری عمارتوں کی تفصیلی پراجیکٹ رپورٹس بھی روانہ کردی ہیں جن میں حکومت ہند کی جانب سے فراہم کردہ گرانٹس کی تقسیم کی تفصیلات کو بھی پیش کیا گیا ہے ۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حکومت ہند نے پہلے ہی 1,500 کروڑ روپئے جاری کردئے ہیں اور مزید 1000 کروڑ روپئے جاری کرسکتی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT