Sunday , January 21 2018
Home / جرائم و حادثات / نئے سال میں خواتین کی حفاظت کیلئے نیا سفر

نئے سال میں خواتین کی حفاظت کیلئے نیا سفر

حیدرآباد۔/31 ڈسمبر، ( سیاست نیوز) حیدرآباد سٹی پولیس نے نئے سال 2015 کے آغاز پر تمام شہریوں کو اپنی روز مرہ کی سرگرمیوں میں شامل کرنے کے مقصد سے ایک منفرد پروگرام شروع کیا ہے جس کوHawk Eye ’ عقاب کی نظر ‘ کا نام دیا گیا ہے۔ اس مقصد سے موبائیل ایپ بھی متعارف کیا گیا ہے۔ عوام دوست اور ذمہ دار پولیس کے نظریہ کے طور پر شروع کردہ یہ پروگرام ایک اہ

حیدرآباد۔/31 ڈسمبر، ( سیاست نیوز) حیدرآباد سٹی پولیس نے نئے سال 2015 کے آغاز پر تمام شہریوں کو اپنی روز مرہ کی سرگرمیوں میں شامل کرنے کے مقصد سے ایک منفرد پروگرام شروع کیا ہے جس کوHawk Eye ’ عقاب کی نظر ‘ کا نام دیا گیا ہے۔ اس مقصد سے موبائیل ایپ بھی متعارف کیا گیا ہے۔ عوام دوست اور ذمہ دار پولیس کے نظریہ کے طور پر شروع کردہ یہ پروگرام ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ ’ عقاب کی نظر ‘ پروگرام کے کئی اہم مقاصد میں سفر کے دوران خواتین کی حفاظت کو اولین ترجیح دی گئی ہے، انہیں ہنگامی حالات میں مدد حاصل کرنے کیلئے موبائیل ایپ میں ایک خصوصی بٹن (SOS) مہیا کیا گیا ہے۔ اس نئے موبائیل اپلیکیشن کو کمشنر پولیس حیدرآباد مسٹر ایم مہیندر ریڈی نے دفتر کمشنر پولیس میں منعقدہ ایک پروگرام کے دوران متعارف کیا۔ اس موقع پر انہوں نے بتایا کہ عوام کو پولیس کی روز مرہ کی سرگرمیوں میں شامل کرنے کے مقصد سے یہ ایپ تیار کیا گیا ہے جس کے ذریعہ شہریان بالخصوص خواتین استفادہ کرسکتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ خواتین کے آٹو رکشا یا ٹیکسی کے سفر کو محفوظ بنانے کیلئے اس ایپ میں خواتین کے تحفظ کو اولین ترجیح دی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ خواتین سفر کے آغاز سے قبل آٹو یا ٹیکسی کی نمبر پلیٹ کی تصویر اس ایپ میں محفوظ کرسکتی ہیں

اور ڈرائیور کی جانب سے کسی بھی قسم کی غلط حرکت پر بروقت پولیس کی مدد حاصل کرسکتے ہیں۔ مسٹر مہیندر ریڈی نے بتایا کہ ہنگامی حالات میں شہریان کیلئے SOS ( ہمیں خطرہ سے بچایئے) کا بٹن بھی رکھا گیا ہے۔ انہوں نے مشورہ دیا ہے کہ اس بٹن کا مناسب استعمال کریں۔ کمشنر پولیس نے بتایا کہ اس ایپ کے ذریعہ کسی بھی شہری کی جانب سے ربط پیدا کئے جانے پر متعلقہ ڈپٹی کمشنر پولیس، اسسٹنٹ کمشنر، اسٹیشن ہاؤز آفیسر اور کنٹرول روم کو فوری پیام موصول ہوتا ہے اور اندرون چند منٹ پولیس مدد کیلئے پہنچ جاتی ہے۔ شہر میں قانون کی خلاف ورزی اور کسی بھی قسم کے جرائم کے واقعات سے متعلق تفصیلات بشمول تصاویر بھی پولیس کو روانہ کی جاسکتی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ بعض اوقات پولیس ملازمین بھی قانون کی خلاف ورزی کے مرتکب پائے جاتے ہیں اور اس ایپ کے ذریعہ ان کی حرکتوں کو اعلیٰ عہدیداروں کے علم میں لایا جاسکتا ہے۔ انہوں نے بتایاکہ اس ایپ میں پولیس کے تمام پولیس اسٹیشنوں اور دیگر عہدیداروں کے فون نمبرات ایک ڈائرکٹری کی شکل میں بھی فراہم کئے گئے ہیں جبکہ گھریلو ملازمین، کرایہ داروں کا رجسٹریشن بھی اس ایپ کے ذریعہ کیا جاسکتا ہے۔ کمیونٹی پولیسنگ میں رضاکارانہ طور پر شامل ہونے کیلئے بھی اس ایپ میں خصوصی بٹن فراہم کیا گیا ہے۔ شہریان کی جانب سے داخل کی گئی درخواستوں کا موقف بھی معلوم کیا جاسکتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT