Thursday , November 23 2017
Home / شہر کی خبریں / نئے سکریٹریٹ کی تعمیر میں اپوزیشن رکاوٹ : سرینواس گوڑ

نئے سکریٹریٹ کی تعمیر میں اپوزیشن رکاوٹ : سرینواس گوڑ

کانگریس اور تلگو دیشم حکومتوں میں ہزارہا ایکڑ اراضیات پر قبضہ کرنے کا الزام : ٹی آر ایس رکن اسمبلی کا بیان
حیدرآباد۔8 ستمبر (سیاست نیوز) ٹی آر ایس کے رکن اسمبلی سرینواس گوڑ نے اپوزیشن پر نئے سکریٹریٹ کی تعمیر میں رکاوٹ کا الزام عائد کیا اور کہا کہ غیر ضروری اس مسئلہ کو ہوا دی جارہی ہے جبکہ حکومت ترقیاتی منصوبے کے ساتھ نئے سکریٹریٹ کی تعمیر کے حق میں ہے۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے سرینواس گوڑ نے اپوزیشن کو مخالف ترقی قرار دیا اور کہا کہ حکومت جو بھی فلاحی اور ترقیاتی قدم اٹھاتی ہے، اپوزیشن اس کی مخالفت کررہی ہے۔ نئے سکریٹریٹ کی تعمیر سے تلنگانہ ریاست کے وقار میں اضافہ ہوگا۔ لیکن اپوزیشن پسماندہ تلنگانہ کی ترقی کے حق میں دکھائی نہیں دیتی۔ سرینواس گوڑ نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں کا رویہ ناقابل فہم ہے اور انہیں کسی بھی اقدام کی مخالفت کرنے سے قبل حقائق کا پتہ چلانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ نئے سکریٹریٹ کی تعمیر سے چیف منسٹر کے سی آر کی شہرت اور نیک نامی کے خوف سے اپوزیشن پراجیکٹ کی مخالفت کررہی ہے۔ کانگریس اور تلگودیشم دور حکومت میں ہزاروں ایکڑ سرکاری اراضیات اپنے قریبی افراد میں تقسیم کی گئیں اور عوام ان بے قاعدگیوں کے گواہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں حکومتوں کے دور میں اراضیات پر جس انداز میں قبضے کیے گئے اس کی مثال کسی اور دور حکومت میں نہیں ملے گی۔ دونوں حکومتوں کے دور میں اراضیات پر قبضوں اور تقسیم سے جس قدر سرکاری خزانہ کو نقصان ہوا ہے اس سے کم خرچ میں نئے سکریٹریٹ کی تعمیر ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کی سہولت کے لیے نیا سکریٹریٹ تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ مختلف قومی قائدین اور ریاستوں کے چیف منسٹرس کی جانب سے کے سی آر حکومت کی ستائش کی جارہی ہے لیکن صرف کانگریس قائدین تنقید کررہے ہیں۔ سکریٹریٹ کے بجائے ڈبل بیڈ روم مکانات تعمیر کرنے کے تلگودیشم قائد ریونت ریڈی کے مطالبہ کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے سرینواس گوڑ نے مطالبہ کیا کہ چندرا بابو نائیڈو دور حکومت میں بھیلی رائو کو الاٹ کردہ 300 ایکڑ اراضی کی وضاحت کی جائے اگر اپوزیشن جماعتیں اپنا رویہ تبدیل نہیں کرے گی تو انہیں عوامی ناراضگی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

TOPPOPULARRECENT