Tuesday , July 17 2018
Home / شہر کی خبریں / نئے سیاسی اتحاد یا علیحدہ جماعت کے قیام پر غور

نئے سیاسی اتحاد یا علیحدہ جماعت کے قیام پر غور

آئندہ 15 دن میں قطعی فیصلہ ۔ ٹی آر ایس کے کئی ارکان اسمبلی رابطہ میں ‘ کودانڈا رام

حیدرآباد۔22جنوری ( سیاست نیوز) صدرنشین تلنگانہ پولیٹیکل جوائنٹ ایکشن کمیٹی پروفیسر ایم کودنڈارام نے کہا کہ وہ ریاستی سیاست میں ضرور رہیں گے ۔ اس سلسلہ میں تمام سیاسی طاقتوں کو متحد کر کے ایک نیا اتحاد قائم کریں یا ہم خود ایک پارٹی کی شکل اختیار کر کے موجودہ حکومت کی تبدیلی کیلئے کام کرنے کے مسئلہ پر آئندہ 15یوم میں قطعی اعلان کریں گے ۔ انہوں نے بتایا کہ خواہ کوئی بھی فیصلہ کیا جائے تلنگانہ پولیٹیکل جوائنٹ ایکشن کمیٹی برقرار رہے گی جبکہ آئندہ ماہ 4فبروری کو منعقد ہونے والے مجوزہ توسیعی اجلاس کیلئے مقام ‘ ایجنڈہ ‘ مدعوئین وغیرہ کی تفصیلات و دیگر اُمور پر تبادلہ خیال کیلئے ٹی جے اے سی اسٹرینگ کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا ۔ بعد ازاں انہوں نے بتایا کہ حصول علحدہ تلنگانہ کیلئے جدوجہد کی توقعات ‘ مقاصد کی تکمیل کیلئے ریاست کی سیاست میں ہر لحاظ سے اتحاد قائم کیا جائیگا ۔ صدرنشین تلنگانہ جے اے سی نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ مجھے ارکان اسمبلی کو خریدنا معلوم نہیں ہے لیکن اس کے باوجود تلنگانہ راشٹرا سمیتی کے 15 ارکان اسمبلی ان سے مسلسل ربط میں ہیں ۔ پروفیسر کودنڈارام نے مزید بتایا کہ اگر سیاسی پارٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا جائے تو ٹکٹ کا مطالبہ کرنے والوں‘ کاموں کے سلسلہ میں رجوع ہونے والوں سے ٹی جے اے سی دفتر پر اژدھام دکھائی دیگا اور قائدین و کارکنوں پر قابو پانا مشکل ہو جائیگا ۔ انہوں نے بتایا کہ ایک نوجوان نے ابھی سے پالکرتی کا ٹکٹ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ۔ انہوں نے گورنر تلنگانہ مسٹر نرسمہن کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ صرف ایسے مقامات کا دورہ کررہے ہیں جہاں چیف منسٹر کو خطاب دے سکتے ہیں لیکن آج تک عوام کو جہاں بڑے پیمانے پر مسائل ہیں وہاں کا دورہ نہیں کر رہے ہیں ۔ انہوں نے گورنر کو مسائل والے مقامات کا دورہ کرنے کا مشورہ دیا ۔ پروفیسر ایم کودنڈا رام نے چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ کو ہدف ملامت بناتے ہوئے کہا کہ علحدہ تلنگانہ کی تشکیل عمل میں آنے کے بعد صرف چندر شیکھر راو اور ان کے افراد خاندان کے سوا عوام کو ترقی نہیں ہوئی ہے اور چیف منسٹر اپنی من مانی چلارہے ہیں ۔

TOPPOPULARRECENT