Wednesday , December 13 2017
Home / شہر کی خبریں / نئے سیکریٹریٹ کی تجویز پر شہر میں 20 مقامات پر رائے دہی

نئے سیکریٹریٹ کی تجویز پر شہر میں 20 مقامات پر رائے دہی

حیدرآباد 26 ستمبر ( سیاست نیوز ) سکریٹری اے آئی سی سی و سابق رکن راجیہ سبھا وی ہنمنت راؤ نے آج نئے سکریٹریٹ کی تعمیر کے مسئلہ پر گریٹر حیدرآباد کے 20 مقامات پر بیالٹ باکس کے ذریعہ رائے دہی کا انعقاد کیا ۔ 27 ستمبر کو صبح 10 بجے پریس کلب سوماجی گوڑہ میں ووٹوں کی گنتی ہوگی ۔ قائد اپوزیشن تلنگانہ کونسل محمد علی شبیر نے ٹولی چوکی پر ووٹ ڈالا ۔ ہنمنت راؤ نے بتایا کہ 20 مقامات پر عوام نے رائے دہی میں حصہ لیا ۔ حکومت ، اپوزیشن کو نظر انداز کرکے من مانی کررہی ہے ۔ موجودہ سکریٹریٹ کارکرد رہنے کے باوجود سکندرآباد پر کروڑہا روپئے ضائع کرکے نیا سکریٹریٹ تعمیر کیا جارہا ہے ۔ جس کے خلاف 20 مقامات پر رائے دہی کرائی گئی ہے ۔ جس کے نتائج کا کل صبح 10 بجے پریس کلب سوماجی گوڑہ میں اعلان کیا جائیگا ۔ ٹولی چوکی پولنگ سنٹر پر محمد علی شبیر نے ووٹ دیا ۔ صدر تلنگانہ پردیش کانگریس اقلیت ڈپارٹمنٹ محمد خواجہ فخر الدین ترجمان سید فاروق پاشاہ قادری کے علاوہ دوسرے موجود تھے ۔ میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے محمد علی شبیر نے کہا کہ چیف منسٹر کے سی آر توہم پرستی کا شکار ہیں اور ان پر واستو کا بھوت سوار ہے ۔ اپنے فرزند کے ٹی آر کو چیف منسٹر بنانے سکندرآباد پر 2 ہزار کروڑ روپئے کے مصارف سے نیا سکریٹریٹ تعمیر کرنے کا تخمینہ ہے جو فضول خرچی ہے موجودہ سکریٹریٹ سے حیدرآباد اسٹیٹ کا نظم و نسق چلایا گیا ۔ آندھرا پردیش کی تشکیل کے بعد سے آخری چیف منسٹر کرن کمار ریڈی نے اسی سکریٹریٹ سے حکمرانی کی ہے ۔ لیکن کے سی آر پر واستو فوبیا سوار ہے ۔ پہلے 11 ایکڑ اراضی پر 500 کروڑ روپئے خرچ کرکے پرگتی بھون تعمیر کیا گیا اب نئے سکریٹریٹ پر 2 ہزار کروڑ روپئے خرچ کئے جارہے ہیں ۔ ہنمنت راؤ نے نئے سکریٹریٹ کی تعمیر پر عوامی رائے حاصل کرنے کا اہتمام کیا ہے انہیں یقین ہے 99 فیصد عوام اس کی مخالفت کریں گے ۔ ٹی آر ایس حکومت کا انحصار کمیشن پر ہوگیا ہے ۔ تین سال کے دوران دیڑھ لاکھ کروڑ روپئے کا قرض حاصل کیا گیا ہے ۔ محمد خواجہ فخر الدین نے چیف منسٹر کو تلنگانہ کیلئے بدشگون قرار دیتے ہوئے کہا کہ ٹی آر ایس کو اقتدار سے بیدخل کرنے پر ہی تلنگانہ میں خوشحالی آئے گی اور سماج کے تمام طبقات کی ترقی ہوگی ۔

TOPPOPULARRECENT