Friday , September 21 2018
Home / Top Stories / نئے سیکریٹریٹ کی تعمیر کی تجویز پر مرکزکی وضاحت طلبی

نئے سیکریٹریٹ کی تعمیر کی تجویز پر مرکزکی وضاحت طلبی

منصوبہ مشکلات کا شکار ہوسکتا ہے ۔ متبادل اراضی ‘ معاوضہ اور سالانہ اخراجات ادا کرنے کی بھی شرائط

حیدرآباد ۔ 15جنوری ( سیاست نیوز) سکندرآباد کے بیسن پولو گراؤنڈ میں نئے سکریٹریٹ کی تعمیر کا منصوبہ کھٹائی میں پڑچکا ہے ۔ وزیراعظم دفتر کو موصولہ شکایتوں میں 13شکایتوں کی تلنگانہ حکومت سے وضاحت طلب کی گئی ۔ متبادل کے طورپر 543 ایکڑ اراضی ‘ 1100 کروڑ روپئے اور سالانہ اخراجات ادا کرنے کی شرط رکھی گئی ہے ۔ چیف منسٹر کے سی آر واستو پر بھروسہ کرنے والے ہیں ۔ انہوں نے اپنی قیامگاہ اور کیمپ آفس کو سکریٹریٹ میں تبدیل کرلیا ہے ۔ وہ سکریٹریٹ کو پہنچے بغیر پرگتی بھون سے وزرا و عہدیداروں کے اجلاس طلب کرکے نظم و نسق چلا رہے ہیں ۔ پولو گراونڈ پر نیا سکریٹریٹ تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ اس سلسلہ میں مرکز سے تبادلہ خیال کے بعد مجوزہ نقشہ میڈیا کو جاری کردیا ہے ۔ اپوزیشن جماعتیں نئے سکریٹریٹ کے تعمیر کی مخالفت کررہی ہیں جبکہ چیف منسٹر اس کیلئے بضد ہیں ۔ باوثوق ذرائع سے پتہ چلاہیکہ وزیراعظم مودی کے دفتر کو بیسن پولو گراؤنڈ پر نیاسکریٹریٹ تعمیر کرنے کی اجازت نہ دینے سے متعلق کئی شکایتیں وصول ہوئیں جس کا باریک بینی سے جائزہ لینے کے بعد وزیراعظم کے دفتر نے تلنگانہ حکومت سے 13شکایتوں پر وضاحت طلب کی ۔ مرکز کے فیصلہ بعد محکمہ عمارت و شوارع جواب دینے اور مرکز کو مطمئن کرنے مصروف ہوگئی ہے ۔ ذرائع کے بموجب مہاراشٹرا و مغربی بنگال نے بھی دفاع کی اراضیات طلب کی ہیں ۔ اگر تلنگانہ کو دفاع کی اراضیات دی جاتی ہیں تو ان کو بھی اراضی فراہم کرنا پڑیگا جس کی وجہ سے مرکزی حکومت مصلحت سے تلنگاہ کو دفاع کی اراضیات حوالے کرنے ٹال مٹول کے ساتھ نئی شرائط پیش کررہی ہے ۔ گذشتہ سال مرکزی حکومت نے بیسن پولو گراؤنڈ کے ساتھ جمخانہ گراؤنڈ کی 60.87ایکڑ اراضی قومی اور ریاستی ہائی ویز کی توسیع کیلئے دینے سے اتفاق کیا تھا ‘ متبادل کے طور پر اراضی دینے کی مرکز نے ریاست سے خواہش کی تھی ۔ ریاستی حکومت نے جواہر نگر میں 500 ایکڑ اراضی متبادل کے طور پر مختص کرنے کے علاوہ دوسری بنیادی سہولتیں فراہم کرنے کا پیشکش کیا تھا ۔ اس پیشکش پر ریاست کے عہدیداروں نے دہلی میں محکمہ دفاع کے عہدیداروں کے ساتھ اجلاس طلب کرکے تبادلہ خیال کیا تھا اور محکمہ دفاع کے عہدیداروں نے اراضی کی جانچ بھی کی تھی ۔ گذشتہ سال نومبر میں محکمہ دفاع نے بیسن پولو اور جمخانہ گراؤنڈ کی اراضی حکومت تلنگانہ کے حوالے کرنے سے اصولی اتفاق کیا تھا ‘ تاہم تین ماہ سے اس معاملہ میں کوئی خاص پیشرفت نہیں ہوئی بلکہ یہ سننے میں آرہا ہے کہ محکمہ دفاع نے 500ایکڑ کے بجائے 543 ایکڑ اراضی متبادل اراضی کے طور پر طلب کی ہے ‘ ساتھ ہی معاوضہ کے طور پر 1100کروڑ روپئے طلب کئے ۔ اس کے علاوہ سالانہ اخراجات بھی طلب کئے ہیں جس سے ریاستی حکومت سوچ میں پڑگئی ہے اور مرکز سے دوبارہ مذاکرات کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ متبادل اراضی کے ساتھ بھاری رقم ادا کرنے اور سالانہ اخراجات فراہم کرنے کی شرائط پر مرکز سے نظرثانی کی اپیل کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔مرکزی حکومت کی رضامندی تک نئے سکریٹریٹ کی تعمیر کو چنددنوں تک ملتوی کرنے پر غور کیا جارہا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT