Monday , June 25 2018
Home / شہر کی خبریں / نئے شہر میں خواتین کے لیے مخصوص لائبریری پرانا شہر نظر انداز

نئے شہر میں خواتین کے لیے مخصوص لائبریری پرانا شہر نظر انداز

وجئے نگر کالونی میں 50 لاکھ روپئے مالیتی کتب خانہ ، شہر کے تاریخی حصے سے تعصب کیوں ؟

وجئے نگر کالونی میں 50 لاکھ روپئے مالیتی کتب خانہ ، شہر کے تاریخی حصے سے تعصب کیوں ؟
حیدرآباد ۔ 23 ۔ ستمبر :فرخندہ بنیاد شہر جسے اب سائبر شہر بھی کہا جاتا ہے ۔ دنیا کے بے شمار تاریخی اور ترقی یافتہ شہروں کی فہرست میں ایک نمایاں اور منفرد مقام حاصل ہے ۔ جہاں تعلیم ، تہذیب ، ثقافت ، امن و امان بھائی چارہ اور کسی زمانے میں غیر معمولی خوشحالی و معاشی استحکام کی اعلی مثال قائم کی گئی تھی ۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ تلگو دیشم اور کانگریس کی ہر حکومت نے بھی اس شہر کو بین الاقوامی پر اعلی معیاری بنانے کا اعلان کرتے ہوئے ایک نیا اور ترقی یافتہ شکل دینے کا اعلان کرتی رہی ہے ۔ مگر اس شہر کا وہ قدیم علاقہ جس کو ہم پرانا شہر کہتے ہیں ترقیاتی امور میں ہمیشہ نظر انداز کیا جاتا رہا ہے ۔ جس کے باعث اس علاقے کی صورت حال حیرت ناک حد تک احساس محرومی کے شکار کی زندہ مثال نظر آتی ہے ۔ حالانکہ پرانا شہر کے بغیر شہر حیدرآباد کی کوئی خاص اہمیت و انفرادی حیثیت باقی نہیں رہ جاتی ۔ المیہ یہ ہے کہ پرانے شہر کا ماضی جس قدر تابناک و شاندار تاریخی اہمیت کا حامل رہا ہے اس کا موجودہ دور اتنا ہی تاریک اور درد ناک نظر آتا ہے ۔ یوں تو ایسی بہت ساری وجوہات اور اسباب ہیں جس سے نئے شہر اور پرانے شہر کے درمیان امتیاز اور بھید بھاؤ واضح طور پر دیکھا جاسکتا ہے ۔ تاہم آج ہم اپنے قارئین کو حکومت کی جانب سے دونوں شہروں میں قائم کئے جانے والے لائبریری کے حوالے سے بتانا چاہیں گے کہ کس طرح اس معاملے میں بھی پرانے شہر کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھا گیا ہے ۔ دراصل آج ہم نے نئے شہر کے علاقہ وجئے نگر کالونی کا دورہ کیا جہاں ہم نے ایک دو منزلہ خوبصورت عمارت میں قائم لائبریری کا جائزہ لیا جو صرف خواتین کے لیے مخصوص ہے ۔ جی ایچ ایم سی سینئیر سٹیزن پارک واقع وجئے نگر کالونی میں یہ لائبریری حیدرآباد سٹی گرندھالیہ سمستھا کی جانب سے قائم کی گئی ہے ۔ لائبریری کی یہ عمارت جملہ50 لاکھ روپئے کی لاگت سے تعمیر کی گئی ہے جو بہت ہی خوبصورت اور بہت ہی خوشگوار و پرفضا مقام پر تعمیر کی گئی ہے ۔ اس کا افتتاح 20 جون 2011 میں کیا گیا تھا ۔ اس لائبریری کی خاص بات یہ ہے کہ یہ لائبریری صرف خواتین کے لیے مخصوص ہے ۔ صبح 10 تا شام کے 4-30 بجے تک کھلی رہنے والی اس لائبریری میں حیدرآباد کے تمام اخبارات ، تلگو ، اردو ، انگریزی ، اور ہندی زبان کے یہاں دستیاب ہیں ۔ اس کے علاوہ مختلف اقسام کے میگزینس ، رسالے ، بچوں اور خواتین کے موضوع پر تحریر کی گئی کتابیں ، رسالے اور میگزینس بھی یہاں قارئین کے لیے دستیاب ہے ۔ جس میں روزانہ سے لے کر ہفتہ واری ، پندرہ روزہ ، ماہانہ ، سہ ماہی اور سالانہ میگزینس شامل ہیں ۔ یہ لائبریری حیدرآباد سٹی گرندھالیہ سمستھا کی جانب سے قائم کئی گئی ہے جس کی جانب سے دونوں شہروں میں مجموعی طور پر 84 لائبریری قائم کئے جاچکے ہیں ۔ ان میں سے 38 لائبریری پرانے شہر میں واقع ہے ۔ اس سمستھا کی سب سے بڑی لائبریری چکڑپلی میں 3 ایکڑ پر واقع ہے جہاں یومیہ 1200 افراد استفادہ کرتے ہیں ۔ مگر حیرت انگیز طور پر پرانے شہر میں ایسی ایک بھی لائبریری نہیں ہے جو خواتین کے لیے مخصوص ہو ۔ وجئے نگر میں قائم اس لائبریری سے استفادہ کرنے والی خواتین سے ہم نے بات کی تو انہوں نے بتایا کہ اس لائبریری کے قیام سے انہیں بہت فائدہ ہواہے ۔ بچے اسکول چلے جانے کے بعد وہ اپنا وقت یہاں آکر مطالعہ میں گذارتی ہیں اور اسی بہانے آس پاس کے خواتین کی خیر خیریت بھی معلوم ہوجاتی ہے ۔ اور ہم زیادہ تر وقت جو ٹی وی دیکھنے میں گذارتے تھے اب ہم وہ وقت یہاں گذارتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ممبر شپ کے ذریعہ یہاں کی کتابیں گھر لے جاکر بھی استفادہ کی سہولت ہے ۔ جب ان خواتین کو یہ پتہ چلا کہ پرانے شہر کی خواتین کے لیے ایسی کوئی لائبریری موجود نہیں ہے تو انہوں نے سخت تعجب کا اظہار کیا ۔ قارئین کرام ! ہونا تو یہ چاہئے تھا ہر حلقہ اسمبلی میں ایک لائبریری قائم کی جانی چاہئے تھی ۔ مگر ایسی کہیں ایک بھی لائبریری نہیں ہے ۔ اور اگر کہیں پر ہے بھی تو وہ خواتین کے لیے مخصوص نہیں ہے جہاں ذہنی طور پر مطمئن ہو کر استفادہ کرسکیں ۔ واضح رہے کہ وائی ایس آر حکومت نے پرانے شہر کے لیے 2000 کروڑ کے پیاکیج کا اعلان کیا تھا ۔ 800 مکانات کے وعدے کئے تھے مگر یہ سب کے سب پرانے شہر کے عوام سے ایک بھونڈا مذاق کے مترادف ہے ۔ جہاں ہر معاملے میں ہر ترقیاتی کام صرف اعلان تک محدود ہو کر رہ جاتا ہے ۔ کاش پرانے شہر میں بھی خواتین کے لیے مخصوص لائبریری ہوتی تویہاں کی خواتین بھی اس سے استفادہ کرپاتیں ۔۔

TOPPOPULARRECENT