نئے صدر نشین تلنگانہ اقلیتی کمیشن کے تقرر پر کوئی فیصلہ نہیں ہوا

حکومت موجودہ صدر نشین سے ٹکراؤ نہیںچاہتی ۔ دیگر عہدوں کیلئے قائدین کی دوڑ دھوپ

حکومت موجودہ صدر نشین سے ٹکراؤ نہیںچاہتی ۔ دیگر عہدوں کیلئے قائدین کی دوڑ دھوپ
حیدرآباد 12 فروری (سیاست نیوز) صدر نشین تلنگانہ اقلیتی کمیشن کیلئے مختلف قائدین و عہدیداروں کی دوڑ دھوپ شروع ہوچکی ہے لیکن چیف منسٹر کے دفتر کے بموجب اس سلسلہ میں حکومت سے تاحال کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے کیونکہ حکومت موجودہ صدر نشین اقلیتی کمیشن برائے آندھراپردیش و تلنگانہ مسٹر عابد رسول خان سے کسی قسم کا کوئی ٹکراو نہیں چاہتی ۔ ذرائع کی اطلاعات کے بموجب حکومت کی جانب سے صدر نشین ریاستی اقلیتی کمیشن کے علاوہ بعض کارپوریشنس پر ٹی آر ایس قائدین کی بجائے دیگر سیاسی جماعتوں کے سفارشی قائدین و بعض سابق عہدیداروں کے تقررات پر غور کیا جارہا ہے ۔ ٹی آر ایس قائدین جو ریاست تلنگانہ کے حصول کیلئے جدوجہد میں سرگرم رہے انہیں نظر انداز کرنے کی شکایات کا سلسلہ پارٹی کے اقتدار میں آتے ہی شروع ہوگیا لیکن اب ان قائدین کو احساس ہونے لگا ہے کہ وہ اپنی ہی پارٹی میں غیر ہوتے جارہے ہیں۔صدر نشین ریاستی اقلیتی کمیشن کے عہدہ پر نامزدگی کیلئے محکمہ اقلیتی بہبود کے مختلف ادارہ جات بالخصوص حج کمیٹی و اردو اکیڈیمی میں اعلی عہدہ پر فائز ایک عہدیدار نے بھی درخواست داخل کی اور انہوں نے چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھرراو کو اپنا مکمل بائیو ڈاٹا معہ درخواست روانہ کیا ہے ۔ اسی طرح محکمہ برقی کے ایک سابق عہدیدار کا نام بھی کمیشن کے اعلی عہدے کیلئے سنا جارہا ہے جبکہ ایک رکن پارلیمنٹ انہیں ریاست تلنگانہ کے محکمہ برقی میں کسی بورڈ کے ڈائرکٹر نامزد کروانے کی سفارش کررہے ہیں۔ تلنگانہ ریاستی اقلیتی کمیشن میں خدمات کی انجام دہی اور عہدہ حاصل کرنے والوں کی فہرست طویل ہوتی جارہی ہے اس فہرست میں ایک سابق رکن اقلیتی کمیشن کے علاوہ ایک سابق انسانی حقوق کمیشن کا نا م بھی لیا جارہا ہے۔ ذرائع کے بموجب حکومت کی جانب سے کمیشن کے عہدے پر ایسے شخص کی نامزدگی کا امکان ہے جو حکومت سے نہ الجھے چونکہ جناب یوسف قریشی مرحوم سربراہ کو کانگریس نے راج شیکھر ریڈی نے اقلیتی کمیشن کا سربراہ نامزد کیا تھا اور بحیثیت صدر نشین کمیشن انہوں نے مختلف محکمہ جات کے عہدیدار و بالخصوص پولیس کی جانب سے اقلیتوں و مسلمانوں کے تعلق سے اختیار کردہ متعصبانہ رویہ کو منظر عام پر لایاتھا اور مکہ مسجد بم دھماکہ کے بعد سرگرم رول ادا کرکے تفصیلی رپورٹ پیش کی تھی۔ حکومت کی جانب سے کسی نیم سرکاری یا سرکاری عہدیدا پر مامور فرد کے علاوہ ٹی آر ایس یا تلنگانہ مہم سے غیر وابستہ شخص کو صدر نشین ریاستی اقلیتی کمیشن کے عہدہ پر فائز کئے جانے پر ٹی آر ایس اقلیتی قائدین میں ناراضگی میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT