Sunday , July 22 2018
Home / مضامین / نئے محاذوں کا موسم آگیا!

نئے محاذوں کا موسم آگیا!

جہاں تک تلنگانہ کا سوال ہے یہاں بھی کانگریس اور برسر اقتدار ٹی آر ایس ایک دوسرے کی مخالف ہیں ان میں بھی اس قسم کا انتخابی ٹکراؤ ہوتا رہا ہے جیسے اترپردیش میں ہوتا رہا۔ ان حالات میں اگر سونیا گاندھی کے محاذ کی کوشش کو کامیاب بنانا ہے تو اس ریاست میں دونوں پارٹیوں میں کوئی تصادم نہیں ہونا چاہئے۔ اس کے لئے کانگریس اور ٹی آر ایس کو کسی ایسے فارمولے کی تلاش کرنی پڑی گی کہ انتخابات میں ایک دوسرے کا گریباں نہ چاک کریں۔ کانگریس کو اپنی خود پرستی اور برتری کا جنون ترک کرنا ہوگا اور ٹی آر ایس کو اپنے رویہ میں تبدیلی لانی پڑے گی۔ بی جے پی کو شکست دینے کے لئے اتحاد کے بارے میں نقطہ نظر کو وسیع تر بنانے کی ضرورت ہے۔ صرف مقامی سیاسی تقاضوں کو نہیں قوم کے تقاضوں کو اگر پارٹیاں پیش نظر رکھیں تو تمام مراحل طے ہوسکتے ہیں۔

غضنفر علی خان
ابھی کچھ دن پہلے چیف منسٹر کے سی آر نے اعلان کیا تھا کہ وہ غیر کانگریس اور غیر بی جے پی پارٹیوں کو متحد کرکے ایک سیاسی محاذ بنائیں گے جو 2019 ء کے انتخابات میں بی جے پی کا مقابلہ کرے گا۔ یہ خبر خوش آئند ضرور تھی لیکن اس کے کچھ ہی دن بعد 13 مارچ کو ملک کی سب سے بڑی پارٹی کی سابق سربراہ سونیا گاندھی نے اپنی قیامگاہ پر غیر بی جے پی یا یوں کہئے کہ سیکولر پارٹی کے لیڈروں کو ڈنر پر مدعو کیا جس میں ملک کی تقریباً تمام پارٹیوں کے اہم لیڈروں نے شرکت کی۔ ایک طرف جنوبی ہند کی نومولود ریاست تلنگانہ کے چیف منسٹر کے سی آر نے جس محاذ سازی کا اعلان کیا تھا اس کا بھی مثبت ردعمل دیکھا گیا لیکن جس کر و فر کا مظاہرہ سونیا گاندھی کی دعوت میں دکھائی دیا وہ تلنگانہ کے چیف منسٹر کی پیش کش کے جواب کے مقابلہ میں بہت زیادہ تھا۔ کئی گوشوں سے آواز اُٹھ رہی ہے کہ اپوزیشن پارٹیوں کے اتحاد ان کے محاذ میں کوئی بٹوارہ نہ ہو کیوں کہ ایسی صورت میں ملک کا سیکولر ووٹ منتشر ہوجائے گا۔ یہ امکانی صورت سیکولر پارٹیوں کے لئے سخت نقصان دہ ثابت ہوگی۔ بی جے پی کی شکست کے لئے جس کی خواہش تمام سیاسی پارٹیاں رکھتی ہیں سیکولر ووٹ کو تقسیم ہونے سے بچانا ضروری ہے کیوں کہ اسی صورت میں سیکولر پارٹیاں پارلیمنٹ میں اکثریت حاصل کرسکتی ہیں۔ فی الحال ہندوستان میں فرقہ پرست پارٹیوں کا ووٹ بینک اس قابل ہے کہ ووٹوں کے انتشار کی صورت میں اس بینک سے بی جے پی اور اس کا ساتھ دینے والی پارٹیوں کو مطلوبہ اکثریت حاصل ہوسکتی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ سونیا گاندھی اور کے سی آر کی ان محاذ آرائیوں کا آخر کیا نتیجہ برآمد ہوگا۔ یہ سوچ کر ہی سیکولرازم کی حامی تمام جماعتوں کے ہوش ٹھکانے آجانے چاہئے۔ سیکولر محاذ ایسی صورت میں اپنے مقصد میں خدانخواستہ ناکام ہوجائے گا تو پھر یہ تمام سیکولر پارٹیاں آخر کیا کریں۔ جہاں تک بی جے پی کا معاملہ ہے ابھی جنوبی ریاستوں میں اس کے حامیوں کی تعداد بہت کم ہے۔ تمل ناڈو، کیرالا، کرناٹک، آندھرا اور تلنگانہ میں ابھی بی جے پی مستحکم نہیں ہوئی ہے یا کم از کم اتنا کہا جاسکتا ہے کہ وہ اتنی مضبوط نہیں ہے جتنی کہ شمالی ہند میں ہے۔ حال ہی میں شمال مشرقی ریاستوں تریپورہ اور ناگالینڈ میں جو چناؤ ہوئے اس میں بھی بی جے پی نے قابل لحاظ کامیابی حاصل کی جس کی نہ تو بی جے پی کو توقع تھی اور نہ سیاسی پنڈتوں کا کوئی اندازہ تھا۔ ان انتخابات میں تو تریپورہ کی مارکسسٹ حکومت کا 28 سالہ دور ختم ہوگیا۔ کرناٹک میں بی جے پی ہرممکن اور ہر جائز و ناجائز کوشش کررہی ہے۔ الزام تراشیاں ہورہی ہیں لیکن کرناٹک میں موجودہ کانگریس حکومت ان حملوں کا اس انداز میں جواب دے رہی ہے کہ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ 2019 ء کے انتخابات میں دوبارہ کانگریس ہی کو اقتدار ملے گا۔ تلنگانہ میں بھی بی جے پی کا کوئی خاص اثر نہیں ہے۔

تامل ناڈومیں آل انڈیا انا ڈی ایم کے ابھی بھی اپنا وزن اور سیاسی قد رکھتی ہے یہاں بی جے پی کو کبھی بھی انتخابی کامیابی حاصل ہوگی۔ یہ مشکل لگتا ہے۔ کیرالا کی صورتحال البتہ دگرگوں ہے وہاں کمیونسٹ حکومت کی کارکردگی اطمینان بخش نہیں ہے۔ رہا سوال آندھرا کا تو وہاں تلگودیشم پارٹی کے لیڈر اور چیف منسٹر چندرابابو نائیڈو کو ہرانا بی جے پی کے بس میں نہیں ہے۔ اس لحاظ سے بی جے پی جنوبی ریاستوں میں اپنی کامیابی کا خواب پورا نہیں کرسکتی۔ تو کیا ان محاذ آرائیوں کے نتیجہ میں اپوزیشن جماعتوں کا اتحاد جنوبی اور شمالی ہندوستان میں اپنا علیحدہ وجود رکھے گا؟ شمالی ہندوستان کے حالات یکسر بدلے ہوئے ہیں۔ لیکن یہاں بھی مدھیہ پردیش اور راجستھان کے ضمنی پارلیمانی چناؤ میں بی جے پی کو شکست ہوئی ہے۔ اس پارٹی کے ہوش اڑ گئے ہیں۔ اس کے باوجود یہ کہنا مشکل ہے کہ ضمنی انتخابات اور عام انتخابات میں یکساں نتائج برآمد ہوں گے۔ شمالی ہندوستان کے علاوہ مغربی بنگال ایک اہم ریاست ہے جہاں بی جے پی سر پھوڑ کوشش کررہی ہے۔ تاہم مغربی بنگال میں ممتا بنرجی اور ان کی پارٹی ترنمول کانگریس کا قلعہ بہت مضبوط ہے۔ 2019 ء تک بھی اس قلعہ میں کوئی شگاف پڑنے کا فی الحال کوئی امکان نہیں ہے۔ لیکن مشکل یہ ہے کہ ممتا بنرجی ابھی کانگریس کے ساتھ کسی مفاہمت کے لئے تیار نہیں ہیں اور جب تک یہ مفاہمت نہیں ہوگی تب تک بی جے پی کا خطرہ مغربی بنگال پر یونہی منڈلاتا رہے گا۔ ملک کی سیاسی صورتحال مجموعی طور پر انتہائی گنجلک ہے لیکن دھیرے دھیرے سیاسی مطلع صاف ہورہا ہے اور غیر بی جے پی پارٹیوں کو یہ بات سمجھ آرہی ہے کہ ان کی متحدہ طاقت ہی بی جے پی کو انتخابات میں شکست دے سکتی ہے۔ تصویر کا دوسرا رُخ بھی ان معنوں میں حوصلہ افزاء نہیں ہے کہ سیکولر جماعتوں میں ہنوز کامل مفاہمت نہیں ہورہی ہے۔ ابھی تمام کوششیں جو ہورہی ہیں ان سے ان پارٹیوں اور ملک کے عوام کو یہ اُمید ہے کہ بالآخر ان اپوزیشن پارٹیوں کو یہ خیال تو آجائے گا کہ اگر ملک کی سیکولر روح کو بچانا ہو تو انھیں ایک پلیٹ فارم پر آنا اور لانا ہوگا۔ اگر اپوزیشن اپنے انا کے خول سے باہر نہیں نکلیں گی تو پھر وہی ہوگا جس کا خواب بی جے پی دیکھ رہی ہے۔

اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ اپوزیشن کو متحد کرنے اور ایک پلیٹ فارم پر لانے کی جو مساعی اس وقت جاری ہیں ان میں اخلاص نیت ضرور ہے۔ سونیا جی کی کوشش ہو کہ کے سی آر کی جدوجہد اس میں ایک چیز مشترک ہے وہ یہ کہ ملک کو فرقہ پرست طاقتوں کی حکمرانی سے بچایا جائے۔ اور ہندوستان کی سیکولر ڈیموکریسی کا وہ سلسلہ جو تحریک آزادی کے جانبازوں اور مخلص لیڈروں نے گاندھی جی کی قیادت میں شروع کیا تھا وہ یونہی چلتا رہے۔ یہ ممکن ہے بشرطیکہ اپوزیشن پارٹیاں ایثار سے کام لیں کیوں کہ بعض ریاستوں میں چند علاقائی جماعتیں بے شک اپنا ناقابل تردید وجود رکھتی ہیں جیسے اترپردیش میں سماج وادی پارٹی، بہوجن سماج پارٹی، مغربی بنگال میں ترنمول کانگریس قابل ذکر ہیں۔ ایک کٹھن مرحلہ یہ بھی ہیکہ کانگریس پارٹی بعض علاقائی پارٹیوں سے اپنے لئے انتخابی خطرہ محسوس کرتی ہے۔ خاص طور پر اترپردیش کی دونوں جماعتیں یقینی طور پر اپنی ریاست میں کانگریس پارٹی سے بہت زیادہ مضبوط ہیں۔ سماج وادی اور بہوجن سماج پارٹی نے گورکھپور اور پھول پور کے ضمنی چناؤ میں باہمی مفاہمت کرکے ایک اچھی مثال قائم کی ہے اگرچیکہ عام حالات میں دونوں پارٹیاں ایک دوسرے کی کٹر مخالف ہیں اور دونوں میں ہمیشہ ٹکراؤ رہا ہے۔ جہاں تک تلنگانہ کا سوال ہے یہاں بھی کانگریس اور برسر اقتدار ٹی آر ایس ایک دوسرے کی مخالف ہیں ان میں بھی اس قسم کا انتخابی ٹکراؤ ہوتا رہا ہے جیسے اترپردیش میں ہوتا رہا۔ ان حالات میں اگر سونیا گاندھی کے محاذ کی کوشش کو کامیاب بنانا ہے تو اس ریاست میں دونوں پارٹیوں میں کوئی تصادم نہیں ہونا چاہئے۔ اس کے لئے کانگریس اور ٹی آر ایس کو کسی ایسے فارمولے کی تلاش کرنی پڑی گی کہ انتخابات میں ایک دوسرے کا گریباں نہ چاک کریں۔ کانگریس کو اپنی خود پرستی اور برتری کا جنون ترک کرنا ہوگا اور ٹی آر ایس کو اپنے رویہ میں تبدیلی لانی پڑے گی۔ بی جے پی کو شکست دینے کے لئے اتحاد کے بارے میں نقطہ نظر کو وسیع تر بنانے کی ضرورت ہے۔ صرف مقامی سیاسی تقاضوں کو نہیں قوم کے تقاضوں کو اگر پارٹیاں پیش نظر رکھیں تو تمام مراحل طے ہوسکتے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT