Saturday , November 18 2017
Home / ہندوستان / نئے کاموں کا آغاز و تکمیل بہار پیاکیج کا مقصد : مرکزی حکومت کا ادعا

نئے کاموں کا آغاز و تکمیل بہار پیاکیج کا مقصد : مرکزی حکومت کا ادعا

مختلف پراجیکٹس کی مرحلہ وار انداز میں تکمیل کا نشانہ ۔ پیاکیج سے اقتصادی خسارہ میں اضافے کے اندیشے بھی مسترد
نئی دہلی 20 اگسٹ ( سیاست ڈاٹ کام ) مرکزی حکومت نے آج ان تنقیدوں کو مسترد کردیا کہ بہار کیلئے 1.25 لاکھ کروڑ روپئے کا خصوصی پیاکیج در اصل سابقہ اور موجودہ اسکیمات کی ہی بدلی ہوئی شکل ہے ۔ حکومت نے آج کہا کہ اس پیکج میں جو رقومات مختص کی گئی ہیں وہ مرکزی فنڈز معمول سے زیادہ دئے گئے ہیں اور ہر اسکیم میں نئے کام شامل کئے گئے ہیں۔ حکومت کے اعلی سطح کے ذرائع نے کہا کہ اسکیمات کیلئے ضروری گنجائشیں آئندہ برسوں میں بجٹس میں پیش کی جائیں گی ۔ حکومت نے ان تنقیدوں کو بھی مسترد کردیا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کے معلنہ پیاکیج میں فنڈز کے ذرائع کو واضح نہیں کیا گیا ہے اور نہ ہی بجٹ میں مختص کی جانے والی رقم کا حوالہ دیا گیا ہے ۔ ذرائع نے ان اندیشوں کو بھی مسترد کردیا کہ اس قدر بھاری پیاکیج سے اقتصادی خسارہ ہوسکتاہ ے ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ جو اخراجات کئے جائیں گے وہ سرمایہ اخراجات کی شکل میں ہونگے اور ان کے نتیجہ میں پیداوار میں بہتری ہوگی اور معاشی ترقی کو دوبارہ بہتر بنایا جاسکے گا ۔ ذرائع نے کہا کہ اس پیاکیج میں یہ عزم ہے کہ جو اسکیمات اور کام شروع ہی نہیں ہوسکے ہیں انہیں شروع کیا جائے اور تکمیل تک پہونچایا جائے ۔ مرکزی حکومت نے یہ واضح کیا کہ یہ پیاکیج ایک بہت مخصوص اور تفصیلی فہرست ہے ان کاموں کی جو شروع نہیں ہوسکے ہیں۔ یہ صرف معاشی اختصاص کا پلندہ نہیں ہے ۔ اس پیاکیج کے وقت کے تعلق سے ذرائع نے کہا کہ اس کی مہلت ہر کام کیلئے مختلف ہے ۔ کچھ کام ایک مختصر وقت ایک تا دو سال میں نافذ ہوسکتے ہیں جبکہ کچھ دوسرے کاموں کیلئے وقت درکار ہوسکتا ہے ۔

 

کہا گیا ہے کہ پیاکیج میں یہ عزم ہے کہ مختلف پراجیکٹس کیلئے ایک مقررہ وقت کے اندر فنڈز فراہم کئے جائیں۔ روزگار کے مواقع فراہم کرنے والے کاموں کیلئے ٹیکس استثنی کی اسکیم پر پہلے ہی عمل آوری شروع ہوگئی ہے ۔ اب یہ ریاستی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ مینوفیکچررس کو راغب کرکے روزگار کے مواقع پیدا کرے ۔ ذرائع نے کہا کہ اس پیاکیج کے تحت ہونے والے اخراجات میں کچھ حصہ مرکزی بجٹ سے ہوگا اور کچھ عوامی شعبہ کے اداروں کا ہوگا ۔ ان اندیشوں کے تعلق سے کہ معاشی احیاء کے پیاکیج کے نتیجہ میں اقتصادی خسارہ ہوسکتا ہے ذرائع نے کہا کہ اخراجات کا جو تخمینہ ہے وہ مقررہ اقتصادی خسارہ کے نشانوں کے حدود میں ہی ہے اور اس کیلئے مرکزی حکومت خود اقداماتک ر رہی ہے۔ ذرائع نے کہا کہ بہار پیاکیج کے نتیجہ میں بحیثیت مجمودی اقتصادی خسارہ میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا اور اسے ایک مقررہ نشانہ کے اندر رکھا جائیگا ۔ یہ بھی ذہن نشین رکھنے کی ضرورت ہے کہ حکومت نے پہلے ہی سڑکوں اور ریلویز کیلئے بجٹ میں رقمی گنجائش میں زبردست اضافہ کیا ہے ۔ اس الزام کے تعلق سے اس پیکج میں موجودہ اسکیمات کا ہی احاطہ کیا گیا ہے انہوں نے کہا کہ ہر اسکیم اور پراجیکٹ میں یا تو نئے کام شامل کئے گئے ہیں یا پھر ایسی اسکیم کا احاطہ کیا گیا ہے جو ابھی تک شروع ہی نہیں ہوئی ہے ۔ ذرائع کے بموجب جو کام پہلے ہی سے چل رہے ہیں ان کو 1,25,000 کروڑ روپئے کے کاموں سے الگ ہی رکھا گیا ہے ۔ ہائی ویز کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کام کیلئے جو 54,713 کروڑ روپئے مختص کئے گئے ہیں ان میں 44,722 کروڑ روپئے نئے پراجیکٹس کیلئے مختص ہیں جن کی منظوری مل رہی ہے ۔ 991 کروڑ روپئے ان پراجیکٹس کیلئے ہیں جو پہلے منظور ہوچکے ہیں لیکن ان پر کام شروع نہیں ہوسکا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT