Sunday , December 17 2017
Home / Top Stories / نئے کرنسی نوٹوں کی طباعت صدی کا سب سے بڑا اسکام

نئے کرنسی نوٹوں کی طباعت صدی کا سب سے بڑا اسکام

ایک ہی نوٹ کے مختلف اقسام، راجیہ سبھا میں اپوزیشن کی ہنگامہ آرائی
نئی دہلی 8 اگسٹ (سیاست ڈاٹ کام) اپوزیشن جماعتوں نے مختلف حجم اور اقسام کے 500 اور 2000 کرنسی نوٹوں کی طباعت کا الزام عائد کرتے ہوئے اس کو صدی کا سب سے بڑا اسکام قرار دیا اور اس مسئلہ پر اپوزیشن کی ہنگامہ آرائی کے سبب راجیہ سبھا کی کارروائی درہم برہم ہوگئی۔ حکومت نے جوابی وار کرتے ہوئے کانگریس اور ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور الزام عائد کیاکہ وہ مفروضہ و مذموم مسائل اُٹھارہے ہیں اور اس قسم کے دعوؤں سے ملک میں اُلجھن پیدا کررہے ہیں۔ ایوان میں کانگریس اور ترنمول کانگریس کے ارکان نے اس مسئلہ پر بلاوقفہ شوروغل اور نعرہ بازی کی جس کے نتیجہ میں اجلاس کو چھ مرتبہ ملتوی کیا گیا۔ ساتویں مرتبہ اجلاس کے آغاز کے بعد بھی ہنگامہ آرائی جاری رہی جس کے پیش نظر دوپہر 2.30 بجے ایوان کی کارروائی دن بھر کے لئے ملتوی کردی گئی۔ یہاں یہ واقعہ بھی نمایاں اہمیت کا حامل رہا کہ جے ڈی (یو) کے شرد یادو نے اپوزیشن جماعتوں کا ساتھ دیا حالانکہ ان کی پارٹی اب بی جے پی کے زیرقیادت این ڈی اے کا حصہ بن چکی ہے۔

وزیر فینانس ارون جیٹلی نے کہاکہ کانگریس کوئی نوٹس دیئے بغیر وقفہ صفر کی کارروائی کو روکنے کیلئے شرپسندی کے ساتھ غیر ضروری مسائل اُٹھا رہی ہے۔ چند ارکان نے جن میں ڈیرک اوبرائین (ٹی ایم سی) بھی شامل تھے نوٹ بندی کے بعد جاری 500 روپئے کے نئے نوٹس دکھایا جو مختلف حجم کے تھے۔ اوبرائین نے ابتداء میں یہ نوٹ بغرض تنقیح جیٹلی کو پیش کرنے کی کوشش کی۔ بعدازاں دونوں نوٹوں میں فرق دکھانے اُن کے پاس پہونچ گئے۔ تاہم اُنھوں نے وزیر فینانس وہ نہیں دیا۔ جیٹلی نے کہاکہ قواعد میں ایسی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ ہر کوئی کاغذ لہرائے اور کہے کہ ’’پوائنٹ آف آرڈر‘‘ ہے۔ جیٹلی نے کہاکہ وقفہ صفر کا بیجا استعمال کیا جارہا ہے۔

اُنھوں نے کہاکہ اس سے قبل کانگریس نے رائے دہی کے موقع پر بیلٹ پیپر میں شامل اختیار ’’مندرجہ بالا میں سے کوئی بھی نہیں‘‘ (نوٹا) کا مسئلہ اُٹھایا۔ بعدازاں خود اس پارٹی نے معلوم کرلیا کہ اس کی گنجائش موجود ہے۔ تاہم جیٹلی نے مختلف حجم کے نوٹوں کی طباعت سے متعلق اپوزیشن کے الزام و استدلال کا کوئی جواب نہیں دیا۔ راجیہ سبھا کا اجلاس جیسے ہی آج 11 بجے دن شروع ہوا کانگریس کے کپل سبل نے سب سے پہلے یہ مسئلہ اُٹھایا تھا۔ اُنھوں نے پوائنٹ آف آرڈر اُٹھاتے ہوئے کہا تھا کہ ’’ہمیں آج اس وجہ کا پتہ چل گیا جس کے لئے حکومت قدیم کرنسی (گزشتہ سال نومبر میں 500 اور 1000 روپئے) کے نوٹوں کو منسوخ کی تھی‘‘۔ قائد اپوزیشن غلام نبی آزاد نے کہاکہ ’’یہ (نوٹ بندی) اس صدی کا سب سے بڑا اسکام ہے‘‘ لیکن وزیر قانون روی شنکر پرساد اور مملکتی وزیر پارلیمانی اُمور مختار عباس نقوی نے کانگریسی قائدین کے استدلال کی سخت مخالفت کی۔ آزاد نے کہاکہ ایک ہی قدر کے نوٹ دو مختلف زاویوں میں طبع کئے گئے ہیں۔ حکومت کو حتیٰ کہ پانچ منٹ بھی اقتدار پر فائز رہنے کا حق نہیں ہے۔ نائب صدرنشین پی جے کورئین نے کہاکہ اگر ایک ہی قدر کے نوٹ دو قسموں میں طبع کئے گئے ہیں تو بھی یہ مسئلہ پوائنٹ آف آرڈر نہیں ہوسکتا۔ ’’آپ بھی دوسری شکل میں یہ مسئلہ اُٹھاسکتے ہیں‘‘۔

TOPPOPULARRECENT