Tuesday , November 21 2017
Home / Top Stories / نائب صدرجمہوریہ کے عہدہ کے وقار کی پاسداری

نائب صدرجمہوریہ کے عہدہ کے وقار کی پاسداری

بی جے پی سے دیرینہ وابستگی ختم ، اب تمام جماعتوں سے بالاتر ہوچکا ہوں:وینکیانائیڈو
نئی دہلی ۔18جولائی ۔ ( سیاست ڈاٹ کام )نائب صدر کے عہدہ کے انتخاب کیلئے این ڈی اے کے امیدوار ایم وینکیا نائیڈو نے سیاسی جماعتوں سے رجوع ہوتے ہوئے کہا کہ بی جے پی سے اب ان کی وابستگی باقی نہیں رہی اور اس عہدہ پر منتخب ہونے کی صورت میں وہ جمہوری اداروں کو مستحکم بنانے کے لئے کام کریں گے۔ وینکیا نائیڈو نے پارلیمانی کامپلکس میں آج اپنا پرچہ نامزدگی داخل کیا ، اس موقع پر وزیراعظم نریندر مودی اُن کی پارٹی کے سینئر لیڈر ایل کے اڈوانی اور دوسرے موجود تھے ۔ انھوں نے کہا کہ یہ امیدواری اُن کے لئے ایک گرانقدر اعزاز ہے اور انتخاب کی صورت میں وہ اس عہدہ کا وقار برقرار رکھیں گے ۔ وینکیا نائیڈو نے پرچہ نامزدگی کے ادخال کے فوری بعد وداعی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نریندر مودی اور بی جے پی کے صدر امیت شاہ سے تشکر و ممنوئیت کا اظہار کیا اور ان اطلاعات کو مسترد کردیا کہ نئی ذمہ داری سے وہ کوئی دلچسپی نہیں رکھتے ۔ انھوں نے اخباری نمائندوں سے کہا کہ ’’سروے پلی رادھا کرشنن ، ذاکر حسین ، ایم ہدایت اﷲ ، آر وینکٹ رامن ، شنکردیال شرما اور بھیرون سنگھ شیخاوت جیسی قد آور شخصیات نائب صدرجمہوریہ کے عہدہ پر فائز رہی ہیں۔ اس باوقار ادارے سے وابستہ ذمہ داریوں سے میں بخوبی باخبر ہوں ۔ ملک کو میں یقین دلانا چاہتا ہوں کہ منتخب ہونے کی صورت میں اپنے انتہائی قابل قدر اور ذی احترام پیشروؤں کی طرف سے چھوڑے گئے معیار و روایات کی پاسداری کروں گا ۔ نائب صدر کے عہدہ کے وقار کو میں برقرار رکھوں گا‘‘۔ وینکیا نائیڈو نے کہاکہ ہندوستان کی خوبصورت اور طاقت ، پارلیمانی جمہوری نظام میں پیوست ہے اور یہ ان کی خواہش اور کوشش ہوگی کہ اس کو مزید مستحکم کیا جائے ۔ سابق مرکزی وزیر نے اپنے سیاسی کیرئیر کی معمولی اندااز میں شروعات کاتذکرہ کرتے ہوئے بی جے پی کو اپنی مادر جماعت قرار دیا ۔ نائیڈو نے کہاکہ وہ کم عمری میں ہی اپنی والدہ کی شفقت سے محروم ہوگئے تھے اور پارٹی کارکنوں کے ساتھ ہی پلے بڑے ہوتے ہوئے پارٹی کی مدد کی بدولت ہی آج اس مقام پر پہونچے ہیں۔ لیکن اب وہ اپنی ماں جیسی جماعت بی جے پی سے وابستہ نہیں رہے ۔ انھوں نے کہاکہ ’’اب میں ہر جماعت سے بالاتر ہوچکا ہوں‘‘ ۔ ان کے قریبی ذرائع نے کہاکہ وینکیا نائیڈو بی جے پی کی ابتدائی رکنیت سے بھی مستعفی ہوگئے ہیں۔ وہ کل رات اپنی امیدواری کے اعلان کے بعد مرکزی کابینہ سے بھی مستعفی ہوگئے تھے ۔ انھوں نے کہاکہ وہ راجیہ سبھا کے رکن برقرار رہیں گے اور 5 اگسٹ کو نائب صدر کے عہدہ کے لئے ہونے والے انتخاب میں ووٹ ڈالیں گے ۔ اس انتخاب میں اعدادی طاقت کے اعتبار سے اپوزیشن امیدوار گوپال گاندھی کے مقابلے وینکیا نائیڈو کی کامیابی یقینی ہے۔

میرا ارادہ کچھ اور تھا لیکن قسمت کافیصلہ کچھ تھا : وینکیا نائیڈو
نئی دہلی ۔18جولائی ۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) نائب صدرجمہوریہ کے عہدہ کے لئے حکمراں این ڈی اے کے امیدوار ایم وینکیا نائیڈو نے آج کہا کہ وہ 2019 ء میں وزیراعظم نریندر مودی کی اقتدار پر دوبارہ واپسی دیکھنا چاہتے تھے اور اس کے بعد سماجی خدمت سے وابستہ ہونا چاہتے تھے لیکن قسمت کافیصلہ کچھ اور ہی تھا۔ نائیڈو نے جو بی جے پی چھوڑ چکے ہیں کہا کہ وہ مودی کی عظیم قیادت کو مزید مستحکم بنانا چاہتے تھے ۔ انھوں نے کہاکہ ’’ملک کو ایک عظیم قیادت ملی ہے ‘‘ ۔ ہمیں اس قیادت کے ذریعہ اپنے ملک کو مستحکم بنانا چاہئے اور آگے بڑھنا چاہئے۔ یہی میری خواہش تھی۔

TOPPOPULARRECENT