Thursday , December 14 2017
Home / سیاسیات / نائب صدر کانگریس راہول گاندھی کی مبینہ برطانوی شہریت پر تنازعہ

نائب صدر کانگریس راہول گاندھی کی مبینہ برطانوی شہریت پر تنازعہ

ایل کے اڈوانی کی زیر قیادت پارلیمنٹ کی اخلاقیات کمیٹی کی جانب سے نوٹس کی اجرائی
نئی دہلی ۔ 14 ۔ مارچ (سیاست ڈاٹ کام) نائب صدر کانگریس راہول گاندھی کو سینئر بی جے پی لیڈر ایل کے اڈوانی کی زیر قیادت پارلیمنٹ کی اخلاقیات کمیٹی نے ایک نوٹس جاری کردی ہے اور برطانیہ میںان کی شہریت کے اعلان سے متعلق الزامات پر جواب طلب کیا۔ میڈیا کے نمائندوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے راہول گاندھی نے کہا کہ اس معاملہ سے بہتر طریقہ سے نمٹا جائے گا جبکہ کانگریس شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے یہ الزام عائد کیا ۔ حکومت ملک کو درپیش مسائل سے توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہی ہے ۔ ماہ جنوری کے پہلے ہفتہ میں اسپیکر لوک سبھا سمترا مہاجن سے ایک بی جے پی رکن پارلیمنٹ مہیش گیری کی ایک شکایت کو ایتھکس کمیٹی سے رجوع کردیا تھا جس میں انہوں نے یہ درخواست کی تھی کہ پارٹی کے ایک ساتھی سبرامنیم سوامی کے اس الزام کی تحقیقات کروائی جائے کہ راہول گاندھی نے ازخود برطانیہ میں ایک فرم قائم کرتے ہوئے وہاں کے شہری ہونے کا اقرار کیا ہے ۔ پارلیمنٹ کے باہر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے اخلاقیات کمیٹی کے ایک رکن ارجن رام میگاوال نے بتایا کہ راہول گاندھی کو ایک وجہ نمائی نوٹس جاری کردی گئی ہے اور یہ جواب طلب کیا گیا کہ انہوں نے کسی طرح برطانیہ کی شہریت ثابت کی اور لندن میں قیام کے دوران ایک فرم (ادارہ) کے ڈائرکٹر بن گئے۔ ڈاکٹر سبرامنیم سوامی نے بھی اس معاملہ میں اسپیکر سے رجوع ہوکر تفصیلات سے واقف کروایا تھا۔ مہیش گیری جو کہ مشرقی دہلی کے رکن پارلیمنٹ ہیں ، یہ استدلال پیش کیا تھا کہ عوام کو اس مسئلہ کی حقیقت معلوم ہونا چاہئے اور اسپیکر سے گزارش کی تھی کہ مناسب تحقیقات کیلئے پہل کی جائے یہ معاملہ اخلاقیات کمیٹی سے رجوع کرنے کے بعد اسپیکر نے کہا تھا جب بھی کوئی رکن پارلیمنٹ اپنی شکایت اسپیکر کو پیش کرتا ہے تو اسے قواعد کے مطابق کمیٹی کے حوالے کردیا جاتا ہے۔ ڈاکٹر سبرامنیم سوامی جو کہ سابق رکن پارلیمنٹ بھی ہیں، گزشتہ سال نومبر میں وزیراعظم نریندر مودی کو ایک مکتوب روانہ کرتے ہوئے راہول گاندھی کی شہریت پر سوالات اٹھائے تھے جس پر راہول گاندھی نے الٹا وار کرتے ہوئے یہ الزام عائد کیا تھا کہ وزیراعظم نے ا پنے ٹٹوؤں کے ذریعہ کیچڑ اچھالنے کی مہم شروع کردی اور حکومت کو للکارا تھا کہ ان کے خلاف الزامات کی تحقیقات کروائیں اور قصوروار پائے جانے پر جیل بھیج کر دکھائیں۔ کانگریس لیڈر رینوکا چودھری نے آج یہ الزام عائد کیا کہ حکومت ، ملک کو درپیش مختلف بحرانوں سے توجہ ہٹانے کیلئے شہریت کا مسئلہ چھیڑا ہے ۔ ا یک اور پارٹی لیڈر ڈگ وجئے سنگھ نے کہا کہ یہ شکایت توجہ کی طالب نہیں ہے کیونکہ ایک ایسا شخص جس کی پیدائش ہندوستان میں ہوئی ہے اور جس کی دادی اور والد ملک کے وزیراعظم تھے، کیا وہ کسی دوسرے ملک کا شہری ہوسکتا ہے ؟ اخلاقیات کمیٹی کو اس طرح کی شکایت مسترد کردینا چاہئے ۔ واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے بھی گزشتہ سال نومبر میں راہول گاندھی کے خلاف الزامات کی سی بی آئی تحقیقات کیلئے ایک عرضی کو مسترد کردیا ہے اور مفاد عامہ کی درخواست کے ساتھ منسلک دستاویزات کی اصلیت اور پیش کرنے کے طریقہ کار پر استفسار کیا تھا۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT