Tuesday , December 12 2017
Home / Top Stories / نائجیریا کی مسجد میں بوکوحرام کا خودکش دھماکہ، 50 مصلی جاں بحق

نائجیریا کی مسجد میں بوکوحرام کا خودکش دھماکہ، 50 مصلی جاں بحق

دوسری رکعت میں حملہ ، درجنوں زخمیوں کی حالت تشویشناک ، مسجد کا چھت اُڑ گیا، افراتفری کا ماحول

کانو(نائجیریا)۔21 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) شمال مشرقی نائجیریا کی ایک مسجد میں ایک خودکش بمبار دھماکہ میں کم سے کم 50 مصلی جاں بحق ہوگئے۔ اس حملے کیلئے ممنوعہ جہادی تنظیم بوکوحرام کو موردالزام ٹھہرایا گیا۔ پولیس نے تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا کہ ریاست اداماوا کے دارالحکومت یولا سے200 کیلومیٹر دور واقع علاقہ موبی میں انووار شوا کی مدینہ مسجد میں نماز فجر کے دوران یہ دھماکہ ہوا۔ اڈاماوا ریاستی پولیس کے ترجمان عثمان ابوبکر نے اے ایف پی سے کہا کہ ’’موبی کی مسجد میں حملے سے تاحال کم سے کم 50 افراد ہلاک ہوچکے ہیں‘‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’’متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں، ہمارے پاس فی الحال ان کی صحیح تعداد موجود نہیں ہے، کیونکہ انہیں مختلف دواخانوں کو منتقل کردیا گیا ہے‘‘۔ عثمان ابوبکر نے کہا کہ ’’وہ خودکش بمبار تھا جو نماز فجر کے لئے پہونچنے والے مصلیوں کے ساتھ مسجد میں داخل ہوا اور ان (مصلیوں) میں گھل مل گیا اور جب نماز جاری تھی کہ اس نے دھماکہ کردیا‘‘۔ اس سوال پر کہ اس (دھماکہ) کے ذمہ دار کون ہیں، پولیس ترجمان نے جواب دیا کہ ’’ہم تمام اس رجحان کو جانتے ہیں‘‘ ہم کسی پر واضح انداز میں شبہ تو نہیں کرسکتے لیکن ہم سب جانتے ہیں کہ اس قسم کے حملوں کے پیچھے کون ہوتے ہیں‘‘۔ اس حملے میں بوکوحرام کے طریقہ کار کے تمام نشان اور انداز پائے گئے۔ اس اسلامی عسکریت پسند تنظیم کی تخریب کاری میں 2009ء سے تاحال 20,000 افراد ہلاک اور 26 لاکھ افراد بے گھر ہوچکے ہیں۔ اڈاماوا ریاستی ایمرجنسی مینجمنٹ ایجنسی کیک سربراہ ہارونا فورو اور موبی شمالی مقامی حکومت کے چیرمین موسی بیلو نے اس حملے کی توثیق کی ہے۔ ہنگامی خدمات کے ایک اور عہدیدار نے دھماکہ کو تباہ کن قرار دیا۔ اس مسجد کے قریب رہنے والے ایک شخص ابوبکر سولے نے کہا کہ وہ گھر پہونچے ہی تھے کہ دھماکہ کی آواز سنائی دی گئی۔ ابوبکر نے کہا کہ بعدازاں وہ وہاں پہونچے اور دیکھا کہ 40 مصلیاں دھماکہ کے مقام پر ہی جاں بحق ہوچکے ہیں۔ کئی زخمیوں کی حالت انتہائی تشویشناک تھی۔ مسجد کا چھت اُڑ گیا۔ پہلی رکعت کے بعد خودکش بمبار نے دھماکہ کردیا جو صف میں مصلیاں کے درمیان کھڑا تھا۔ یہ بوکوحرام کا کام ہوسکتا ہے‘‘۔ بوکوحرام نے شمال مشرقی نائجیریا میں ’’سخت گیر اسلامی خلافت‘‘ قائم کرنے کی کوشش کے طور پر 2014ء میں موبی پر قبضہ کرلیا اور اس ٹاؤن کا نام عربی زبان میں ’’مدینۃ الاسلام‘‘ (اسلام کا شہر) رکھا گیا تھا، لیکن مقامی افراد نے فوج اور شہری ملیشیاء کے تعاون سے ان جہادیوں کو بے دخل کردیا تھا جس کے بعد سے یہاں امن برقرار تھا۔
سعید کی رہائی پر بین الاقوامی
تحدیدات کا پاکستان کوخوف
لاہور ۔ 21 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) پاکستان کو خوف ہیکہ اگر وہ جماعت الدعوہ کے سربراہ حافظ سعید کو گھر پر نظربندی سے آزاد کردے تو اسے بین الاقوامی برادری کی تحدیدات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ پاکستانی پنجاب کی حکومت نے آج حافظ سعید کو عدالتی نظرثانی بورڈ کے اجلاس پر پیش کیا تھا اور ان کی گھر پر نظربندی میں تین ماہ کی توسیع کی خواہش کی تھی۔ پاکستانی پنجاب کے محکمہ داخلہ نے عدالتی نظرثانی بورڈ کے اجلاس پر ایک پیش کردہ درخواست میں کہا کہ حافظ سعید کی رہائی کے نتیجہ میں پاکستان کوبین الاقوامی تحدیدات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اس لئے ان کی رہائی کا حکم نہ دیا جائے۔

TOPPOPULARRECENT