Thursday , December 14 2017
Home / Top Stories / نابالغ بیوی (15 تا 18 سال) کیساتھ مباشرت جرم : سپریم کورٹ

نابالغ بیوی (15 تا 18 سال) کیساتھ مباشرت جرم : سپریم کورٹ

نئی دہلی۔11 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) سپریم کورٹ نے آج ایک نمایاں فیصلے میں 15 تا 18 سال عمر والی نابالغ بیوی کے ساتھ ہم بستری کو مجرمانہ فعل قرار دیتے ہوئے کہا کہ ریپ سے متعلق قانون میں استثنا من مانی اور دستور کے منافی ہے۔ تعزیرات ہند (آئی پی سی) کا سیکشن 375 جو عصمت ریزی کے جرم کی صراحت کرتا ہے، اس میں ایک استثنائی فقرہ ہے کہ کسی شخص کا اپنی بیوی کے ساتھ جس کی عمر 15 سال سے کم نہیں، مباشرت یا جنسی فعل ریپ کی تعریف میں نہیں آتا۔ تاہم، ایجاب کی عمر 18 سال ہے۔ فاضل عدالت نے کہا کہ قانون بہ متعلق عصمت ریزی میں دیا گیا استثنا دیگر قوانین کے فلسفے کے مغائر اور کسی بھی لڑکی کی بدنی عفت پر ضرب لگاتا ہے۔ جسٹس مدن بی لوکور اور جسٹس دیپک گپتا پر مشتمل بنچ نے ملک میں بچوں کی شادی کے رواج پر بھی تشویش ظاہر کی اور کہا کہ سماجی انصاف کے قوانین پر اسی جذبے کے ساتھ عمل آوری نہیں ہورہی ہے جس جذبے کے ساتھ پارلیمنٹ نے ان کو نافذ العمل لایا ہے۔ بنچ نے وضاحت کی کہ اس نے شادی شدہ زندگی میں زنابالجبر کے مسئلہ کا جائزہ نہیں لیا اور یہ مسئلہ اس کے روبرو متعلقہ فریقوں نے اٹھایا بھی نہیں۔ جسٹس گپتا جنہوں نے علیحدہ لیکن یکساں نوعیت کا فیصلہ تحریر کیا، انہوں نے کہا کہ شادی کی عمر تمام قوانین میں 18 سال ہے اور آئی پی سی کے تحت ریپ لا میں دیا گیا استثنا من مانی ہے اور کسی بھی لڑکی کے حقوق کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ عدالت نے عظمی نے کہا کہ یہ استثنا دستور کے آرٹیکل 14 ، 15 اور 21 کے منافی ہے۔

عدالت نے مرکز اور ریاستوں سے ملک بھر میں بچوں کی شادیوں کو ممنوع قرار دینے کے لیے سرگرمی سے اقدامات کرنے کے لیے کہا۔ عدالت نے تشویش ظاہر کی کہ اکشیاترتیا کے موقع پر اجتماعی شادی تقاریب میں ہزارہا نابالغ لڑکیوں کی شادیاں کی جارہی ہیں۔ عدالت نے قبل ازیں یہ فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے مرکز سے استفسار کیا تھا کہ کس طرح پارلیمنٹ قانون میں استثنا کی گنجائش فراہم کرتے ہوئے یہ اعلان کرسکتی ہے کہ کسی شخص کا 15 اور 18 سال کی درمیانی عمر والی اپنی بیوی کے ساتھ مباشرت یا جنسی فعل ریپ نہیں ہے جبکہ ایجاب کی عمر 18 سال ہے۔ عدالت نے یہ بھی کہا تھا کہ بچوں کی شادیاں اسی طرح جاری نہیں رہ سکتی کیوں کہ اس غیر قانونی رواج کو قانونی باور کرلیا گیا اور صدیوں سے اس پر عمل چلا آرہا ہے۔ درخواست گزاروں نے عدالت سے ایسی ہدایت جاری کرنے کی استدعا کی ہے کہ آئی پی سی کے سیکشن 375 میں استثنا دستور کے مختلف آرٹیکلس کے منافی ہے اور اس حد تک خلاف ورزی ہوجاتی ہے کہ 15 اور 18 سال کے درمیانی عمر والی لڑکی کے ساتھ بالجبر جنسی فعل کی اجازت مل جاتی ہے، جو محض اس بنیاد پر ہے کہ وہ شادی شدہ ہے۔

TOPPOPULARRECENT