Friday , November 24 2017
Home / مضامین / نابینا بچوں کی ذہانت کا مقابلہ عام بچے نہیں کرسکتے

نابینا بچوں کی ذہانت کا مقابلہ عام بچے نہیں کرسکتے

ہندی بریل میں قرآن مجید لکھنے والی نابینا لڑکی نفیس ترین کا انٹرویو

محمد ریاض احمد
ہمارے معاشرہ میں معذورین پر بہت ترس کھایا جاتا ہے ۔ لوگوں کے دلوں میں ان کیلئے ہمدردی کا جذبہ پایا جاتا ہے ۔ وہ ان معذورین کی مدد کیلئے دوڑ پڑتے ہیں ۔ عام لوگوں کے ذہنوں میں یہی ہوتا ہے کہ بیچارہ یا بیچاری معذور ہے ۔ بے بس و لاچار ہے ۔ دوسرے لوگوں کی طرح وہ کچھ کام نہیں کرسکتے ۔ ایسے میں ان کی زیادہ سے زیادہ مدد کی جائے ۔ جہاں تک معذورین کا سوال ہے ان میں سے کوئی جسمانی تو کوئی ذہنی طور پر معذور ہوتا ہے ۔ بعض تو پیدائشی طور پر قوت سماعت ، قوت بصارت اور قوت گویائی سے محروم رہتے ہیں۔ معذورین کے بارے میں لوگوں کی سوچ غلط ہوتی ہے وہ یہی سوچتے ہیں کہ انھیں ہماری مدد کی ضرورت ہوتی ہے لیکن ایسا نہیں ہے۔

ہاں ذہنی معذورین کی ہر طرح سے مدد کی جانی چاہئے ۔ وہ سارے معاشرہ کی مدد کے مستحق بھی ہیں۔ اب رہا سوال جسمانی معذورین کا تو ان میں کئی ایسے خوددار ہیں کہ وہ کسی کی مدد قبول نہیں کرتے بلکہ اللہ عز وجل نے انھیں جو ذہانت عطا کی ہے جن صلاحیتوں و خوبیوں سے نوازا ہے اور ان میں جو عزت نفس کا جذبہ پیدا کیا ہے اس کا بھرپور استعمال کرتے ہوئے دنیا والوں پر بوجھ بننے کی بجائے ان کیلئے کئی شعبوں میں راحت و آسانیاں پیدا کرنے کا باعث بنتے ہیں  ایسے ہی لوگوں میں جھارکھنڈ کے ضلع بوکارو کی رہنے والی 27 سالہ نابینا ٹیچر نفیس ترین بھی شامل ہیں ۔ بوکارو ساری دنیا میں اسٹیل سٹی کے نام سے شہرت رکھتا ہے اور ایک صنعتی شہر ہے جہاں ہندوستان کا سب سے بڑا اسٹیل پلانٹ ہے ۔ اس ضلع میں بڑے متوسط اور چھوٹے پیمانے کی بے شمار صنعتیں کام کرتی ہیں ۔ آج کل نفیس ترین کے باعث اس شہر کے قومی و عالمی میڈیا میں کافی چرچے ہیں ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ نفیس ترین نے ہندوستان میں قوت بصارت سے محروم افراد کیلئے ہندی بریل میں قرآن مجید لکھنے کا غیر معمولی کارنامہ انجام دیا ہے ۔بوکارو کے غوث نگر کی ساکن نفیس ترین نے قرآن مجید کو ہندی بریل میں لکھ کر نابیناؤں کی زندگیوں میں جذبہ ایمان کی روشنی بکھیرنے کا کام کیا ہے ۔ اب ہندی جاننے والے نابینا افراد بآسانی قرآن مجید کی تلاوت کرسکتے ہیں ۔ راقم الحروف نے سیاست کیلئے نفیس ترین سے ایک خصوصی انٹرویو لیا ہے جس میں انھوں نے بتایا کہ تقریباً 3 تا 4 سال کے دوران انھیں قرآن مجید کو ہندی بریل میں لکھنے کیلئے کئی دشواریوں سے گذرنا پڑا ۔ پہلے تو انھوں نے خود قرآن شریف پڑھا اور پھر اپنے اس پراجکٹ پر کام کیا ۔ اس کام میں انھیں اپنے والد محمد مختار اسلم ، والدہ حسن آرا بیگم اور بھائیوں کے علاوہ حافظ محمد تسلیم کی مدد و رہنمائی حاصل رہی ۔ ایک سوال کے جواب میں نفیس ترین نے بتایا کہ ان کے تین بھائی ہیں اور تمام کے تمام تعلیمیافتہ ہیں ۔ ایک بھائی فیض اکرم بی ایچ ایم ایس ڈاکٹر ہیں ۔ دوسرے بھائی محمد فیصل پونہ میں انجینئر ہیں جبکہ چھوٹے بھائی غوث الاعظم ایم بی اے کررہے ہیں ۔ اس طرح وہ تین بھائیوں کی ایک بہن ہیں ۔ نفیس ترین نے مزید بتایا کہ وہ پیدائشی طور پر نابینا ہیں لیکن کبھی بھی انھیں نابینا ہونے کا افسوس نہیں ہوا۔ وہ یہ سوچ کر ہمیشہ بارگاہ رب العزت میں شکر بجالاتی ہیں کہ اللہ تعالی نے انھیں علم کی دولت سے مالا مال کیا ہے ، چاہنے والے والدین اور ان کا ہر طرح سے خیال رکھنے والے بھائی عطا کئے ہیں ۔ یہ اللہ تعالی کا فضل ہے کہ اس نے انھیں (نفیس ترین) کو ٹیچر جیسے ایک مقدس عہدہ پر فائز کیا ہے ۔ جس کے ذریعہ و بلا لحاظ مذہب و ملت نئی نسل کو زیور تعلیم سے آراستہ کررہی ہیں ۔ نفیس ترین کے مطابق وہ بوکارو کے رانی پکھر ہائی اسکول میں ہندی پڑھاتی ہیں ۔

مسٹر بھوشن اس اسکول کے ہیڈ ماسٹر ہیں ۔ اسکول میں 700 طلبا و طالبات تعلیم حاصل کررہے ہیں ۔ نفیس ترین کے بشمول 7 ٹیچرس ہیں ۔ نفیس نے یہ بھی بتایا کہ اسکول ہیڈ ماسٹر سے لیکر ساتھی اساتذہ ان کی بہت حوصلہ افزائی کرتے ہیں جبکہ طلبہ کی وہ پسندیدہ ٹیچر ہیں ۔ قرآن مجید کو ہندی بریل میں لکھنے پر ان کے ساتھی اساتذہ کافی خوش ہیں ۔ ایک استفسار پر نفیس نے بتایا کہ بچپن سے ہی انھیں حصول علم کا بہت شوق تھا ۔ لیکن جمشید پور میں قوت بصارت سے محروم بچوں کیلئے کولئی اسکول نہیں تھا ایسے میں ان کے والد مختار اسلم نے جو بوکارو اسٹیل پلانٹ کے سابق ملازم ہیں اپنی بیٹی کو بنارس کے جیون جیوتی اسکول میں داخلہ دلایا وہاں نفیس ترین نے 12 سال ہاسٹل میں رہ کر تعلیم حاصل کی اور انٹرمیڈیٹ کی تکمیل کی ۔ سال 2008 میں مہیلا کالج بوکارو سے بی اے کیا اور پھر بی ایڈ کرکے سرکاری ملازمت کی تلاش شروع کردی ۔ چنانچہ نفیس ترین کی قابلیت کو دیکھتے ہوئے ان کا سرکاری اسکول میں ہندی ٹیچر کی حیثیت سے تقرر عمل میں آیا ۔ یہ پوچھے جانے پر کہ آپ کو ہندی بریل میں قرآن مجید لکھنے کا خیال کیسے آیا ؟ نفیس ترین نے بتایا کہ بی اے کرنے کے دوران ان میں تلاوت قرآن مجید کی تڑپ پیدا ہوئی وہ چاہتی تھیں کہ کوئی حافظ صاحب یا مولوی صاحب انھیں قرآن پڑھائیں  لیکن افسوس کہ ایک نابینا لڑکی کو قرآن پڑھانے کیلئے کوئی راضی نہیں ہوا لیکن اللہ تعالی نے نفیس ترین کی مدد کی اور پھر ایک مقامی حافظ صاحب حافظ محمد تسلیم نے اس لڑکی کو قرآن مجید پڑھانے پر رضامندی ظاہر کی ۔ اس طرح وہ ہر روز نفیس ترین کو قرآن پڑھانے لگے چونکہ نفیس کافی ذہین ہے اس لئے انھوں نے بہت جلد قرآن ختم کرلیا ۔ قرآن پڑھنے میں انھیں  جو مشکلات پیش آئی تھیں اسے ذہن میں رکھتے ہوئے نفیس ترین نے ہندی بریل میں قرآن مجید لکھنے کا فیصلہ کرلیا ۔ دہلی کے ایک کمپیوٹر انسٹی ٹیوٹ سے کمپیوٹر سائنس میں ڈپلوما بھی کرچکی نفیس ترین نے اپنے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کیلئے حافظ محمد تسلیم کی مدد حاصل کی اور تقریباً 3 برسوں میں ہندی بریل میں قرآن مجید لکھنے کا کام مکمل کرلیا تاہم اس میں موجود غلطیوں کو دور کرنے میں مزید ایک سال گذر گیا اس طرح چار برسوں میں 965 صفحات پر مشتمل ہندی بریل قرآن مجید تیار ہوگئی ۔ راقم الحروف نے خود ٹیلیفون پر انٹرویو کے دوران نفیس ترین سے مختلف سورتوں کی سماعت کی ہے ۔ نفیس ترین کے مطابق وہ روزانہ قرآن مجید کے ایک تا چار صفحات ہندی بریل میں لکھا کرتی تھی اور حافظ محمد تسلیم ان کی رہنمائی میں کوئی کسر باقی نہیں رکھتے ۔ ہندی بریل میں قرآن مجید لکھنے کے بعد کئی حفاظ ، مفتی صاحبان وغیرہ نے بھی نفیس ترین سے قرآن سنا اور تصدیق کی ہے کہ نفیس ترین نے ہندی بریل میں جو قرآن مجید لکھا ہے

وہ  نابیناؤں کے لئے ایک نعمت ہے اس سے ہندی جاننے والے نابینا لڑکے لڑکیوں اور مرد و خواتین کو قرآن مجید کی تلاوت میں بہت مدد ملے گی ۔ نفیس ترین نے یہ بھی بتایا کہ جب کوئی قرآن مجید کی تلاوت کرتا تو ان کے دل میں بھی قرآن مجید پڑھنے کی خواہش ہوتی تھی ۔ اللہ کا شکر ہے کہ اس نے ان کی خواہش پوری کردی ہے ۔ ایک اور سوال پر نفیس ترین کا کہنا تھا کہ وہ ہندی بریل میں لکھی گئی قرآن مجید کی بڑے پیمانے پر اشاعت کی خواہاں ہے لیکن اس کیلئے وہ کاپی رائٹ اور پیٹنٹ کروانا چاہتی ہیں ۔ راقم الحروف کے اس سوال پر کہ آیا کوئی مسلم تنظیم ، جماعت یا فاؤنڈیشن آپ کی مدد کیلئے آگے نہیں بڑھا ، نفیس ترین نے بتایا کہ بہت سارے لوگ ان سے رجوع ہوئے ۔ ان کے کام کی تعریف و ستائش کی لیکن جب کاپی رائٹ اور پیٹنٹ کی بات آئی تو خاموشی اختیار کرلی ۔ وہ چاہتی ہیں کہ کوئی ادارہ ہندی بریل میں لکھی گئی اس قرآن مجید کی اشاعت میں ان کی مدد کرے کیونکہ اسے زیادہ سے زیادہ نابینا افراد تک پہنچایا جاسکے ۔ قوت بصارت سے محروم لڑکے لڑکیوں کے بارے میں نفیس ترین نے بتایا کہ جب کسی گھر میں نابینا بچے پیدا ہوتے ہیں تو ان سے صرف ہمدردی کی جاتی ہے ۔ ان کا مستقبل سنوارنے ، انھیں زیور علم سے آراستہ و پیراستہ کرنے کے بارے میں سوچا نہیں جاتا حالانکہ جو بچے قوت بصارت سے محروم رہتے ہیں اللہ تعالی انھیں غیر معمولی ذہانت سے نواز دیتا ہے ۔ وہ عام بچوں سے کہیں زیادہ ذہین اور فطین ہوتے ہیں۔ چیزوں ، الفاظ  ،آواز کی پہچان و شناخت میں ان کا مقابلہ عام بچے بھی نہیں کرسکتے ، ایسے میں نابینا بچوں کی تعلیم پر توجہ دی جائے تو ممکن ہے کہ وہ نہ صرف اپنے خاندان کیلئے بلکہ ساری انسانیت کیلئے ایسے کارہائے نمایاں انجام دیں جن سے لوگ مدتوں استفادہ کرتے رہیں ۔

وہ مزید کہتی ہیں کہ آج کل ہر شہر میں قوت سماعت و بصارت اور گویائی سے محروم بچوں کیلئے خصوصی اسکولس کام کررہے ہیں ۔ ایسے میں نابینا بچوں کی تعلیم میں کسی قسم کی کوتاہی نہیں برتی جانی چاہئے ، اگر ان بچوں کی صحیح رہنمائی کی جائے تو وہ قوم و ملت کا اثاثہ ثابت ہوں گے ۔ قارئین سیاست کے نام پیام میں نفیس ترین نے کہا کہ معذورین کی مدد کا جذبہ بہت اچھا ہے لیکن ان کی مدد ایسی کی جائے کہ وہ کاہلی کے بجائے چستی و پھرتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے بل بوتے پر محنت کریں اور کچھ کمائیں کیونکہ اکثر یہی دیکھا گیا کہ لوگ معذورین کی مدد کرتے ہوئے انھیں ایک طرح سے ناکارہ بنادیتے ہیں ۔ جس کی وجہ سے وہ کچھ کرنے کی بجائے دوسروں کی مدد پر تکیہ کرنے لگتے ہیں ۔ نفیس ترین کے خیال میں قوت بصارت سے محروم افراد کو کسی کی ہمدردی کی نہیں بلکہ صحیح رہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے ۔ اگر ان کی صحیح سمت میں رہنمائی کی جاتی ہے تو وہ اپنی منزل کی راہ خود ہی تلاش کرلیتے ہیں۔ نفیس ترین کے مطابق تعلیم تاریکیوں میں روشنی بکھیردیتی ہے ۔ نابیناؤں کو بینائی ، کمزوروں کو طاقت ، بے زبانوں کو زبان ، بے آوازوں کو آواز عطا کرتی ہے ۔ ایسے میں نہ صرف نابیناؤں کو بلکہ بینائی رکھنے والوں کو بھی علم حاصل کرنا ہوگا ورنہ علم کے بنا زندگی گذارنا ایسے ہی ہے جیسے کوئی تاریکی میں منزل کی تلاش کرے ۔ بہرحال نفیس ترین کے دانشورانہ خیالات سن کر ہم بھی سوچنے لگے کہ حقیقت میں قوت بصارت سے محروم وہ لوگ ہیں جو جہالت کی تاریکیوں میں بھٹک رہے ہیں اور بصیرت سے محروم ہیں ۔
[email protected]

TOPPOPULARRECENT