Monday , September 24 2018
Home / ہندوستان / ناجائز اولاد کی پرورش سے کوئی شخص راہ فرار اختیار نہیں کرسکتا

ناجائز اولاد کی پرورش سے کوئی شخص راہ فرار اختیار نہیں کرسکتا

نئی دہلی ۔ 19 ۔ مارچ (سیاست ڈاٹ کام) دہلی کی عدالت نے کہا ہے کہ کوئی شخص اپنی ناجائز اولاد کے گزارے کے لئے رقم ادا کرنے کی ذمہ داری سے راہ افرار نہیں ہوسکتا۔ بچہ کی والدہ کے ساتھ کسی قسم کے تصفیہ کے باوجود اسے گزارے کی رقم ادا کرنی ہوگی۔ عدالت نے ایک شخص کے ادعاء کو مسترد کردیا کہ بچہ کی ماں اور اس کے درمیان سمجھوتہ ہوا ہے کہ 50,000 وصول کرن

نئی دہلی ۔ 19 ۔ مارچ (سیاست ڈاٹ کام) دہلی کی عدالت نے کہا ہے کہ کوئی شخص اپنی ناجائز اولاد کے گزارے کے لئے رقم ادا کرنے کی ذمہ داری سے راہ افرار نہیں ہوسکتا۔ بچہ کی والدہ کے ساتھ کسی قسم کے تصفیہ کے باوجود اسے گزارے کی رقم ادا کرنی ہوگی۔ عدالت نے ایک شخص کے ادعاء کو مسترد کردیا کہ بچہ کی ماں اور اس کے درمیان سمجھوتہ ہوا ہے کہ 50,000 وصول کرنے کے بعد وہ اپنے رشتے کے تعلق سے دوبارہ کوئی مسئلہ کھڑا نہیں کریں گی۔ ایڈیشنل سیشن جج انورادھا شکلا بھردواج نے مجسٹریل کورٹ کی رولنگ میں کوئی غلطی نہیں پائی۔ ایڈیشنل سیشن جج نے اس شخص کو بچہ کی پرورش کیلئے ماہانہ 2000 روپئے دینے کا حکم دیا تھا۔ عدالت نے تعزیرات ہند کی دفعہ 125 کے تحت جائز اولاد کی پرورش کے ساتھ ساتھ ناجائز اولاد کیلئے بھی گزارے کی رقم دینا باپ کی ذمہ داری ہے ۔ سیشن جج نے یہ بھی نشاندہی کی کہ خاتون کی جانب سے اس تنازعہ کو حل کرنے کئے گئے سمجھوتے سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ کمسن لڑکا اس مرحلہ پر اپنے حقوق سے محروم نہیں ہوسکتا۔ عدالت نے پورے معاملہ کا جائزہ لینے کے بعد حکم جاری کیا کہ بچے کے پیدائشی سرٹیفکٹ میں جس شخص کا نام تحریر ہے اسے گزارے کی رقم دینا ضروری ہے ۔ اس کیس پر بحث کے دوران شخص نے بچہ کا ڈی این اے ٹسٹ کرانے پر بھی زور دیا۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT