Tuesday , November 21 2017
Home / شہر کی خبریں / نارائن کھیڑ ، ورنگل ضمنی انتخابات ، کے سی آر کے لیے امتحان

نارائن کھیڑ ، ورنگل ضمنی انتخابات ، کے سی آر کے لیے امتحان

چیف منسٹر کو ثابت کرنا ہوگا کہ وہ اب بھی تلنگانہ میں مقبول قائد ہیں
حیدرآباد ۔ 12 ۔ اکٹوبر : ( ایجنسیز ) : ریاست تلنگانہ میں کسانوں کے خود کشی واقعات پر حکومت پر شکنجہ کسنے کے لیے اپوزیشن جماعتوں کے شاذ و نادر اتحاد کے مظاہرہ کے ساتھ حلقہ لوک سبھا ورنگل اور حلقہ اسمبلی نارائن کھیڑ کے لیے ضمنی انتخابات حکمران تلنگانہ راشٹرا سمیتی کے لیے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ایک کٹھن امتحان ہوں گے ۔ حلقہ لوک سبھا ورنگل کے لیے ضمنی چناؤ اس کے ایم پی کڈیم سری ہری کے استعفیٰ دینے کے باعث ضروری ہوگیا ہے جنہیں ریاستی کابینہ میں شامل کیا گیا ہے جب کہ حلقہ اسمبلی نارائن کھیڑ کی نشست کانگریس ایم ایل اے ، پی کشٹا ریڈی کے اچانک انتقال کے بعد خالی ہوئی ہے ۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کے لیے نارائن کھیڑ اور ورنگل کے ضمنی انتخابات بہت نازک مرحلہ ہے کیوں کہ انہیں یہ ثابت کرنا ہے کہ ان کا کرشمہ غائب نہیں ہوا ہے ۔ کسانوں کے خود کشی واقعات کے لیے ریاستی حکومت کو مورد الزام ٹھہراتے ہوئے اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے رعیتو یاترائیں نکالنے کے ساتھ کے سی آر کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ اب بھی تلنگانہ میں مقبول قائد ہیں اور ان کی مقبولیت میں کمی نہیں ہوئی ہے لیکن نارائن کھیڑ اور ورنگل میں ضمنی چناؤ کا سامنا آسان کام نہیں ہے ۔ ایک وقت میں کراپ لونس کی معافی کا مطالبہ کرتے ہوئے اپوزیشن جماعتوں نے ادعا کیا کہ چندر شیکھر راؤ کے لیے آگے کانٹوں کی ایک سیج بن رہی ہے ۔ اس دوران گلابی پارٹی کے قائدین نے دعویٰ کیا کہ وہ ضمنی انتخابات کے نتیجہ کے بارے میں پر اعتماد ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہم توقع کررہے ہیں کہ دوضمنی چناؤ اور مجالس مقامی کے تحت لیجسلیٹیو کونسل کے لیے انتخابات کے لیے اعلامیہ آئندہ چند دن میں جاری ہوگا ۔ ’’ آئندہ چند ماہ انتخابات کے مہینے ہونے جارہے ہیں ‘‘ ۔ ایک سینئیر قائد نے یہ بات کہی اور کہا کہ وہ اچھی طرح تیار ہیں جب کہ اپوزیشن پارٹیاں ایک ساتھ ہو کر ٹی آر ایس کے لیے مشکل حالات پیدا کرسکتی ہیں ۔ ایک قائد نے کہا کہ تلگو دیشم پارٹی کے 27 سرپنچس اور کانگریس کے سات سرپنچس ٹی آر ایس میں شمولیت اختیار کرچکے ہیں ۔ وزراء ٹی ہریش راؤ ، کے ٹی راما راؤ اور جی جگدیش ریڈی گذشتہ چند دن سے نارائن کھیڑ کا دورہ کررہے ہیں اور اسکیمس اور فنڈس کا اعلان کررہے ہیں ۔ تاہم اس سے حکمران جماعت کے لیے ان ضمنی انتخابات میں آسانی سے کامیابی حاصل کرنا آسان نہیں ہوگا کیوں کہ اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے امکان ہے کہ انتخابی مہم میں کسانوں کی خود کشی کو نمایاں کیا جائے گا ۔ پارٹی کے ایک قائد نے یہ بات کہی ۔۔

TOPPOPULARRECENT