نارائن کھیڑ نہایت پسماندہ علاقہ ، ذرائع آمدنی کے کوئی مواقع نہیں

نارائن کھیڑ ۔ 22 ۔ مئی ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) نارائن کھیڑ حلقہ اسمبلی جو کانگریس کا قلعہ متصور کیا جاتا ہے اس مرتبہ سال 2014 ء میں منعقدہ عام انتخابات میں بھی سارے تلنگانہ میں ٹی آر ایس کی لہر کے باوجود حلقہ اسمبلی نارائن کھیڑ کی نشست سے کانگریس امیدوار مسٹر پی کشٹا ریڈی نے بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کرتے ہوئے بحیثیت رکن اسمبلی نارائن

نارائن کھیڑ ۔ 22 ۔ مئی ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) نارائن کھیڑ حلقہ اسمبلی جو کانگریس کا قلعہ متصور کیا جاتا ہے اس مرتبہ سال 2014 ء میں منعقدہ عام انتخابات میں بھی سارے تلنگانہ میں ٹی آر ایس کی لہر کے باوجود حلقہ اسمبلی نارائن کھیڑ کی نشست سے کانگریس امیدوار مسٹر پی کشٹا ریڈی نے بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کرتے ہوئے بحیثیت رکن اسمبلی نارائن کھیڑ چوتھی مرتبہ منتخب ہو کر کانگریس کے قلعہ کی روایت کو برقرار رکھا ۔ واضح رہے کہ آزادی کے بعد سے 1952 ء تا 2014 ( 14 ) مرتبہ منعقدہ عام انتخابات میں (10) مرتبہ کانگریس ، (2) مرتبہ تلگودیشم اور (2) مرتبہ آزاد امیدواروں نے کامیابی حاصل کی ۔ اور تاریخ شاہد ہیکہ آزادی کے بعد سے حلقہ اسمبلی نارائن کھیڑ سے منتخب ہونے والے کسی بھی رکن اسمبلی کو ریاستی کابینہ میں شامل نہیں کیا گیا ۔ شائد اسی وجہ سے حلقہ اسمبلی نارائن کھیڑ کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے میں رکاوٹیں حائل ہوئی ہوں ، حالانکہ یہ حلقہ اسمبلی ہر اعتبار سے ضلع میدک ہی نہیں بلکہ سابق میں ریاست آندھراپردیش میں پسماندہ حلقہ رہے ۔ اس مرتبہ بھی حلقہ اسمبلی نارائن کھیڑ سے منتخب ہونے والے رکن اسمبلی بھی ریاستی کابینہ میں شامل ہونے سے محروم رہیں گے ۔ چونکہ مذکورہ حلقہ سے کانگریس کے رکن اسمبلی منتخب ہوئے ہیں جبکہ اس مرتبہ ریاست تلنگانہ میں مسٹر کے چندرا شیکھر راؤ کی زیرقیادت ٹی آر ایس کی حکومت برسراقتدار رہے گی ۔ حلقہ اسمبلی نارائن کھیڑ سے صرف 20 ، 20 کیلو میٹر پر ایک جانب ریاست مہاراشٹرا اور دوسری جانب ریاست کرناٹک کی سرحدیں ملتی ہیں ۔ حلقہ اسمبلی نارائن کھیڑ کی پسماندگی کی ایک اور اہم وجہ یہ ہیکہ یہاں پر نہ کوئی انڈسٹریز ہیں اور نہ ہی یہ حلقہ ریلوے لائین سے مربوط ہے اور نہ کوئی اہم قومی شاہراہ ہے اور نہ تو کوئی ذرائع آمدنی میسر ہیں بلکہ یہ حلقہ ایک خشک اور پسماندہ ہے جہاں کے عوام کی کثیر تعداد صرف اور صرف زراعت اور مزدور ی کر کے اپنی گذر بسر کرنے پر انحصار کرتے ہیں ۔ یہاں پر ذرائع آمدنی نہ ہونے کی وجہ سے مزدور ہمیشہ افراد کی کثیرتعداد یہاں سے نقل مقام کر کے دور دراز علاقوں جیسے پٹن چیرو ، حیدرآباد ، کرناٹک ، مہاراشٹرا جاکر شوگر فیکٹریوں اور دیگر مقامات پر محنت و مزدوری کر کے دو وقت کی روٹی حاصل کرنے پر مجبور ہیں ۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ حالیہ منعقدہ سالہ 2013-14 اسمبلی و پارلیمانی انتخابات کے موقع پر حلقہ پارلیمان ظہیرآباد کے ٹی آر ایس امیدوار مسٹر بی بی پاٹل نے حلقہ اسمبلی نارائن کھیڑ کے عوام سے انتخابی وعدوں کے دوران یہ تیقن دیا تھا کہ اگر انہیں بحیثیت رکن پارلیمان ظہیرآباد کیلئے منتخب کریں تو وہ حلقہ اسمبلی میں انڈسٹریز قائم کر کے روزگار کے ذرائع فراہم کئے جانے کے علاوہ اس حلقہ کی پسماندگی کے خاتمہ کیلئے اقدامات کریں گے ۔ اب جبکہ مسٹر بی بی پاٹل کو عوام نے بحیثیت رکن پارلیمان ظہیرآباد منتخب کردیاہے لہذا نو منتخبہ رکن پارلیمان مسٹر بی بی پاٹل اور ٹی آر ایس سربراہ مسٹر کے چندرا شیکھر پر بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس حلقہ کی ترقی اور پسماندگی کے خاتمہ کیلئے ضروری اقدامات کریں۔

TOPPOPULARRECENT