Friday , September 21 2018
Home / شہر کی خبریں / نارائن گوڑہ وقف اراضی پر شاندار یونانی دواخانہ کی تعمیر ضروری

نارائن گوڑہ وقف اراضی پر شاندار یونانی دواخانہ کی تعمیر ضروری

حکومت کی جانب سے یونانی طریقہ علاج کو فروغ دینے کا دعویٰ حقائق سے بعید
حیدرآباد۔20 مارچ(سیاست نیوز) حکومت تلنگانہ کی جانب سے یونانی طریقے علاج کو فروغ دینے کے بلند بانگ دعوے تو کئے جارہے ہیںمگر حقائق اس کے برخلاف ہیں۔ سابق میںقدیم تاریخی شفاء خانہ چارمینار کی زبوں حالی پر مشتمل کئی رپورٹس سامنے آنے کے بعد بھی یونانی طریقے علاج کے تئیں حکومت بالخصوص محکمہ آیوش کے ذمہ داران کے رویہ میںکسی طرح کی تبدیلی نہیں آئی ہے۔محکمہ آیوش کی جانب سے منظم طریقے پریونانی طریقے علاج کو تباہی کے دہانے پر پہنچانے کی سازشیں کی جارہی ہیں۔ ادوایات کی کمی‘ ادوایات کی تیاری کے لئے درکار سہولتوں کی فراہمی‘ یونانی شفاء خانہ چارمینار میںڈاکٹرس اور طبی عملے کے تقرر سے لیکر قدیم شفاء خانہ چارمینار میںبنیادی سہولتوں کی فراہمی ایسے مسائل ہیں جس کا جنگی خطوط پر حل نہیںنکالاگیا تو اس بات میںکوئی دورائے نہیں ہے کہ آنے والے پانچ سے دس سالوں میںیونانی طریقے علاج تلنگانہ میں پوری طرح تباہ ہوجائے گا۔ نارائن گوڑہ کی گنجان آبادی کے درمیان میں واقعہ قیمتی وقف اراضی جس کا مقصد یونانی کو فروغ دینا کا استعمال ادوایات کے گودام کے طور پر کیاجارہا ہے۔ حالانکہ 2003میں چندرا بابو نائیڈو کی تلگودیشم حکومت میں اس اراضی کو بی سی کمیشن کے دفتر کے لئے مختص کردیا گیا تھا جس کے بعد مقامی لوگوں اور سماجی تنظیموں کے احتجاج اور اس وقت کی چندرا بابو نائیڈو حکومت کے خلاف عدالت سے رجوع ہونے کے بعد بی سی کمیشن کے دفتر کی تعمیر کے فیصلے سے حکومت کو دستبردار ہونا پڑا تھا۔ مگر فی الحال اس نارائن گوڑہ کی اس عالیشان تین منزلہ عمارت کو ٹی ایس اے سی ایس کے گودام میںتبدیل کردیاگیا ہے۔ حالانکہ اس عمارت میںایک شاندار سو بیڈ کایونانی دواخانہ قائم کیاجاسکتا ہے جہاں پر پارکنگ کی بہترین سہولت بھی اور اسپتال قائم کرنے کے بعد شفاء خانہ چارمینار کے تحت چلائے جانے والے نظامیہ طبی کالج کے سیٹوں میںاضافہ بھی ممکن ہے مگر محکمہ آیوش کے ڈائرکٹر نہیں چاہتے کہ تلنگانہ میں یونانی کو فروغ ملے۔ نارائن گوڑہ کی یونانی بلڈنگ کے تینوں منزلوں پر محکمہ تلنگانہ اسٹیٹ ایڈس کنٹرول سوسائٹی کی ادوایات‘ ڈرگس‘ کڈس‘ کے سی آر کڈس پر مشتمل لاکھوں کارٹن رکھے گئے ہیں۔ خفیہ ذرائع سے ملی جانکاری کے مطابق پچھلے دوسالوں سے میں مذکورہ عمارت میں رکھے سامان کا کرایہ بھی ادا کیاجارہا ہے مگر اس میں سے ایک روپیہ بھی یونانی کے فروغ کے لئے اب تک استعمال نہیںکیا گیا ۔ عمارت کے اندر (آئی وی) بوتل کوڑے کے ڈھیر کی طرح رکھے ہوئے نگرانی کے لئے ایک چوکیدار ہے مگر جس طرح یونانی کے فروغ کے لئے وقف کی گئی عمارت کا بیجا استعمال کیاجارہا ہے اس سے صاف ظاہر ہورہا ہے کہ حکومت اور محکمہ آیوش کے اعلی عہدیدار نہ صر ف یونانی کے تئیں سوتیلہ سلوک رواں رکھے ہوئے ہیںبلکہ وہ نہیںچاہتے کہ یونانی سے وابستہ کسی بھی چیز کا استعمال یونانی کے مفاد میں ہو۔ یونانی کیساتھ ہونے والی ناانصافیوں کے پیش نظر اطباء قدیم کے ایک وفد نے مدیر اعلی روزنامہ سیاست جناب زاہد علی خان سے ملاقات کی اور یونانی طریقے علاج سے جڑی تمام باتوں کا تفصیلی ذکر کیا اور قومی اور ریاستی سطح پر یونانی طریقے علاج کو بچانے کے لئے موثر نمائندگی کے لئے سرپرستی کی خواہش ظاہر کی جس پر جناب زاہد علی خان نے وفد کو ہرممکن تعاون کاتیقن بھی دیا ۔ جناب زاہد علی خان نے وفد کو ہدایت دی کہ وہ یونانی کو بچانے کے لئے منظم تحریک شروع کرنے کے لئے ایک جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی تشکیل عمل میں لائے اور مذکورہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی قدیم یونانی شفاء خانہ چارمینار‘ نظامیہ طبی کالج‘ اور نارائن گوڑہ یونانی بلڈنگ کا دورہ کرنے کے بعد وہاں کے حالات پر مشتمل ایک رپورٹ تیار کرے۔ ممکن ہے کہ ایک یا دو روز میں جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی تشکیل اور ناموں کا اعلان بھی کردیاجائے گا۔ وفد میں حکیم سید خواجہ عبدالوحید موظف ڈپٹی ڈائرکٹر سی آر ائی یو ایم حیدرآباد‘ حکیم سید غوث الدین سابق مشیر یونانی حکومت آندھرا پردیش‘ ڈاکٹر پی حسین احمد ممبر سی سی آئی ایم ( دہلی)‘ ڈاکٹر سیدزین العابدین خان‘ ڈاکٹر شیخ محمد علی الدین‘ ڈاکٹر ایم آر ایچ شکیب‘ ڈاکٹر رحمن خان اور جناب خالد محی الدین اسد شامل تھے۔

TOPPOPULARRECENT