Thursday , November 23 2017
Home / جرائم و حادثات / نارسنگی میں ایک خاندان کے 5 افراد کی نعشیں دستیاب

نارسنگی میں ایک خاندان کے 5 افراد کی نعشیں دستیاب

اجتماعی خودکشی یا قتل ،پولیس تحقیقات میں مصروف، قرض کا بوجھ انتہائی اقدام کا باعث؟
حیدرآباد /17 اکٹوبر ( سیاست نیوز ) شہر کے نواحی علاقہ میں ایک خاندان کی 5 نعشوں سے علاقہ میں خوف و سنسنی پھیل گئی ۔ تاہم اس واقعہ کو اجتماعی خودکشی تصور کیا جارہا ہے ۔ لیکن وجوہات اور حالات کو دیکھتے ہوئے پولیس نے قطعی طور پر اس کی توثیق نہیں کی اطلاع کے ساتھ ہی کمشنر پولیس سائبرآباد مسٹر سندیپ شنڈالیہ بھی جائے مقام پہونچ گئے ۔ بتایا جاتا ہے کہ نارسنگی پولیس حدود کے اندرا ریڈی نگر میں یہ نعشیں پولیس کو دستیاب ہوئیں جو اوٹر رنگ روڈ سے متصل سنسان اور جھاڑیوں والے علاقہ میں پائی گئیں۔ تین خواتین ایک کمسن لڑکا اور ایک شخص پایا گیا ۔ تین خواتین کی نعش جھاڑیوں میں تھیں جبکہ لڑکے اور شخص دونوں کی نعشیں کار کی اگلی نشست پر تھیں ۔ پولیس نارسنگی نے ابتدائی تحقیقات کے بعد بتایا کہ اس خاندان نے قرض اور آپسی تنازعات سے تنگ آکر انتہائی اقدام کیا ۔ بتایا جاتا ہے کہ 42 سالہ لکشمی ، 36 سالہ پربھاکر ریڈی 27 سالہ مادھوی 16 سالہ سندھوجا اور 3 سالہ ہرشیت ریڈی کی حیثیت سے پولیس ان کی نعشوں کی شناخت کرلی ہے اور پوسٹ مارٹم رپورٹ کے بعد خودکشی یا قتل کی توثیق کی جاسکتی ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ امین پور ضلع سنگاریڈی سے تعلق رکھنے والا یہ خاندان گذشتہ روز اپنے مکان سے نکلا تھا جو واپس نہیں آیا ۔ پولیس کمشنر نے موقع واردات پر جانچ کی اور بتایا ہے کہ گاڑی سے زہر کی بو کو پولیس نے محسوس کی جو کھیتوں میں کیڑے مارنے کیلئے استعمال کی جاتی ہے ۔ اس واقعہ کے خلاف رویندر ریڈی نے پولیس میں شکایت درج کروائی ہے ۔ چونکہ رویندر ریڈی اپنے افراد خاندان کے ہمراہ نہیں تھا ۔ مرنے والوں میں لکشمی رویندر ریڈی کی بیوی سندھیوجا اس کی بیٹی بتائی گئیں ہے ۔ جبکہ پربھاکر ریڈی سالی کا لڑکا اور مادھوی اور ہرشت ریڈی پربھاکر ریڈی کی بیوی اور لڑکا تھا ۔ شکایت گذار رویندر ریڈی شیر مارکٹ کا کاروبار کرتا ہے اور یہ لوگ ایک ساتھ امین پور میں رہتے تھے اور انہیں قرض بھی بہت زیادہ ہوگیاتھا ۔ اس تعلق سے افراد خاندان میں گذشتہ روز بحث و تکرار بھی ہوئی تھی تاہم ان وجوہات کو دیکھتے ہوئے پولیس فی الحال کچھ کہنے سے گریز کر رہی ہے اور ہر زاویہ سے اس کیس کی تحقیقات میں شدت پیدا کردی گئی ہے ۔ رویندر ریڈی کے بیان کے مطابق اور اپنے طور پر پولیس سیل فون کال ڈیٹا اور ان کی نقل و حرکت کا پتہ چلانے میں مصروف تحقیقات ہے ۔

TOPPOPULARRECENT