Tuesday , December 11 2018

ناقدین ’’سیاسی بزدل‘‘، مخالفین پرحسن روحانی کی تنقید

تقریر کا راست نشریہ ، سخت گیر پارلیمانی گروہ ایرانی صدر کی مذمت کا نشانہ

تقریر کا راست نشریہ ، سخت گیر پارلیمانی گروہ ایرانی صدر کی مذمت کا نشانہ
تہران۔11 اگست (سیاست ڈاٹ کام) صدر ایران حسن روحانی نے آج اپنے ناقدین پر وسیع البنیاد تنقید کی جو مغربی ممالک کے ساتھ اُن کے روابط اور نیوکلیئر معاہدہ کی کوشش پر ان پر ’’سیاسی بزدلی‘‘ اور ’’شرانگیزی‘‘ کا الزام عائد کرتے ہیں۔ اپنی تقریر میں جسے راست نشر کیا گیا، روحانی نے پارلیمنٹ کے سخت گیر گروہوں کی مذمت کی، جو مستقل طور پر ان کی مخالفت کررہے ہیں جبکہ ایک سال قبل انہوں نے حیران کن طور پر انتخابی کامیابی حاصل کرتے ہوئے صدر ایران کا عہدہ سنبھالا تھا۔ انہوں نے اپنے مخالفین سے کہا کہ ان میں سے چند نعرے بلند کرتے ہیں، لیکن درحقیقت وہ سیاسی بزدل ہیں، ہم جیسے ہی سودے بازی کرنے میں لڑکھڑانے لگتے ہیں، وہ جہنم میں چلے جاتے ہیں تاکہ خود کو گرم رکھ سکیں۔ روحانی اعتدال پسند رہنما ہیں، اور اب تک جن کی میعادِ صدارت معاشی اور خارجی پالیسی سے زیادہ سماجی اصلاح پر مرکوز رہی ہے۔ ایران کو بیرون ملک تین جنونوں کا سامنا ہے۔ ’’ایرانوفوبیا، اسلاموفوبیا اور شیعہ فوبیا‘‘ لیکن داخلی طور پر ملک کو ’’انٹینٹی فوبیا‘‘ کا سامنا ہے۔ وہ لوگ جو باقی دنیا کے ساتھ غیرضروری طور پر جنگ میں ملوث ہونا چاہتے ہیں، واضح طور پر ایران کے طویل مدت سے تنازعہ کے شکار نیوکلیئر پروگرام کے بارے میں نامناسب تبصرہ کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انٹینٹی فوبیا ایک غلطی ہے۔ ان کی تقریر کی سماعت کرنے والوں میں ایران کے بیرون ملک سفیر شامل تھے جو فی الحال تہران آئے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم پوری دنیا کے ساتھ قریبی تعلقات رکھنا چاہتے ہیں لیکن اپنے حقوق کا اور ہمارے قومی مفادات کا تحفظ بھی کریں گے۔ روحانی نے اپنے دورِ صدارت میں مغربی ممالک کے ساتھ نیوکلیئر مذاکرات کا احیاء کیا ہے جو ان کے پیشرو محمود احمدی نژاد کے دور میں ٹوٹ چکے تھے۔ دونوں فریقین نے ہنوز کوئی کارنامہ انجام نہیں دیا ہے۔ ایک عبوری سودا ماہِ جنوری میں کیا گیا تھا، لیکن اسے 20 جولائی کی قطعی آخری مہلت تک قطعی معاہدہ میں تبدیل نہیں کیا گیا۔ برطانیہ، چین، فرانس، روس، امریکہ اور جرمنی کے ساتھ بات چیت کی مدت میں 24 نومبر تک توسیع کی گئی ہے۔

TOPPOPULARRECENT